اچھا شگون

اچھا شگون

  

گذشتہ ایک دہائی کے دوران پاکستان کو بہت سے سنگین چیلنجز کا سامنا رہا ہے جن میں سب سے بڑا دہشت گردی کا ناسور تھا۔ اس کی وجہ سے ایک طرف تو پچاس ہزار سے زائد عا م پاکستانی شہری اور سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے اور دوسری طرف معیشت کو بہت بھاری نقصان برداشت کرنا پڑا کیونکہ عالمی سطح پر پاکستان کے متعلق غیر محفوظ ملک کا تاثر ابھر رہا تھا۔ سرمایہ کاروں نے پاکستان کو اپنی ترجیحی لسٹ سے نکال دیاجبکہ توانائی کے بدترین بحران نے معیشت کو مزید تباہی کی طرف دھکیلا۔ پاکستان میں وسائل کی کوئی کمی نہیں، یہ دودھ اور کپاس پیدا کرنے والا چوتھا بڑا، گندم پیدا کرنے والا آٹھواں بڑا، چاول پیدا اور افرادی قوت رکھنے والا دسواں بڑا ملک ہے لیکن ان وسائل کو بے دردی سے ضائع کیا گیا ۔خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ گذشتہ دو تین سالوں سے حالات مسلسل بہتری کی طرف گامزن ہیں۔ پاک فوج اور حکومت نے مل کر ضرب عضب کے ذریعے دہشت گردی کے ناسور کو قریب قریب ختم کردیا ہے ، آئے روز توانائی کی پیداوار کے کسی نہ کسی منصوبے کا افتتاح ایک اچھے مستقبل کی شنید دے رہا ہے ۔

ماضی میں روس جیسے جن اہم ممالک سے ہمارے تعلقات سرد مہری کا شکار تھے آج وہ ہمارے ساتھ تجارتی معاشی و دفاعی تعاون کررہے ہیں، مارک اپ 6%کے ساتھ جبکہ افراط زر1.61%کے ساتھ تاریخ کی کم ترین سطح پرہیں ، انفراسٹرکچر بہتر ہورہا ہے جبکہ 46ارب ڈالر حجم کا پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ اور سرمایہ کانفرنس جیسے ایونٹ عالمی برادری کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ پاکستان سرمایہ کاری کے لیے بہترین ملک ہے جس سے غیرملکی سرمایہ کاروں کو بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔اگر ہم ماضی قریب کے دور کو دیکھیں تو معاشی حوالے سے کئی حوالوں سے بہت اہم پیش رفت ہوئی ہے لیکن کچھ معاملات ہنوز توجہ طلب ہیں جنہیں حل کرنے کے لیے اگرچہ ضرورت تو حکومت اور نجی شعبے کے درمیان شراکت داری کی ہے لیکن پالیسی سازی کا اختیار ہونے کی وجہ سے اہم کردار حکومت کو ہی کرنا ہے۔اس وقت ایک تشویشناک مسئلہ برآمدات میں کمی ہے۔کچھ عرصہ قبل موجودہ حکومت کی کاوشوں کی بدولت یورپین یونین نے پاکستان کو جی ایس پی پلس سٹیٹس دے دیا جس کے بعد توقع کی جارہی تھی کہ برآمدات کو فروغ ملے گا لیکن حیرت انگیز طور پر برآمدات بڑھنے کے بجائے کم ہوگئیں جس کی وجوہات کا جائزہ لینے کے لیے حکومت اور نجی شعبے کے نمائندوں کی ایک ٹیم تشکیل دینے کی ضرورت ہے ۔

