سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے پیپلزپارٹی کی کمزوری تسلیم کر ہی لی

سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے پیپلزپارٹی کی کمزوری تسلیم کر ہی لی

  

ملتان سے شوکت اشفاق

آخرکار سید یوسف رضا گیلانی نے یہ حیقیت تسلیم کر لی ہے کہ حالیہ بلدیاتی انتخابات میں اندرون سندھ کے علاوہ پنجاب اور دیگر صوبوں میں پیپلز پارٹی کا سیاسی ’’بھرکس‘‘ نکل گیا ہے، سندھ کیلئے بھی انہیں دراصل اپنی پارٹی کی موجودہ قیادت کو خوش فہمی میں ڈالنے کی بجائے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا شکر گزار ہونا چاہئے جس نے ا ندرون سندھ کے ووٹروں سے یہ تو نہیں کہا کہ وہ پیپلز پارٹی کو ووٹ دیں مگر انہیں مسلم لیگ ن کی قیادت کے بارے میں الزامات لگا لگا کر اس قدر متنفر کر دیا تھا کہ ’’بیچارے‘‘’’بھٹو‘‘ کو ووٹ نہ دیتے تو کیا کرتے اب اس بے چارگی کو اگر کوئی یہ سمجھ لیتا ہے کہ اندرون سندھ آج بھی بھٹو زندہ ہے تو پھر اس کو چیلنج بھی تو نہیں کیا جا سکا دوسری طرف سابق وزیراعظم موجودہ حکمرانوں پر دبے دبے الفاظ میں کبھی کبھار منہ کا ذائقہ تبدیل کرنے کیلئے چھوٹا موٹا الزام بھی دھر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بلدیاتی انتخابات میں حکومتی یعنی سرکاری مشینری بے دریغ استعمال ہو رہی ہے، اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہے انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا حکمرانوں نے اپنی مرضی کے انتخابی رزلٹ حاصل کرنے کیلئے اپنی مرضی سے حلقہ بندیاں تبدیل کر لی ہیں جس سے انہیں سیاسی اور انتخابی فائدہ حاصل ہوا ہے۔ انہوں نے تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے اتحاد پر بھی تنقید کی اور کہا کہ یہ ایک پرانا اتحاد ہے تاہم وہ اس حوالے سے کوئی مضبوط الزام عائد نہ کر سکے۔ البتہ انہوں نے آئندہ عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کے ’’کم بیک‘‘ کی نوید سنائی اور دعویٰ کیا کہ پیپلز پارٹی نے اپنے گذشتہ دور میں عوام کی سہولت کیلئے بڑے کام کئے ہیں جو اس وقت کی حکومت میں نہیں ہو رہے، اس لئے عوام آئندہ ہمیں ووٹ دیں گے۔

پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما کی یہ باتیں اور دعوئے کتنی حد تک درست ثابت ہوتے ہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن اس وقت پیپلز پارٹی جس تنہائی کا شکار ہے ماضی میں کبھی اس جماعت کے ساتھ ایسا نہیں ہوا کیونکہ اس کی جڑیں چاروں صوبوں میں موجود تھیں لیکن موجودہ بلدیاتی انتخابات میں ایک طرف تو پیپلز پارٹی کی یونین کونسلوں میں امیدوار ہی نہیں ملے اور جو ملے بھی ہیںیا تو وہ اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ جیت سکیں جبکہ پارٹی کے پرانے جفاکش کارکنوں اور پارٹی عہدیداروں کو دیکھا جائے تو وہ اس وقت نہ صرف پارٹی کی قیادت سے مایوس ہیں بلکہ وہ اپنی سیاسی جدوجہد کو جاری رکھنے کیلئے کہیں ن لیگی، کہیں تحریک انصاف اور زیادہ آزاد امیدواروں کی حمایت کر رہے ہیں خصوصاً جنوبی پنجاب جو پیپلز پارٹی کا سیاسی گڑھ سمجھا جاتا تھا اب وہاں ان کا انتخابات کیلئے ٹکٹ لینے کو کوئی تیار نہیں ہے، جبکہ ضلع کونسلوں تحصیل کونسلوں اور ٹاؤن کونسلوں کیلئے تو ان کی طرف کوئی امیدوار بھی سامنے نہیں آرہا لیکن دوسری طرف حکومتی پارٹی کی نمبرون پوزیشن ہے اور بہت ہی کم مارجن سے آزاد امیدواروں کی ایک بڑی تعداد منتخب ہو چکی ہے، جو ایک طرح کانہ صرف سیاسی جماعتوں بلکہ ان کے ان منشور پر بھی عدم اعتماد ہے جو صرف کتابی صورت میں چھپنے تک محدود ہوتے ہیں لیکن اس پر آج تک عمل ہوا اور نہ ہی آئندہ عمل ہوگا۔ ایسی صورت میں آزا د حیثیت سے جیتنے والے کو کم از کم حلقے پر جوابدہ تو کر سکتے ہیں۔ لیکن اتنی تعداد میں آزاد امیدواروں کی کامیابی نہ صرف حکومتی جماعت کیلئے سیاسی خطرے کی گھنٹی ہے، بلکہ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کیلئے بھی سیاسی جھٹکا ہو سکتا ہے، کیونکہ عوام اب بڑھکوں نہیں عملی کام کی توقع کرتے ہیں۔

