منی بجٹ: اس کی آئینی حیثیت کیا ہے؟

منی بجٹ: اس کی آئینی حیثیت کیا ہے؟

  

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی کے پلیٹ فارم پر منی بجٹ نہ لانے کی یقین دہانی کے باوجود عالمی مالیاتی فنڈ کی شرط کے مطابق سالانہ بجٹ کی پہلی سہ ماہی میں وصولیوں کی کمی کو دور کرنے کے لئے40ارب روپے کے نئے ٹیکس لگا کر گھریلو استعمال اور خوراک کی اشیاء مزید مہنگی کر دی ہیں اس سے براہ راست پاکستان کے سارے عوام متاثر ہوئے ہیں، اسحاق ڈار نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کو یہ ٹیکس نافذ کرنے کے لئے سیڑھی بنایا، وزیر خزانہ کے مطابق39.8ارب روپے کی کمی کو پورا کرنے کے لئے 61اشیاء پر5سے10فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی گئی، 289ء اشیاء پر ڈیوٹی میں پانچ فیصد اضافہ کر دیا گیا،اور ایک فیصد اضافی کسٹم ڈیوٹی عائد کی گئی۔ انہوں نے ان تمام اشیاء کو سامان تعیش قرار دیا ، جس میں دودھ، مشروبات اور الیکٹرک کے ایسے آلات شامل ہیں جو گھریلو استعمال کے ہیں، اور شہری بچیوں کو جہیز کے لئے بھی دیتے ہیں۔وزیر خزانہ نے اس منی بجٹ کا جو جواز پیش کیا اس کے مطابق تو جس سہ ماہی میں وصولیوں کا ہدف پورا نہیں ہو گا، اس کے لئے پھر سے منی بجٹ لایا جائے گا، اس منی بجٹ کے حوالے سے ایک اہم سوال یہ ضرور پیدا ہوتا ہے کہ اس کی آئینی اور قانونی حیثیت کیا ہے؟ یہ ٹیکس ہیں جن کو فنانس بل کے ذریعے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور کرانا ضروری ہے،جبکہ یہ فیصلہ اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا ہے۔ محترم اسحاق ڈار اس سے پہلے بھی بجٹ میں ٹیکس لگا چکے ہیں اور پھر انہوں نے پٹرولیم مصنوعات کے کھاتے میں عوام کو پہنچانے والا فائدہ حکومتی کھاتے میں ڈالا اس کا بھی کوئی جواز نہیں دیا۔افسوس اور دُکھ تو اس بات کا ہے کہ ایوان میں موجود حزب اختلاف اور مُلک کی سیاسی جماعتیں بھی اپنا عوامی کردار ادا نہیں کر رہیں جو ان کے لئے لازم ہے ابھی تک کسی جماعت یا رہنما کی طرف سے مذمتی بیان کے سوا کچھ نظر نہیںآیا، حالانکہ اس فیصلے کی آئینی اور قانونی حیثیت کی روشنی میں بات کی جانا چاہئے تھی۔اس فیصلے کو پارلیمنٹ منظور نہیں کرتی تو اس کی کیا حیثیت ہو گی؟ وزیراعظم محمد نواز شریف بار بار عوامی بہبود اور عوام کے مفاد کی بات کرتے ہیں تو ان کو اپنے وزیر خزانہ کی حکمت عملی پر بھی غور کرنا چاہئے، جن کے ایک ہی فیصلے سے ہزاروں اشیاء مہنگی ہو گئی ہیں اور ان میں معصوم بچوں کی خوراک بھی شامل ہے جو طبی حوالے سے ڈاکٹر تجویز کرتے ہیں، کیا وزیراعظم کے علم میں یہ سب ہے یا محترم اسحاق ڈار از خود یہ سب کئے جا رہے ہیں، کشکول توڑنے کے نام پر کشکول بھی بڑا کر دیا گیا اور عوام پر بھی بوجھ لادا گیا، کیا اس کے سیاسی اور عوامی ردعمل کا اندازہ کیا گیا ہے۔ ان اشیاء(جن کو درآمدی کہا گیا) کی قیمتوں میں اضافہ تمام مقامی اشیاء پر اثر انداز ہو گا۔

ماحولیاتی آلودگی پر عالمی کانفرنس!

