خواجہ سرا کانوکری حاصل کرنا قانونی اور آئینی حق ہے،الماس بوبی

خواجہ سرا کانوکری حاصل کرنا قانونی اور آئینی حق ہے،الماس بوبی

  

لاہور(فلم رپورٹر)لاہور میں گزشتہ روز خواجہ سراؤں نے حکومتی اداروں میں نوکریاں نہ ملنے پر احتجاج کیا اس موقع پر خواجہ سراؤں کا کہنا تھا کہ ہم بھی اس ملک کے شہری ہیں نوکری حاصل کرنا ہمارا قانونی اور آئینی حق ہے ۔اس حوالے سے شی میل ایسو سی ایشن آف پاکستان کی صدر الماس بوبی ’’پاکستان‘‘سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہماری برادری کو بہت سارے مسائل کا سامنا ہے کوئی ہمیں کوئی نوکری نہیں دیتا کچھ شی میل تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود نوکری حاصل نہیں کرپاتے ہمیں تیسرے درجے کا شہری مانا جاتا ہے یہ لوگ احتجاج نہ کریں تو اور کیا کریں لاہور سمیت کئی شہروں میں ہم لوگ احتجاج کرکے حکومت کی توجہ اپنے مسائل کی جانب مبذول کرواچکے ہیں لیکن تاحال ہماری کوئی شنوائی نہیں ہوئی ۔ایک سوال کے جواب میں الماس بوبی نے کہا کہ تمام شی میلزپڑھے لکھے نہیں ہیں ہماری اکثریت ان پڑھ اور جاہل ہے ہمیں اپنی تعلیم پر توجہ دینا ہوگی۔ جس کے بعد ہم بہتر طور پر احتجاج کرپائیں گے ۔ہم میں سے چند لوگ جھوٹی شہرت حاصل کرنے کے لئے بھی گاہے بگاہے احتجاج کرتے رہتے ہیں ۔الماس نے مزیدبتایا تقریباً تین سال قبل نادرا کی جانب سے اعتراض اُٹھائے جانے کے بعد کہ شی میل کے شناختی کارڈ میں ولدیت کے خانے میں گرو کا نام نہیں لکھا جائے گا یہ معاملہ عدالت عظمیٰ میں گیا تھا۔الماس بوبی نے بتایا کہ ماضی میں جتنے بھی شناختی کارڈ بنائے گئے ہیں اُن میں والد کے نام کے علاوہ ولدیت کے خانے میں گرو کا نام بھی لکھا گیا تھا۔لیکن نادرا کی جانب سے اس سلسلے میں اعتراض اُٹھایا گیا ہے کہ گرو کا نام نہیں لکھا جاسکتا۔اس کے بعد ہم اس معاملے کو عدالت میں لے گئے تھے جہاں پر میں نے چیف جسٹس آف پاکستان کو وہ شناختی کارڈ دکھائے جس میں ولدیت کے خانے میں گرو کا نام لکھا ہوا تھایہ دیکھنے کے بعد چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے نادرا والوں کو ہدایت کی تھی کہ اس معاملے ۷کودیکھیں ۔الماس بوبی نے کہا کہ گرو کا نام وہ شی میلز لکھواتے ہیں جن کو اپنی ولدیت کے بارے میں معلوم نہیں ہوتا۔ گرو کی جائیداد اور پیسہ تمام چیلوں میں برابر تقسیم ہوتا ہے۔یہ مسئلہ تاحال حل نہیں ہوا ۔

مزید :

علاقائی -