بلدیاتی الیکشن کا د وسرا مرحلہ

بلدیاتی الیکشن کا د وسرا مرحلہ
بلدیاتی الیکشن کا د وسرا مرحلہ

  

بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں پنجاب کے 12 اضلاع گوجرانوالہ، ساہیوال، خانیوال، ٹوبہ ٹیک سنگھ، چنیوٹ، سرگودھا، شیخوپورہ، حافظ آباد، منڈی بہاؤالدین، میانوالی، اٹک اور جہلم ،جبکہ سندھ کے 14 اضلاع مٹیاری، ٹنڈو اللہ یار، ٹنڈو محمد خان، نو شہرو فیروز ، میرپور خاص، دادو، جامشورو، سجاول، تھرپارکر، شہید بے نظیر آباد ، عمر کوٹ، ٹھٹھہ، حیدر آباد اور بدین کے دو کروڑ سے زائد ووٹروں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ نتیجہ بالکل توقع کے مطابق تھا ،سوائے چند ایک جگہوں پر اپ سیٹ کے۔ اگر کہا جائے کہ دوسرا مرحلہ پہلے مرحلے کا ری پلے تھا تو غلط نہ ہو گا۔ پہلے مرحلے کے جن اضلاع میں انتخابات ہوئے ،ان میں اکثریت ایسے شہروں کی تھی جہاں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی 2013ء کا انتخابات جیتی تھیں، لیکن بدین میں ایسا کچھ نہ ہوا جس کی توقع کی جار ہی تھی۔ ذوالفقار مرزا نے جو کہا کر دکھایا۔ذوالفقار مرزا کا اگلا مشن لیاری ہے ،جہاں پیپلز پارٹی کسی زمانے میں انتہائی مضبوط تھی، لیکن آج اتنی کمزور ہے کہ اُمیدوار ڈھونڈنے سے نہیں ملے۔ پیپلز پارٹی کو ایک گڑھ میں شکست کے بعد دوسرے گڑھ میں پریشانی کا سامنا ہے۔ مخالفین نے یہ پروپیگنڈا کیا ہے کہ ڈی جی رینجرز میجر جنرل بلال اکبر نے بدین کا دورہ کیا ،اس لئے نتیجے پر فرق پڑا، لیکن اس بات کا جواب کسی نے نہیں دیا کہ ڈی جی رینجرز تو ٹھٹھہ اور حیدر آباد بھی گئے تھے، وہاں کے نتائج کیوں نہیں تبدیل ہوئے۔ ٹھٹھہ اور قاسم آباد میں ڈی جی رینجرز کے دورے کے باوجود پیپلز پارٹی کیسے جیت گئی؟

دوسرے مرحلے میں حیدر آباد اور میر پور خاص میں ایم کیو ایم نے میدان مارا اور نوشہرہ فیروز میں مسلم لیگ (ن) نے پیپلز پارٹی کو مات دی ،آنے والے دنوں میں ایم کیو ایم کراچی میں بھی پیپلز پارٹی کے دانت کھٹے کرے گی۔ اب تک کے انتخابی نتائج میں ایک بات حیران کن ہے کہ آزاد اُمیدواروں کی بڑی تعداد نے لیڈروں اور پارٹیوں کو چاروں شانے چت کر کے واضح پیغام دیا ہے کہ عوام سیاسی جماعتوں سے تنگ آ چکے ہیں۔ تین تین باریاں لینے والی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کو عوام کی ایک بڑی تعداد بالکل پسند نہیں کرتی،جبکہ وزیر اعلیٰ پنجاب کا یہ کہنا کہ ان دو مراحل میں ہونے والے انتخابات نے یہ تصدیق کر دی کہ 2013ء کے انتخابات میں دھاندلی نہیں ہوئی۔

تحریک انصاف ابھی تک دھرنے اور جوڈیشل کمیشن کے آفٹر شاکس کا سامنا کر رہی ہے۔ غالباً اسی لئے تحریک انصاف کے سینئر رہنما چودھری سرور فرماتے ہیں کہ دس فیصد نشستیں جیتنا بہتر اور پندرہ فیصد سیٹوں پر فتح بہترین کارکردگی ہے۔ اڑھائی سال تک پورے پنجاب میں الیکشن جیتنے کا دعویٰ کرنے والی تحریک انصاف نے صرف پندرہ فیصد نشستوں پر کیسے اکتفا کر لیاہے۔سوشل میڈیا پر کام کرنے والے اپنا کام ایمانداری سے انجام دے رہے ہیں کہ پنجاب میں مسلم لیگ (ن)، شہری سندھ میں ایم کیو ایم، دیہی سندھ میں پیپلز پارٹی ، مردان میں جے یو آئی (ف) فیس بک، ٹویٹر اور کے پی کے میں تحریک انصاف، جبکہ اخبارات اور ریلیوں میں جماعت اسلامی بڑی جماعتیں ہیں۔ پنجاب میں پیپلز پارٹی تقریباً اپنا وجود کھو چکی ہے۔ ملک کی انتخابی تاریخ میں آزاد اُمیدواروں کا اتنی بڑی تعداد میں جیتنا حیران کن ، بلکہ پریشان کن ہے۔ ماضی میں چند اُمیدوار جیت جاتے تھے، لیکن اس بار تعداد دیکھ کر لگتا ہے یہ کوئی پارٹی ہے جو الیکشن لڑرہی تھی اور کئی جگہ پہلے اور دوسرے نمبر پر آزاد پارٹی ہی چھائی ہوئی ہے۔ ماضی میں میڈیا پر آزاد اُمیدوار آخری خانے میں ہوتے تھے۔ آج ٹی وی سکرینوں پر آزاد اُمیدوار دوسری اور تیسری پارٹی کی پوزیشن پر آ چکے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) پنجاب میں اگر پہلے نمبر پر ہے تو آزاد دوسرے نمبر پر ہیں۔ یہ صورت حال تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) دونوں کے لئے خطرے کا الارم ہے۔ خاص طور پر تحریک انصاف کے لئے، کیونکہ پی ٹی آئی دعویٰ کرتی ہے کہ وہ ملک کی دوسری بڑی جماعت ہے تو یہاں مسلم لیگ (ن) اور آزاد اُمیدواروں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہونے کا فائدہ نہ اُٹھا سکی اور مسلم لیگ (ن) کے لئے کہ وہ دیکھے کہ کہاں کہاں ٹکٹ دینے میں اس سے غلط فیصلے ہوئے ،کیونکہ یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ آزاد اُمیدواروں میں زیادہ تر ناراض مسلم لیگی ہیں ،کسی حد تک یہ دعویٰ درست ہے، لیکن یہ بات قابل غور ہے کہ ووٹروں نے وہ لوگ چنے جو ان کو الیکشن کے بعد چھوڑ نہیں دیتے اور حلقے میں ہی رہتے ہیں اور ان کے کام کرتے ہیں۔بدین میں ذوالفقار مرزا اور لالہ موسیٰ میں قمر زمان کائرہ کی جیت اس بات کا ثبوت ہے کہ بہتر کارکردگی سے حکومت اور حکومتی مشینری کو بھی شکست دی جا سکتی ہے۔ حالیہ بلدیاتی انتخابات سبھی سیاسی جماعتوں کے لئے اور فیڈریشن کے لئے خطرے کی بات ہے کہ پیپلز پارٹی جو وفاق کی علامت سمجھی جاتی تھی، سکڑ کر سندھ کے دیہی علاقوں تک محدود ہو گئی ہے۔ تحریک انصاف صرف خیبرپختونخوا میں اپنا وجود بنا سکی۔ مسلم لیگ (ن) پنجاب کے سواکسی صوبے میں بھی قابل ذکر کامیابیاں نہ سمٹ سکی۔ تیسری مرتبہ منتخب ہونے والے وزیر اعظم سمیت تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے لیڈروں کے پاس موقع ہے کہ وہ بہترکارکرگی سے وفاق کی علامت بنیں۔

مزید :

کالم -