لگثری اشیاء پر 40ارب روپے کا ٹیکس جون سے قبل نیا ’’بجٹ ہے‘‘ ،سیاسی و مذہبی رہنماء

لگثری اشیاء پر 40ارب روپے کا ٹیکس جون سے قبل نیا ’’بجٹ ہے‘‘ ،سیاسی و مذہبی ...

  

لاہور( رپورٹنگ ٹیم) حکومت کی جانب سے 313لگژری درآمدی اشیاء پر 40ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانے کے اقدام کو اپوزیشن کی سیاسی و مذہبی جماعتوں ‘ ٹیکس بار کے وکلاء اور گھریلو خواتین اور عوامی حلقوں نے اسے حکومت کی طرف سے ماہ جون سے قبل ہی ایک نیا بجٹ قر ار دیدیا ہے اور کہا ہے اگر حکومت کا بس چلے تو وہ عوام کے سانس لینے پر بھی ٹیکس لگا دے‘ حکومت ہر تیسرے مہینے ’’ منی بجٹ پیش‘‘ کررہی ہے اور اشیائے خورد و نوش پر مزید ٹیکس لگا ئے جارہے ہیں اور یہ نئے ٹیکس پارلیمنٹ کو نظرانداز کر کے لگائے جا ر ہے ہیں اپنی ناکامیوں کا حل حکومت ہر چیز پر ٹیکس لگا کر حل کرنے کی ناکام کوشش کررہی ہے‘اس امر کا اظہار انہوں نے ’’روز نامہ پاکستان کے مقبول عام سلسلے ایشو آف دی ڈے‘‘ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا ۔اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر تجارت ہمایوں اختر خان نے کہا کہ در حقیقت یہ منی نہیں ایک بڑا بجٹ ہے جو نئے سال سے چھ ماہ قبل ہی سامنے لایا گیا ہے حکومت اپنی آمدن بڑھانے کے لئے آئے روز ٹیکس عائد کرتی ہے اس کا براہ راست خمیازہ غریب آدمی کو بھگتنا پڑے گا اور لگتا ہے کہ حکومت ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے دباؤ میں آکر اپنی عوام کو قربانی کا بکرا بنا رہی ہے اور عوام سے دو وقت کی روٹی بھی چھیننے پر عمل پیرا ہے ۔تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اسد عمر نے کہا کہ حکومت کی طرف سے تین سو تیرا لگژری درآمدی اشیاء پر ٹیکس نہیں بلکہ براہ راست مہنگائی بم چلایا گیا ہے حکومت عوام کا خون نچوڑنے کے لئے کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی اس درآمدی اشیاء پر ٹیکس کے نام پر عوام پر چلائے گئے مہنگائی بم کو مسترد کرتے ہیں اور اس کے خلاف قومی اسمبلی میں قرار داد جمع کروائیں گے اور سڑکوں پر بھی آئیں گے اور اس مسلے ء پر حکومت کا محاسبہ بھی کریں گے لیکن عوام کو بھی جاگنا ہو گا اور حکومت کا اصل چہرہ پہچاننا ہو گا ۔جماعت اسلامی کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل فرید احمد پراچہ نے کہا کہ حکومت آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے ساتھ ساتھ اپنے ناکام وزیر تجارت کے ہاتھوں میں نہ کھیلے ایسے منی بجٹ کو مسترد کرتے ہیں اس کا براہ راست اثر عام آدمی پر پڑے گا چاکلیٹ ہر غریب امیر کا بچہ کھاتا ہے اسحاق ڈار کا یہ کہنا کہ چاکلیٹ صرف امیروں کے بچے کھاتے ہیں اس میں صداقت نہیں ہے اسحاق دار کو حقیقت کا علم نہیں ہے چاکلیٹ کھانا صرف ان کے بچوں کا ہی حق نہیں ہے بلکہ غریب کے بچے کا بھی حق ہے وہ اپنی آمدن بڑھانے کے لئے آئے ورز نئے ٹیکس لگا رہے ہیں۔مسلم لیگ (ق) کے رہنماؤں بشارت راجہ اور چودھری ظہیرالدین نے کہا کہ حکومت ہر محاز پر ناکام ہو چکی ہے مارکیٹ میں کھانے پینے سمیت کسی چیز کی قیمت بھی یکساں نہیں ہے آئے ورز ادویات زرعی سازو سامان اشیائے خوردو نوش سبزیوں و پھلوں کی قیمتیں بڑھا دی جاتی ہیں لگژری درآمدی اشیاء پر ٹیکس عائد کرنا تو ایک بہانہ ہے اصل میں ہر چیز پر ٹیکس لگ جانے سے قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں لوگ خود کشیاں کررہے ہیں کسی کو نہ تحفظ حاصل ہے نہ انصاف اور نہ ہی روز گار حاصل ہے عوام باہر نکلیں اور نا اہل حکمرانوں کو نکال باہر کریں ۔ پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی حکومت کے اس نئے بجٹ کو مسترد کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ اس کو فی الفور واپس لیا جائے پیپلز پارٹی غریبوں کی آواز کو بلند کرے گی اور اگر احتجاج بھی کرنا پڑا تو کرے گی حکمرانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل حل کریں۔عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ حکومت کا اگر بس چلے تو وہ عوام کے سانس لینے پر بھی پابندی لگا دے اسی لئے ہم عوام سے کہتے ہیں کہ وہ اپنے حق کی آواز کو بلند کرنے کے لئے ہمارا ساتھ دیں ہماری یہی کوشش ہے کہ نا اہل حکمرانوں سے عوام کی جان چھڑادیں مہنگائی بے روز گاری اور لا قانونیت کے خاتمے کے لئے حکمرانوں کو اقتدار سے الگ کرنا ضروری ہے۔ایم کیو ایم کے رہنما حیدر عباس رضوی کا کہنا تھا کہ ہم حکومت کے ان نئے ٹیکسوں کو نہیں مانتے حکومت اسمبلی سے بالا بالا عوام پر ٹیکس لگا رہی ہے اور منتخب نمائندوں کو کسی بھی مرحلے میں اعتماد میں لینا مناسب نہیں سمجھتی اگر نئے ٹیکس لگانا ناگزیر تھے تو پھر اسمبلی سے ان کی منظوری کیوں نہیں لی جاتی۔اے این پی کے غلام احمد بلور نے کہا کہ حکومت کو ایسے اقدامات کرنے چاہئے کہ جن سے عوام کو ریلیف ملے نہ کہ ان کی زندہ رہنے کی رہی سہی کسر بھی دم توڑ جائے حکومت ہر تیسرے ماہ ٹیکس لگا رہی ہے شائد ہی کوئی چیز ایسی ہو کہ جس پر حکومت کی طرف سے کوئی نیا ٹیکس نہ لگایا گیا ہو۔حکمران جماعت کے پارلیمانی سیکرٹری برائے انفارمیشن رانا ارشد کا کہنا تھا کہ ان نئے ٹیکسوں کا عوام پر کوئی اثر نہیں پڑے گا بلکہ یہ افورٹ کرنے والے خاص طبقے پر لگایا گیا ہے اپوزیشن بلاوجہ اس پر شور مچا رہی ہے اور عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔

مزید :

صفحہ اول -