فرانس کے دارالحکومت، خوشبوؤں کے شہر میں پوری دُنیا سے ایک سو پینتالیس سربراہان مملکت و حکومت سمیت وفود جمع ہوئے ، جو اپنے اس سیارے جسے زمین کہتے ہیں کو بچانے کے لئے فکر مند ہیں ، جو آلودہ ماحول اور گیسوں کی وجہ سے موسمی تغیرات کی زد میں ہے۔ فرانس نے اس شہر میں سب کو خوش آمد کہا، جس میں تھوڑا ہی عرصہ قبل داعش کی طرف سے حملہ ہوا اور ہنگامی حالات نافذ کرنا پڑے تھے اس کے باوجود فرانس نے اس کانفرنس کا التوا مناسب نہ جانا اور ٹھوس حفاظتی انتظامات کر کے اتنے حضرات کو بُلا لیا، اس میں امریکی صدر اوباما نے اپنے مُلک کی طرف سے یقین دہانی کرائی تو دوسری طرف ہمارے مُلک کے وزیراعظم محمد نواز شریف نے بھی اپنی طرف سے مکمل تعاون کا اعلان کیا۔اتنا بڑا اجتماع محض ایک مسئلہ پر کیا گیا جو حقیقی معنوں میں بہت سے مسائل کی بنیاد ہے کہ ماحولیاتی آلودگی کے باعث جو موسمی تغیرات ہوئے ان میں طوفانوں کی آمد، گلیشیروں کا پگھلنا، امراض اور گرمی کی شدت میں اضافہ بھی شامل ہے۔ یہ کانفرنس اس سلسلے میں مالیاتی فنڈز بھی قائم کرے گی اور اس میں آلودگی سے بچاؤ اور اسے ختم کرنے کے لئے فیصلے بھی ہوں گے، اب ذرا غور کیا جائے تو حال ہی میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس ہوا ہے۔ کیا یہ زیادہ بہتر اور موثر نہیں تھا، کہ جنرل اسمبلی کے ایجنڈے میں اس مسئلے کو شامل کر کے اس کے لئے دن مقرر کئے جاتے کہ جو فیصلے ہوتے ان پر عمل درآمد کی نگرانی اقوام متحدہ کرتی، جس کا ایک شعبہ ماحولیات کے حوالے سے بھی ہے۔

بہرحال اس کانفرنس کا انعقاد بھی اچھا اقدام ہے کہ اوزون کی تہہ میں اضافے سے گرمی بڑھی، موسمیاتی سائنس دانوں اور گرین ہاؤس والوں کا انتباہ ہے کہ اگر درست اقدام نہ کئے گئے تو درجہ حرارت میں مزید اضافہ گلیشیر پگھلنے کا ذریعے بنے گا اس سے مزید طوفان آئیں گے اور کئی مُلک بھی سمندر برد ہو سکتے ہیں۔ موسمی تغیر و تبدل کو ایٹم سے زیادہ بڑا خطرہ قرار دیا جا رہا ہے، اسی لئے اس کانفرنس سے توقعات بھی بڑھ گئی ہیں، کانفرنس کے افتتاحی اجلاس کے موقع پر پیرس سمیت پورے مغرب میں سول سوسائٹی نے اس سیارے (زمین) کو بچانے کے لئے مظاہرے کئے اور مطالبہ کیا کہ اسے بچایا جائے۔کانفرنس جو فیصلہ کرے گی وہ اپنی جگہ، یہ اصول پہلے سے طے شدہ ہیں کہ کارخانوں سے غلیظ دھوئیں، فضلے کے اخراج اور کوڑا وغیرہ جلانے کو روکا جائے گا، جبکہ ہر وہ عمل جو آلودگی پیدا کرے اسے ختم کرنا ہو گا، پاکستان سمیت پوری دُنیا میں ماحولیات کے محکمے ہیں۔ اگر یہی اپنے فرائض پوری دیانت داری سے ادا کریں تو یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ آلودگی کی شرح کم کی جائے،افسوس تو یہ ہے کہ خود ہمارے پاکستان میں کسی اصول پر عمل نہیں کیا جاتا اور ماحولیات کا محکمہ محض تنخواہیں لے رہا ہے، کوئی کارروائی نہیں کرتا، یہاں تو شہری اور پوش آبادیوں میں کوڑا جلایا جاتا ہے، نہ کوئی تحصیل ٹاؤن انتظامیہ اور نہ ہی کوئی محکمہ ماحولیات اس کو روک پاتا ہے۔۔۔کانفرنس کی کامیابی یہی ہو گی کہ فیصلوں پر تمام مُلک مکمل عمل درآمد کریں۔

مزید :

اداریہ -