جنوبی پنجاب خصوصاً ڈیرہ غازیخان ڈویژن میں ایک ایسے وقت میں آئے دن پولیس مقابلوں کے رجحان میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ بین الاقوامی طور پر بھی ’’دہشت گردی‘‘ کا شکار ہونے کے باوجود پوری دنیا کی تنقید کا نشانہ بن رہے ہیں واردات اور جرم کوئی قوم کرتی ہے لیکن یورپ اور امریکہ سمیت دیگر ممالک محض پاکستانیوں پر مختلف قسم کی سفری پابندی کر دیتے ہیں جس کا خمیازہ نہ صرف پاکستان میں رہنے والوں کو بھگتنا پڑتا ہے بلکہ بیرون ملک مقیم پاکستانی اس سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، یعنی بیرون ملک بھی تنقید اور اندرون ملک بھی ، پولیس مقابلوں کے اس نئے رجحان اور مہم نے جہاں عوام کو عدم تحفظ کا شکار کر دیا ہے وہاں ماورائے عدالت اور آئین جرائم پیشہ افراد کی اس طرح سے پولیس مقابلوں میں مارے جانے کی الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں جو خبریں چھپتی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ ا س ملک کے اندر شاید صرف جرائم پیشہ اور دہشتگرد ہی بستے ہیں اور یہ پولیس محکمہ اور اب کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ ان مقابلوں میں ’’پار‘‘ ہونے والوں کے بارے میں جو پریس ریلیز جاری کرتے ہیں اس میں ایسی تفصیلات ہوتی ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ مقابلے میں مارا جانے والا بین الاقوامی دہشت گرد تھا اور صرف اسی کی وجہ سے پوری دنیا کے اندر دہشت گردی کا سیلاب آیا ہوا تھا اب چونکہ پولیس نے اس کو تلاش کر لیا ہے لہٰذا اس کے ساتھی اسے چھڑانا چاہتے تھے جس پر کراس فائرنگ ہوئی اس میں ’’دہشت کی علامت‘‘ مٹی کی طرح ڈھیر ہو گیا اب یہی خبریں ٹی وی چینلجز پر ملتی ہیں تو پوری دنیا کے اندر شور مچ جاتا ہے کہ پاکستان کے علاقے ڈیرہ غازیخان میں اتنا بڑا دہشت گرد مارا گیا ہے جس کا مطلب ہے کہ مزید بھی موجودہوں گے جس کیلئے پریس ریلیز میں کہنا ہوتا ہے کہ سکیورٹی فورسز ان کے تعاقت میں روانہ ہو گئی ہیں

اسی طرح یہ مقابلے قبل ازیں مظفر گڑھ میں تواتر کے ساتھ ہوتے رہے اور مقابلوں میں ایسے افراد کو بھی مقابلوں میں ’’پار‘‘ کر دیا گیا جن کا ایسی کسی ایکٹیویٹی سے کوئی تعلق بھی نہیں تھا اس حوالے سے یہاں اس وقت تعینات ڈی پی او رائے ضمیر الحق پولیس مقابلے کرتے کرتے اتنے’’ طاقتور‘‘ ہو گئے تھے کہ انہوں نے محض ایک خبر شائع کرنے پر ایک نامہ نگار/صحافی پر دہشت گردی کا نہ صرف پرچہ دیا بلکہ اس کا نام فورتھ شیڈول کے دہشت گردوں میں شامل کر دیاتھا، جو ابھی تک اپنا نام اس لسٹ سے خارج نہیں کرواسکا، حالانکہ اس نے ہائی کورٹ میں انصاف کیلئے رٹ بھی دائر کر رکھی ہے، اب ایسی صورتحال میں اندرون ملک پولیس اور ان دوسرا ڈیپارٹمنٹ جینے نہیں دیتا جبکہ بین الاقوامی طور پر دوسرے ملک میں دہشت گرد سمجھتے ہیں سوچئے کہ پاکستانی عوام کے ساتھ کیا ہوگا اور کیا ہونے والا ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -