بنگلہ دیش میں پھانسیاں، جماعت اسلامی کا پُرزور احتجاج

بنگلہ دیش میں پھانسیاں، جماعت اسلامی کا پُرزور احتجاج

  

پاکستان پیپلزپارٹی کی پنجاب میں کارکردگی عرصہ سے زیر بحث ہے، حالیہ بلدیاتی انتخابات کے دونوں مراحل کے علاوہ اب اسلام آباد میں بھی پارٹی کو صفر پر آؤٹ ہونا پڑا ہے، جبکہ پنجاب اور لاہور میں تو اس مرتبہ یوم تاسیس کی تقریب بھی ایک کارکن کے کندھوں پر منائی گئی۔ پیپلزپارٹی کے 48 ویں یوم تاسیس کے موقع پر پہلے تو یہ کہا گیا کہ بڑی تقریب لاہور بلاول ہاؤس میں ہو گی اور بلاول بھٹو خطاب کریں گے اور کارکنوں سے بھی ملیں گے، لیکن سندھ کے بلدیاتی انتخابات کی وجہ سے اعلیٰ قیادت نے یہ فیصلہ کیا کہ بلاول کراچی میں رہیں اور یوم تاسیس کی مرکزی تقریب بھی بلاول ہاؤس کراچی میں ہو، تاہم ساتھ ہی صوبائی تنظیموں سے کہا گیا کہ وہ اپنے اپنے صدر مقام پر مرکزی تقریب کا اہتمام کریں اور اسی حوالے سے تقریبات منعقد کی جائیں، سنٹرل پنجاب کی طرف سے اسی ہدایت کی روشنی میں اعلان کیا گیا کہ لاہور میں پنجاب کی مرکزی تقریب ایوان اقبال میں ہو گی۔ اس سلسلے میں صوبائی تنظیم کی طرف سے لاہور کی تنظیم سے کہا گیا کہ مل کر انعقاد کر لیا جائے تاہم لاہور کی صدر نے اس سے اتفاق نہ کیا اور اپنی تقریب ایک زونل صدر اشرف بھٹی کے ڈیرے ایر پورٹ روڈ پر منعقد کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اب یہاں سے ایک اور دلچسپ صورت حال کا آغاز ہوتا ہے وہ یہ کہ پنجاب کی تنظیم نے خود ایوان اقبال میں تقریب نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور لاہور تنظیم نے خود ایوان اقبال میں تقریب نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور ثمینہ خالد گھرکی کی صدارت میں صوبائی صدر میاں منظور وٹو نے شرکت کی اور تقریر بھی کی۔ یوں دو کی جگہ ایک تقریب منعقد ہوئی اور اختلافی تاثر پھر بھی ختم نہ کیا جا سکا، لاہور تنظیم والوں نے بہرحال فخر کیا کہ وہ اپنی بات منوانے میں کامیاب رہے۔

اس تقریب میں جس کی صدارت تو ثمینہ خالد گھرکی ہی نے کی تاہم اس سے میاں منظور وٹو کے علاوہ چودھری اعتزاز احسن، سردار لطیف کھوسہ، تنویر اشرف کائرہ،الطاف حسین قریشی، اورنگزیب برکی، بیگم بیلم حسنین، نوید چودھری، عارف خان اور بابر بٹ نے بھی خطاب کیا، حاضرین میں لاہور کے کارکنوں کی شرکت تھی، دوسری اضلاع سے صرف رہنما کرام کے سوا کوئی نہیں آیا تاہم شرکت کرنے والوں کی معقول تعداد تھی۔

اس اجلاس میں پارٹی کے روایتی نعرے لگائے گئے اور مقررین نے کہا پیپلزپارٹی نے ماضی میں جمہوریت کے استحکام کی خاطر تمام اقدامات کئے اور فرینڈلی اپوزیش کا طعنہ بھی برداشت کیا تاہم اب یہ مرحلہ گزر گیا، پیپلزپارٹی اپنی ماضی کی روایات کے پیش نظر حکومت کا محاسبہ کرے گی، اجلاس میں مقررین نے بلدیاتی کارکردگی کے باوجود یہ کہہ کر حیران کیا کہ پیپلزپارٹی آج بھی عوام کی حمایت یافتہ پارٹی ہے اور عوام کے مسائل کا ادراک رکھتی ہے اور ان کے حل کے لئے آواز بلند کرتی رہے گی۔ اس اجلاس میں آصف علی زرداری کی دو مختلف ریفرنسوں سے بریت پر خوشی کا اظہار کیا گیا اور میاں منظور حسین وٹو کی فرمائش پر ایک قرارداد منظور کی گئی، جس کے مطابق وزیراعظم سے مطالبہ کیا گیا کہ آصف علی زرداری کے خلاف جھوٹے ریفرنس بنانے پر ان سے معافی مانگی جائے۔

سکھ مت کے بانی بابا گورو نانک کے جنم دن کو سکھ ہمیشہ پُرجوش طریقے سے مناتے ہیں، اور ان کی جاء پیدائش ننکانہ صاحب میں جشن بھی منایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ حسن ابدال پنجہ صاحب، نارووال میں سچا سودا اور لاہور میں ڈیرہ صاحب کے استھانوں پر تقاریب منعقد ہوتی ہیں، اس مرتبہ بھارت کے سکھ حضرات کے لئے تین ہزار افراد کے ویزے منظور کئے گئے تاہم وہاں سے دو ہزار چار سو افراد یاترا کے لئے آئے البتہ کینیڈا، برطانیہ اور امریکہ وغیرہ سے آنے والے بھی معقول تعداد میں تھے۔ یہ یاتری پانچ روزہ تقریبات میں شرکت کے بعد واپس روانہ ہو گئے، بھارت سے آنے والے خصوصی ٹرینوں سے آئے اور انہی پر واپس گئے، جبکہ بیرون مُلک والے اپنے طور پر ہوائی سفر کر کے آئے اور اسی طرح واپس بھی گئے، سکھ حضرات کی آمد کے حوالے سے جہاں حفاظتی اقدامات کئے گئے، وہاں ان کی آؤ بھگت بھی ہوئی اور متروکہ وقف بورڈ کی انتظامیہ نے اپنے عملے کے ذریعے تقریبات کو بھرپور طور سے ادا کرنے کی سہولت بہم پہنچائی۔بھارت سے آنے والے سکھوں نے پاکستان میں اپنے قیام کو بہتر قرار دیا اور کہا کہ یہاں تو ان سے محبت کی گئی، جبکہ بھارت میں ان کو خوفزدہ کیا گیا تھا کہ پاکستان نہ جاؤ، حالات خطرناک ہیں، لیکن یہاں ایسا کچھ بھی نہیں اب تو ہمارا پھر سے آنے کو جی چاہتا ہے۔

ان سکھ حضرات کی مقامی پاکستانیوں نے بھی خدمت کی۔ خریداری کے وقت ان کو داموں میں رعایت دی گئی اور ان سے اچھا سلوک کیا گیا۔ یہ یاتری پاکستانیوں سے بات چیت بھی کرتے رہے تاہم حیرت انگیز طور پر ہریانہ اور پنجاب میں سکھوں پر ہونے والے لاٹھی چارج اور پولیس تشدد وغیرہ کے ذکر سے گریز کرتے رہے اور اپنی مقدس کتاب’’ گورو دا گرنتھ‘‘ کی بے حرمتی کے واقعات کا بھی ذکر گول کیا البتہ یہ کہتے رہے کہ بھارت میں مودی سے نفرت نہیں کی جاتی، بلکہ بھارتی وزیراعظم تو ماضی کے رہنماؤں کی نسبت مقبول ہیں، انہوں نے گائے کے ذبیحہ پر مسلمانوں کے قتل اور پابندیوں پر بھی بات سے گریز کیا، بہرحال تقریبات پُرامن طور پر اختتام پذیر ہوئیں اور مہمان بخیریت واپس چلے گئے۔

بنگلہ دیش میں1971ء میں ہونے والے واقعات کے حوالے سے جنگی جرائم کے الزام میں مختلف رہنماؤں خصوصاً جماعت اسلامی کے عہدیداروں کو مقدمات چلا کر سزائے موت اور اس پر عمل درآمد کا سلسلہ جاری ہے، حالانکہ 1974ء میں بنگلہ دیش پاکستان اور بھارت ایک معاہدے پر متفق ہوئے تھے، جس کے مطابق 1971ء کے واقعات کے حوالے سے کسی کے بھی خلاف کارروائی نہیں ہونا تھی۔ یہ معاہدہ بنگلہ بندھو اور بنگلہ دیش کے پہلے وزیراعظم شیخ مجیب الرحمن کے ساتھ ہوا تھا، لیکن اب اس کو پس پشت ڈال دیا گیا اور مختلف رہنماؤں کے خلاف قتل کے مقدمات چلانے کے لئے مستغیث بنائے اور ایف آئی آر درج کر کے مقدمات چلائے گئے اور ان کو پھانسیوں پر لٹکا دیا گیا۔

پاکستان میں اس عمل پر احتجاج کیا گیا، حتیٰ کہ وفاقی وزیر داخلہ نے بھی اسے معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا، سیاسی جماعتوں نے احتجاج کیا، اسی سلسلے میں جماعت اسلامی نے لاہور میں احتجاجی دھرنا دیا۔ یہ دھرنا ریگل چوک، مسجد شہدا کے باہر دیا گیا، جس سے جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کے علاوہ لیاقت بلوچ اور دیگر حضرات نے بھی خطاب کیا اور بنگلہ دیش میں دی جانے والی پھانسیوں پر احتجاج کیا، مقررین کے مطابق وفاقی حکومت احتجاج نہ کر کے اس جرم میں شامل ہو گئی ہے، حالانکہ حکومت کو نہ صرف احتجاج کرنا چاہئے، بلکہ اس مسئلے کو عالمی عدالت تک لے کر جانا چاہئے کہ یہ1974ء کے معاہدے کی خلاف ورزی بھی ہے جو سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی تجویز پر ہوا تھا اور اسی کے تحت بھارت میں کسی جنگی قیدی کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں چلایا گیا تھا اور سبھی واپس آئے تھے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -