5دسمبر، معرکہ کا دن

5دسمبر، معرکہ کا دن

  

کراچی(نصیر احمد سلیمی) کراچی میں کھلی آزاد فضا ،ساری سیاسی جماعتوں کے لئے انتخابی مہم میں جلسہ جلوس اور ریلیاں نکالنا/ دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن سے ہی ممکن ہوا ہے۔پانچ دسمبر کو تیسرے مرحلے کے بلدیاتی انتخاب میں کراچی کے چھ اضلاع میں کس جماعت کو کتنی نشستیں حاصل ہوتی ہیں۔ اس کا فیصلہ ڈے آف پولنگ بیلٹ بکسوں سے برآمد ہونے والے ووٹوں کے بعد ہی ہو سکے گا۔ البتہ ایم کیو ایم بہت پُرامید ہے۔ کراچی میں جاری آپریشن نے ان کے ووٹ بینک کو کمزور کرنے کے بجائے مزید مستحکم کردیا ہے۔ ایم کیو ایم کا یہ اندازہ زمینی حقائق کے مطابق ہے یا نہیں؟ اس کو الگ رکھتے ہوئے یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ ایم کیو ایم یہ تاثر پیدا کرنے میں ضرور کامیاب ہو گئی ہے کہ سندھ اور وفاقی حکومت کراچی کو اس کا جائز حق دینے کو تیار ہیں اور نہ ہی کراچی کے بنیادی اہمیت کے مسائل حل کرنے میں کوئی دلچسپی رکھتی ہیں اور نہ ہی وسائل فراہم کرنے کو تیارہیں۔ یہ تاثر صرف ایم کیو ایم کا ہی نہیں بلکہ ایم کیو ایم سے اختلاف رکھنے والوں کا بھی ہے۔ اس تاثرکو مستحکم کرنے میں خود سندھ کی صوبائی حکومت کا کراچی کے بارے عمومی رویہ اور شہر کو نظر انداز کرنا ہے۔ جبکہ وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کی وفاقی حکومت نے بھی اپنے عمل سے اس تاثر کو گہرا کیا ہے اگر وزیراعظم اپنے وعدہ کے مطابق کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی کے منصوبے کا بریک تھرو کرا دیتے خواہ جاپان کی مدد سے کراتے یا چین کی مدد سے تو آج مسلم لیگ (ن) کراچی میں بلدیاتی الیکشن میں ایک بڑی ’’اسٹیک ہولڈر‘‘ کے طور پر ایم کیو ایم کو چیلنج کر رہی ہوتی۔ سچی بات یہ ہے کہ سندھ میں جب تک وفاق کی سیاست کی دعوے دار جماعتیں، سندھ کے شہری اور دیہی علاقوں کے حقیقی مسائل کے حل کو اپنی سیاسی ترجیحات میں شامل نہیں کریں گی۔ تب تک شہری اوردیہی سندھ کی تقسیم کو ختم کرنا ممکن ہے اور نہ ہی سندھ میں انتخابی عمل سے نسلی اور لسانی تعصبات کے فیکٹر کو کسی بھی قسم کا آپریشن ختم کر پائے گا۔سندھ میں مکمل طور پر ہمہ اقسام کے مسلح گروپوں کا خاتمہ ہو پائے گا اور نہ ہی ان اسلحہ بردار گروپوں کے طاقت ور بااثر سرپرستوں کو قانون کے شکنجے میں اس طرح کسا جانا آسان ہوگا کہ جس سے ان کے جرائم کی تفتیش میں کوئی قانونی سقم باقی نہ رہنے دیا جائے اور وہ قانون کی عدالتوں سے باعزت رہائی کے بجائے صاف شفاف تفتیش کے نتیجے میں مجرم ثابت ہو کر اپنے کئے کی سزا پا کر کیفر کردار کو پہنچے۔ آج کراچی میں ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی سمیت تمام جماعتیں پرامن اور آزادانہ ماحول میں اپنی اپنی انتخابی مہم میں جلسے جلوس اور اپنے اپنے حامیوں کی بھرپور شرکت سے انتخابی ریلیاں نکال رہی ہیں۔ تو یہ فضا کراچی میں جاری دہشت گردوں کے خلاف بلا امتیاز رینجرز آپریشن سے ہی قائم ہوئی ہے۔

ہفتہ کے روز کراچی میں جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کی مشترکہ انتخابی ریلی میں ہزاروں لوگوں نے کسی روک ٹوک اور خوف کے بغیر شرکت کی ہے جس میں تحریک انصاف کے نوجوانوں کی بھی بڑی تعداد تھی اور جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے مرد ،خواتین اور بچوں نے بھی ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی اس طرح کی آزاد فضا میں ریلی کا کوئی تصور رینجرز آپریشن سے پہلے کوئی کر سکتا تھا؟ یہ آپریشن 1992ء ،1994-95ء اور 1998ء سے اس لحاظ سے بالکل مختلف ہے۔ اس آپریشن کا ایجنڈا اور مینڈیٹ دہشت گردوں کے خاتمہ اور ان کے سرپرستوں کو قانون کے شکنجے میں کسنے کے سوا کوئی دوسرا نہیں ۔آپریشن کو متنازعہ بنانے والی قوتیں اسے لسانی تعصب کے تناظر میں پیش کرنے میں کامیاب رہتی ہیں۔پانچ دسمبر کی پولنگ کے حوالے سے اطمینان کی بات یہ ہے کہ ایم کیو ایم نے حتمی طور پر اعلان کر دیا ہے کہ وہ کسی صورت پانچ دسمبر کی پولنگ کا بائیکاٹ نہیں کرے گی جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایم کیو ایم کے ان خدشات کا ازالہ ہو گیا ہے جن کا ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر فاروق ستار نے میڈیا پر اظہار کیا تھا۔ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کی مشترکہ انتخابی ریلی بلاشبہ ایک شاندار اور کامیاب ریلی تھی۔ جس میں ہزاروں کی تعداد میں جوان بڑے اور عمر رسیدہ مرد خواتین اور بچے شریک ہوئے ۔وہ گھنٹوں تک سڑکوں پر رہے اور ان علاقوں میں بھی گئے جو ایم کیو ایم کے مضبوط گڑھ تصور ہوتے ہیں، عمران خان نے مشترکہ ریلی کے علاوہ اتوار کے روز لیاری کے علاقے میں واقع سیاسی اجتماعات کے حوالہ سے تاریخی ککری گراؤنڈ میں تحریک انصاف کے جلسہ سے خطاب کیا جسے قانونی مجبوری کی وجہ سے کارنر میٹنگ کا نام دیا گیا تھا، تاہم ککری گراؤنڈ کے جلسہ میں شریک تحریک انصاف کے کارکن اس طرح کے جوش و خروش کا مظاہرہ نہیں کر پائے جیسا ’’چارج کراؤڈ‘‘ کا تاثر تحریک انصاف کے نوجوانوں نے ہفتہ کے روز مشترکہ ریلی میں قائم کیا تھا، اس کا ایک سبب تو جلسہ کا کئی گھنٹوں کی تاخیر سے شروع ہونا اور جناب عمران خان کا جلسہ میں بہت دیر سے آنا تھا۔ دوسرے جلسہ میں زیادہ تعداد لیاری سے باہر کے کارکنوں کی تھی۔ تاہم لیاری میں عمران خان کا جلسہ کر لینا سیاسی اعتبار سے اہم پیش رفت ہے۔ لیاری کے عوام اس بار کس کو بلدیاتی انتخاب میں اپنا ووٹ ڈالتے ہیں ،یہ بہت اہم ہو گا۔ 1970ء سے 2013ء کے انتخابات کی تاریخ تو یہی بتاتی ہے کہ لیاری کے لوگ پیپلزپارٹی سے جتنے بھی ناراض ہو جائیں، بیلٹ بکس میں ووٹ پیپلزپارٹی کے حق میں ہی ڈالتے ہیں۔ لیاری کے کوائف سے آگاہی رکھنے والے آزاد تجزیہ کاروں کے خیال میں اس بار فضا کسی حد تک ماضی سے مختلف نظر آ رہی ہے۔ تب ہی تو سینیٹر محترمہ شیری رحمان کی قیادت میں نکلنے والی ریلی کو لیاری کے عوام نے کوئی لفٹ نہیں دی۔ لیاری پیپلزپارٹی کا کبھی مضبوط قلعہ ہوا کرتا تھا اس بار ہوگا یا نہیں؟ اس کا اندازہ پانچ دسمبر کو ہی ہوگا۔

ایسا لگتا ہے کہ کراچی میں پیپلزپارٹی اپنے مضبوط قلعہ سے نکل کر ملیر کے مضافات میں سکڑتی جا رہی ہے جس سے پیپلزپارٹی کے بارے میں یہ تاثر مزید گہرا ہوگا کہ وہ اب صرف دیہی سندھ کی پارٹی بن کر رہ گئی ہے۔ ملیر میں پیر کے دن ہونے والا پیپلزپارٹی کا جلسہ ایک کامیاب جلسہ تھا، جس سے پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھٹو اسٹائل میں نہایت پرجوش خطاب کیا۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ ضلع ملیر میں 2013ء کے عام انتخاب میں قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر مسلم لیگ (ن) نے جو کامیابی حاصل کی تھی۔ وہ پانچ دسمبر کے بلدیاتی انتخاب میں باقی رہتی ہے یا نہیں؟ لیاری اور ملیر کے بلدیاتی انتخاب کے نتائج کے بعد ہی یہ اندازہ ہوگا کہ بلدیات میں ایم کیو ایم شہر کی واضح اکثریت رکھنے والی جماعت کے طور پر کامیاب رہتی ہے یاسنگل لارجسٹ جماعت کے طور پر۔ شہر کا میئر کس کا ہوگا؟ اس کا بھی درست اندازہ پانچ دسمبر کو ہی ہو پائے گا۔ ایم کیو ایم کا اپنا اندازہ ہے کہ وہ کراچی کے 209 یوسی کے چیئرمینوں میں سے ایک سو سے زیادہ چیئرمین کی نشستوں پر کسی مشکل کے بغیر کامیاب ہو کر اپنا میئر لانے میں کامیاب ہو جائے گی۔جماعت اسلامی نے 1987ء میں ایم کیو ایم کے طوفان میں بھی کراچی میں 22نشستوں پر کامیابی حاصل کر لی تھی۔ اس بار دیکھنا یہ ہے کہ تحریک انصاف کے اتحاد کے بعد وہ اپنی نشستوں میں کتنا اضافہ کرنے میں کامیاب ہوتی ہے؟ اور تحریک انصاف اس اتحاد کے ذریعے ایم کیو ایم کی میئرشپ کا راستہ روکنے میں کامیاب رہتی ہے یا ناکام ؟اس کے لئے پانچ دسمبر تک انتظار کرنا ہوگا۔

مزید :

ایڈیشن 1 -