بیٹا جعلی مقابلے میں مارا گیا ،بیٹی اغوا بد اخلاقی کا شکار بیوہ انصاف کیلئے در بدر ٹھوکریں کھانے پر مجبور

بیٹا جعلی مقابلے میں مارا گیا ،بیٹی اغوا بد اخلاقی کا شکار بیوہ انصاف کیلئے ...

  

لاہور(کامران مغل )گھر کی رجسٹری نام نہ کرنے پر عمر بٹ نے اپنے دیگرساتھیوں سے مل کر گھر میں گھس کرپہلے برہنہ کر کے تشدد کیا،پھر4پولیس اہلکاروں نے اسے اغواء کرکے رسیوں سے باندھ کرمبینہ طور پربداخلاقی کا نشانہ بنایا ،بعدازاں اغوا کے جھوٹے مقدمہ میں ملوث کرکے جیل بجھواکرمیرے بیٹے کوبھی مبینہ پولیس مقابلہ میں پار کردیاجبکہ میری بیٹی کواغوا کرلیاگیاجس کا آج تک کچھ پتہ نہیں چل سکا ہے ۔مذکورہ واقعہ میں مبینہ طور پربااثرپولیس ایک پولیس انسپکٹر ،سب انسپکٹراور9پولیس اہلکاروکے علاوہ 6افراد ملوث ہیں ،جن کے خلاف مقدمہ کے اندراج کے لئے دھکے کھارہی ہوں،بیوہ ہوں اورگزشتہ 7سالوں سے سیشن عدالت میں قتل کا استغاثہ دائر کررکھا ہے جس کا اب تک فیصلہ نہیں ہوسکا ہے ،مذکورہ استغاثہ کی مجسٹریٹ کی جانب سے انکوائری رپورٹ نہ ملنے پر ایڈیشنل سیشن جج نے بھی دائر قتل کااستغاثہ داخل دفتر کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی ہے ۔پاکستان کی جانب سے ’’ایک دن ایک عدالت ‘‘کے سلسلے میں کئے جانے والے عدالتی سروے کے دوران اپنے ساتھ ہونے والے ظلم وستم کی کہانی سناتے ہوئے دھاڑیں مار کررونے لگی ، متاثرہ گوجرانوالہ کی رہائشی متاثرہ بیوہ خاتون صغراں بی بی نے اپنے وکلاء عرفان صادق تارڑ، خاور محبوب ملک ،سلمان فاروق اور وقار احمد کی وساطت سے دائر قتل کے استغاثہ میں موقف اختیار کیا کہ 18مارچ 2008ء کو عمر بٹ ، عادل بٹ ،عابد بٹ ،عتیق بٹ ، امجد بٹ ،نیکہ بٹ وغیرہ نے سائلہ کو اس کے بھائی محمد طارق کے گھر سے اغواء کیا او ر تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے بازار میں لے گئے ،بعدازاں سائلہ کو ملزمان نامعلوم مقام پر لے گئے جہاں دھمکی دی گئی کہ اپنے مکان کی رجسٹری ہمارے نام کردو ،وگرنہ اپنے بیٹے محسن حسین کی نعش وصول کرنے کے لئے تیار ہوجاؤ ،جس پر سائلہ نے اپنی والدہ کو کہا کہ انہیں مکان کی رجسٹری دے دوتاکہ وہ اپنے بیٹے کی جان بچا سکے ۔ 19مارچ 2008ء کو سائلہ اپنی والدہ کے گھر جانے لگی تھی اور سائلہ کی 4سالہ بیٹی فاطمہ بھی اس کے ہمراہ تھی ،کہ اسی اثناء میں 6سے7نامعلوم افراد گھر میں گھس آئے جن میں سے 4مسلح آتشیں اسلحہ تھے ،انہوں نے آتے ہی سائلہ کو تشدد کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اس نے ایک بچہ اغواء کیا ہے جبکہ میں نے انہیں بتایا کہ میرے بیٹے کو عمر بٹ اورعادل بٹ وغیرہ نے اغواء کیا ہے اور مجھے فون پر قتل کی دھمکیاں بھی دی جارہی ہیں تاہم سائلہ تشدد کے باعث بے ہوش ہوگئی تھی اور جب اسے ہوش آیا تو وہ برہنہ تھی جبکہ اسکی بیٹی فاطمہ بھی سار واقع دیکھ کر بے ہوشی ہوگئی تھی ،بعدازاں مذکورہ افراد نے گھر سے قیمتی سامان اٹھایا اور اسے بھی گاڑی میں اپنے ساتھ لے گئے اور کہا کہ تم نے بچہ اغواء کیا ہے میں نے انہیں بتایا کہ میں نے کوئی بچہ اغواء نہیں کیا ہے بلکہ میرا بیٹا محسن حسین ہے جسے عادل بٹ وغیرہ مبینہ طور پر اغواء کرکے لے گئے ہیں اور مجھے فون پر قتل کرنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں ۔متاثرہ خاتون نے الزام عائد کیا ہے کہ 2008ء میں اس وقت تھانہ شاہدرہ میں تعینات انسپکٹر انوسٹی گیشن ذوالفقار نے عادل بٹ وغیرہ کے ہمراہ اسے ایک سی این جی پمپ پر لے آئے جہاں عادل بٹ نے مذکورہ پولیس اہلکار وں کے سامنے سائلہ کو غلیظ گالیاں دیں اور کہا کہ اگر تم نے اپنے بیٹے کا نام بھی لیا تو تمہیں جان سے مار دیں گے ،بعدازاں مبینہ طور پر پولیس اہلکار محمد اکبر ، علی رضا، اشفاق اور قاضی الطاف اسے بداخلاقی کا نشانہ بناتے رہے جس کے بعد سائلہ کے خلاف جھوٹا مقدمہ بنا کر جیل بجھوا دیا گیا ،متاثرہ خاتوں نے الزام عائد کیا ہے کہ جیل میں سائلہ کو پتہ چلا کہ عادل بٹ وغیرہ نے انسپکٹر ذوالفقار کی ملکی بھگت سے اس کے بیٹے محسن حسین کو اغواء کیا ،اسے تشدد کا نشانہ بنایا اور بعد میں مبینہ جعلی پولیس مقابلے میں ہلاک کردیا ہے ،اسی دوران جیل میں سائلہ سے زبردستی مختار نامہ پر دستخط کروالئے گئے اور میرا مکان 12لاکھ روپے میں فروخت کردیا ،متاثرہ خاتون کا کہنا ہے اس وقوعہ سے 3سال قبل اس کی ایک بیٹی شمائلہ مشتاق کو عادل بٹ وغیرہ نے پولیس کی ملی بھگت سے اغواء کیا تھاجس پر اس کا بیٹا محسن حسین اپنی بہن کی بازیابی کے لئے آواز بلند کرتا تھا تاہم اسی پاداش میں مذکورہ افراد نے اس کے بیٹے کو قتل کیا ہے جبکہ اس کی بیٹی کا بھی آج تک کچھ پتہ نہیں چل سکا ہے ۔متاثرہ خاتون نے عدالت میں عمر بٹ ، عادل بٹ ، عتیق بٹ ، امجد بٹ ،نیکہ بٹ ،شہباز شیخ جبکہ اس وقت کے ذوالقار علی انسپکٹر، محمد یعقوب سب انسپکٹر ،محمد اسلم اے ایس آئی ،محمد اکبر ہیڈ کانسٹیبل ، علی رضا کانسٹیبل، ناصر ،ثناء اللہ، نسیم احمد، فلک شیر ،سہیل اختر اورعامر روحیل کانسٹیبل کے خلاف قتل کا استغاثہ دائر کررکھا ہے ۔مذکورہ قتل کے دائر استغاثہ میں خاتون کی جانب سے عدالت میں پیش ہونے وکلاء نے بتایا کہ متاثرہ خاتون کے ساتھ بہت ظلم اورنا انصافی ہوئی ہے اور آج تک وہ انصاف کے لئے عدالتوں میں دھکے کھارہی ہے اور اسے انصاف نہیں مل سکا ہے جس پر جتنا بھی افسوس کیا جائے کم ہے۔

مزید :

صفحہ اول -