برآمدات میں کمی کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں سرفہرست زیادہ پیداواری لاگت ہے، لیکن میرا ذاتی خیال ہے کہ اس سلسلے میں بیرون ملک پاکستانی کمرشل سیکشنز کی سرد مہری اور برآمدات کے سلسلے میں چند ممالک پر انحصار نے بھی بہت اہم کردار ادا کیا ہے لہذا اس جانب خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔برآمدات کے فروغ کے لیے پاکستان کو علاقائی تجارت کے فروغ اور ویلیو ایڈیشن کی طرف خاص توجہ دینا ہوگی۔ملک میں پیدا ہونے والے قیمتی و نیم قیمتی پتھروں اور نمک سمیت دیگر بہت سی معدنیات کو خام حالت میں ہی برآمد کردیا جاتا ہے جس سے ملک کو وہ فائدہ نہیں ہوتا جو ہونا چاہیے۔ پاکستان کو وسطیٰ ایشیائی ریاستوں کے ساتھ ریلوے لنک قائم کرنے چاہیئیں جس سے ان ریاستوں کے ساتھ تجارت میں اضافہ ہوگا۔ ماضی میں توانائی کا بحران حل کرنے کے لیے سنجیدہ کوششوں کے فقدان کا خمیازہ ملک بھر کے صنعتی و تجارتی شعبے کو بھگتنا پڑا ہے، توانائی کے بحران کی وجہ سے صنعتی پیداوار کم ہوئی جس کے منفی اثرات برآمدات پر واضح دیکھے جاسکتے ہیں۔

خوش آئند بات یہ ہے کہ حکومت کو زمینی حقائق کا بھرپور احساس ہے اور اْس نے بھکی، تھرپاور پلانٹ، جھنگ پاور پلانٹ اور بلوکی قصور پاور پلانٹ سمیت توانائی کی پیداوار کے دیگر منصوبے شروع کررکھے ہیں جن کی تکمیل کے بعد وافر بجلی دستیاب ہوگی۔ اگر ہم نے سستی اور وافر بجلی کی پیداوار یقینی نہ بنائی تو سرمایہ دیگر ممالک کو منتقل کرنے کا رجحان بڑھے گا جو کسی طرح بھی ملک کے مفاد میں نہیں۔نجی شعبے کو چاہیے کہ توانائی کے شعبے میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کرے جبکہ حکومت کو چاہیے کہ ان سرمایہ کاروں کو سہولیات دے۔ توانائی کے متبادل ذرائع کو فروغ دینے کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی کاوشیں قابل تحسین ہیں، دیگر صوبوں بھی اْن کی تقلید کرتے ہوئے متبادل ذرائع سے توانائی کی پیداوارکے منصوبے شروع کرنے چاہئیں۔ کچھ عرصہ قبل وزیراعظم میاں نواز شریف نے صنعتی شعبے کے لیے لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا اعلان کیا ہے جس سے یہ بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں صنعتی شعبے کو درپیش مسائل سے اچھی طرح آگاہی ہے اور وہ انہیں جلد سے جلد حل کرنا چاہتے ہیں۔

لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری بھی اپنے فرائض سے بڑی اچھی طرح آگاہ ہے اور صنعت و تجارت کے استحکام اور ملک کی بیرونی تجارت کو فروغ دینے کی بھرپور کوشش کررہا ہے۔ اس کے علاوہ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے پاکستان میں کاروبار کے لیے آسانیوں اور مشکلات کے متعلق تفصیلی رپورٹ کی تیاری پر کام شروع کردیا ہے جس کا مقصد کاروباری شعبے کو درپیش مسائل کی نشاندہی اور ان کا حل تجویز کرنا ہے۔ لاہور چیمبر کے عہدیداران صنعتی و تجارتی ایسوسی ایشنوں کے کے نمائندوں سے ملاقاتیں کرکے صنعت و تجارت کو درپیش مسائل کے بارے میں معلومات اکٹھا کررہے ہیں جنہیں رپورٹ کا حصہ بنایا جائے گا۔ پاکستان کی برآمدات کو پچاس ارب ڈالر تک پہنچانا بھی ممکن ہے لیکن اس کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مشاورت سے تیار کی گئی حکمت عملی کے تحت کام کرنا ہوگا، چونکہ مقابلہ بہت سخت ہے لہذا وقت ضائع کیے بغیر حکومت کو مشاورتی عمل شروع کردینا چاہیے ۔

مزید :

کالم -