یونائیٹڈ بزنس گروپ کا سالانہ عشائیہ

یونائیٹڈ بزنس گروپ کا سالانہ عشائیہ
یونائیٹڈ بزنس گروپ کا سالانہ عشائیہ

  

قائداعظم محمد علی جناح ؒ کی شدید خواہش تھی کہ پاکستان صنعت و تجارت کے شعبے میں زبردست ترقی کرے اور ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہو جائے۔جب کراچی میں ایک بزنس میٹنگ میں قائداعظم کو بتایا گیا کہ ہم پاکستان کا فیڈریشن آف چیمبرز بنانے جا رہے ہیں تو قائداعظم بہت خوش ہوئے تھے اور فیڈریشن چیمبرز آف کامرس کے لئے بہت اچھے خیالات کا اظہار کیا تھا۔ اب یہ بدقسمتی ہے کہ اتنے اہم ادارے کو دو تین سال پہلے اتنا بے کار کر دیا گیا کہ کراچی میں ہونے والی سرکاری تقاریب میں فیڈریشن کی نمائندگی کو کوئی اہمیت حاصل نہیں تھی، لیکن جس طرح پاکستان کی قسمت بدلی ہے، اسی طرح فیڈریشن آف چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کو اس کے موجودہ صدر میاں محمد ادریس نے صرف ایک سال میں بالکل تبدیل کرکے رکھ دیا ہے اور اس کا کریڈٹ بزنس لیڈر افتخار علی ملک کو جاتا ہے، جنہوں نے یونائیٹڈ بزنس گروپ بنا کر پاکستان کے صنعت و تجارت کے اداروں اور ایسوسی ایشنوں میں حیرت انگیز کامیابی حاصل کرنے کے بعد باقاعدہ جمہوری طریقے سے پنجاب کی باری آنے پر میاں محمد ادریس کو صدر کے عہدے کے لئے نامزد کیا۔اس مقصد کے لئے گزشتہ سال بھی ایک اہم میٹنگ منعقد کی گئی تھی، جس میں یونائیٹڈ بزنس گروپ کی کور کمیٹی نے باقاعدہ بحث کرکے ایک امیدوارکا انتخاب کیا۔ اس ایک سال میں فیڈریشن آف چیمبر آف کامرس کی اتنی زبردستی اہمیت بن چکی ہے کہ وزیراعظم پاکستان محمد نوازشریف کسی بھی غیر ملکی دورے پر جانے سے پہلے فیڈریشن کے صدر میاں محمد ادریس سے رابطہ کرکے پوچھتے ہیں کہ اس دورے پر کون کون سے بزنس مینوں کو ساتھ لے جایا جائے۔

گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی یونائیٹڈ بزنس گروپ کا سالانہ عشائیہ لاہور میں منعقد ہوا، جس میں فیڈریشن کے آئندہ امیدواروں کا اعلان کیا گیا۔ یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ فیڈریشن چونکہ تمام پاکستان کے چیمبرز اور ایسوسی ایشنز کی نمائندہ سب سے بڑی تنظیم ہے، اس لئے اس کی صدارت باری باری ہر صوبے کو دی جاتی ہے۔ ایک باری وفاق کو بھی دی جاتی ہے۔ اس سال تنظیم کے سالانہ عشائیہ سے پہلے کور کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا تو افتخار علی ملک نے اتفاق رائے سے مختلف امیدواروں میں سے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے پرانے عہدیدار عبدالرؤف عالم کا نام منتخب کیا اور عشائیہ میں آئندہ 2016ء کی صدارت کے لئے عبدالرؤف کو فیڈریشن کی صدارت کا امیدوار اور لاہور کے ریجنل آفس کے لئے عزیز چن کا نام لینے کے علاوہ سینئر نائب صدر کے لئے سخاوت تواب کا نام لیا گیا، باقی صدور میں محمود شاہ ،سید عاصم وغیرہ کے علاوہ خاتون نائب صدر کے طور پر ساجدہ ذوالفقار کا انتخاب کیا گیا۔سالانہ عشائیہ میں پورے پاکستان سے چیمبرز اور ایسوسی ایشنز کے عہدیداروں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ وہاں موجود تیز بینوں نے تو صرف حاضری دیکھ کر اعلان کر دیا کہ یونائیٹڈ بزنس گروپ کے امیدوار مقابلہ جیت چکے ہیں، لیکن فیڈریشن کے سابق صدر الیاس بلور نے بہت اچھی بات کی کہ کوئی بات نہیں ،اگر ہم اکثریت سے انتخاب جیت لیں گے، لیکن ہم سب نے 29دسمبر کو کراچی پہنچنا ہے، تاکہ 30دسمبر 2015ء کو فیڈریشن میں ووٹ ڈال کر اپنے گروپ کو کلین سویپ کرا سکیں،جس پر حاضرین نے تالیاں بجا کر کہا کہ وہ کراچی ووٹ ڈالنے ضرور آئیں گے۔

