لیبر پالیسی سے محنت کشوں کو صحت کی سہولیات ملیں گی،سلیم حسین

لیبر پالیسی سے محنت کشوں کو صحت کی سہولیات ملیں گی،سلیم حسین

  

لاہور(لیڈی رپورٹر)ہوم نیٹ پاکستان کے زیر اہتمام مقامی ہوٹل میں ورکرز کے پیشہ وارانہ تحفظ اور صحت کے مسائل اور قانون سازی کے حوالے سے لیبر ڈیپارٹمنٹ پنجاب اور GIZ کے تعاون سے ایک ورکشاپ کا انعقاد کیا گیاجسکا مقصد ورکرز خاص طور پر خواتین سے متعلق پیشہ وارانہ تحفظ اور صحت سے درپیش مسائل کو حل کرنے اور عملی لائحہ عمل بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ڈائریکٹر محکمہ لیبر پنجاب سلیم حسین کا کہنا تھا کہ اس سال عالمی یوم مزدور کے مو قع پر پنجا ب حکومت نے لیبر پالیسی کا اعلان کیا جسکا ایک اہم حصہ محفوظ پیشہ وارانہ اور صحت سے متعلقہ قانون سازی ہے ہم چاہتے ہیں کہ اس مسئلے کے حوالے سے متعلقہ اداروں کی استعداد کاری میں اضافہ کیا جائے

اور ہمیں ورکرز کے حقوق کی بحالی کے لیے تمام پبلک و پرائیویٹ اداروں کے ساتھ مل کر کاوشیں کرنی ہوں گی تاکہ موثر آگاہی و پیروکاری کے ذریعے اس مسلئے کا حل نکالا جا سکے۔سیمینار رابعہ رزاق،طاہر منظور،دانش بتول،نسیم الرحمن روبینہ کاچزسمیت دیگر لیبر ڈیپاٹمنٹ اور ورکرز کنفیڈریشن کے نمائندوں نے خطاب کیا، ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہوم نیٹ پاکستان ام لیلہ اظہر کا کہنا تھاپاکستان میں معیشت کے غیر منظم شعبے میں ورکرز کی ایک بڑی تعداد کام کر رہی ہے جو کل تعداد کا 72فیصد سے بھی زیادہ بنتا ہے۔ اس میں ایک بڑی تعداد ہوم بیسڈ ورکرز خواتین کی بھی ہے ۔ان خواتین کو کام کرنے کی جگہ پر بھی بہت سے مسائل درپیش ہیں جن میں جگہ کا مناسب و ہوا دار نہ ہونا، جوڑوں کا درد، سر درد، آنکھوں کا جلن و غیرہ شامل ہیں۔طاہر منظو ر کا کہنا تھا کہا لیبر ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے کام کرنے کی جگہ پر حادثات سے نمٹنے اور محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے ایک الگ ڈیپارٹمنٹ کا قیام عمل میں لایاگیا جسکا مقصد ورکرز اور مالکان کو آگاہی دینا ہے تاکہ کام کی جگہ پر ہونے والے حادثات سے بچا جا سکے۔ خواتین کا مطالبہ تھا کہ آئی ۔ ایل۔ او کے کنونشن C-183 & 187کو پاکستان میں فوری طور پر منظور کیا جائے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -