ڈاکٹر پر15 روز تشدد قتل کے جھوٹے مقدمہ میں جیل بھیج دیا

ڈاکٹر پر15 روز تشدد قتل کے جھوٹے مقدمہ میں جیل بھیج دیا

  

لاہور(اپنے نامہ نگار سے)گوجرانوالہ پولیس کی کارروائی ،مریض چیک کر وانے کے بہانے ڈاکٹر کو لے جا کر تھانے میں بند کر دیا ،15روز تک مختلف جگہوں پرتشدد کا نشانہ بناتے رہے بعد ازاں قتل کے مقدمہ میں ملوث کر کے جیل بھیجا دیا ۔متاثرہ شخص انصاف کے حصول کے لیے آئی جی آفس پہنچ گیا ۔تفصیلا ت کے مطابق لاہور گارڈن فیروز والہ کے رہائشی ڈاکٹر رشید احمد نے آئی جی آفس دی جانے والی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ میرے برادر نسبتی گلفام کے چچا زاد بھائی لقمان کو نامعلوم افراد نے قتل کر دیا تھا جس کا مقدمہ نمبر382/14تھانہ کو ٹ لدھا والہ میں درج ہے ۔میری شادی غیر برادری میں ہو ئی ہے جس کی رنجش پر میری بیگم کی چچی مقتول کی والد ہ مسرت بیگم نے تفتیشی افسر وارث علی کے ساتھ ساز باز کر کے خو د ساختہ کہانی بنا کراپنے بیٹے کے مقدمہ قتل میں مجھے اور میرے برادرنسبتی گلفام کو نامزد کر دیاحالانکہ ہمارااس کے قتل سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی ہماری اس کے ساتھ کسی قسم کی دشمنی تھی۔14مارچ2015کومیں اپنے گھر لاہور گارڈن نزد فیض پور انٹر چینج فروز والہ میں مو جود تھا کہ دروازے پر دستک ہو ئی میرے ماموں نے دروازہ کھو لا تو باہر کھڑے افراد نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب کو بھیجیں ہم نے مریض چیک کر وانا ہے ۔جب میں باہر گیا تو ملزمان نے مجھے اسلحہ کے زور پر اغوا کر لیا اور تھانہ کو ٹ لدھا والہ گو جرانوالہ لے گئے۔پولیس ملازمین مجھے مختلف نامعلوم مقامات پر لے جا کر 15دن تک تشدد کر تے رہے جس سے میر ے منہ سے خون آنے لگا ۔ بعد ازاں مجھے میرے سالے کے کزن لقمان کے قتل کے مقدمہ میں نامزد کر کے جیل بھیج دیا جس کا مجھ علم تک نہ تھا۔ میرے ساتھ سخت زیادتی ہو ئی ہے ملزمان کے خلاف کار روائی کر کے مجھے انصاف دلا یا جا ئے۔

مزید :

علاقائی -