عبدالرحیم جانو نے فیڈریشن کی کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ پہلے سالانہ تین لاکھ روپے کاپٹرول خرچ کیاجاتا تھا، لیکن اب صرف تیس ہزار روپے کا پٹرول خرچ ہو رہا ہے۔ پہلے فیڈریشن کے عہدیدار بیرونی دورے فیڈریشن کے خرچ پر کرتے تھے، لیکن اب صدر میاں محمد ادریس سمیت باقی عہدیدار بھی اپنے خرچ پر دورے کرتے ہیں، جس کی وجہ سے فیڈریشن کا خالی خزانہ بھر گیا ہے۔ میاں محمد ادریس کا کمال ہے کہ انہوں نے ایک کروڑ روپے کے خرچ سے سٹیٹ آف دی آرٹ آڈیٹوریم تعمیر کرکے دیا ہے، جہاں فیڈریشن کی میٹنگیں ہوتی ہیں۔ فیڈریشن کے موجودہ صدر میاں محمد ادریس نے اپنی پرفارمنس پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا: ’’آپ لوگوں نے بہت سی امیدوں کے ساتھ مجھے فیڈریشن کا صدر بنایا ہے۔ مجھے بھی خوشی ہو رہی ہے کہ مَیں نے فیڈریشن کا وقار بحال کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کی ہے اور اب ہم اتنے آگے بڑھ چکے ہیں کہ خرم دستگیر جیسے وفاقی وزراء کھل کر کہتے ہیں کہ آپ نے فیڈریشن کی ساکھ بحال کر دی ہے۔

درحقیقت یہ میرا کوئی ذاتی کارنامہ نہیں ہے، بلکہ ٹیم ورک کا نتیجہ ہے۔ مَیں نے صرف یہ کام کیا ہے کہ اپنے لیڈروں افتخار علی ملک اور ایس ایم منیر وغیرہ کے علاوہ یونائیٹڈ بزنس گروپ کی کور کمیٹی کے مشوروں پر عمل کرکے دن رات کوشش کی ہے کہ فیڈریشن جن مقاصد کے لئے قائم کی گئی تھی وہ مقاصد حاصل کئے جائیں۔ ہمارا بنیادی کام صنعت و تجارت کے اجتماعی مسائل کو حکومت کے ساتھ گفت و شنید کرکے حل کروانا ہے۔ اس ضمن میں فیڈریشن کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ ہمارے فیڈرل بورد آف ریونیو کے نمائندے زبیر طفیل ہر مسئلے پر کام کررہے ہیں اور کامیابیاں بھی حاصل کررہے ہیں۔ مجھے آج ہی اسلام آباد سے پیغام آیا ہے کہ آئندہ بجٹ کے لئے آپ تجاویز و سفارشات پیش کرنے کے لئے اپنے نمائندے نامزد کریں۔ ای سی او کی میٹنگ بھی ہو رہی ہے ، اس کے لئے بھی ہمارا نمائندہ مانگا گیا ہے، آڈیٹوریم کا ذکر تو آپ نے سن لیا ہے، اب بورڈ روم بھی تیار ہو گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو کوئی فیڈریشن کے دفتر آتا ہے، وہ حیران رہ جاتا ہے کہ صرف ایک سال میں کتنا بڑا انقلاب برپا ہو چکا ہے۔ انشاء اللہ بزنس کمیونٹی کے تمام مسائل حل کروائیں گے۔

مزید :

کالم -