خاتون کے گھر پر قبضے میں ملوث ملزم وکیل باپ بیٹا 7دسمبر کو طلب

خاتون کے گھر پر قبضے میں ملوث ملزم وکیل باپ بیٹا 7دسمبر کو طلب

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )سپریم کورٹ نے نیومسلم ٹاؤن کی رہائشی خاتون کے گھر پر قبضے میں ملوث ملزم وکیل باپ بیٹے کو 7دسمبر کے لئے طلب کرتے ہوئے قرار دیا کہ محکمہ اینٹی کرپشن نے کچھ نہیں کرنا ہوتا، صرف کاغذی کارروائیاں کی جاتی ہیں۔سپریم کورٹ لاہوررجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کنول رشید کے گھر پر قبضے کے ملزم ایڈووکیٹ تصدق حسین اعوان اور اسکے بیٹے عبداللہ ایڈووکیٹ کی ضمانتیں منسوخ کرنے کی درخواست پرسماعت کی، خاتون نے کمرہ عدالت میں خود دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ملزموں نے جعلی دستاویزات تیار کر کے نیومسلم ٹاؤن میں اسکے ڈیڑھ کنال کے گھر پر قبضہ کر لیا جس پر اینٹی کرپشن نے مقدمہ درج کیا تاہم اینٹی کرپشن عدالت اور لاہور ہائیکورٹ نے ٹھوس ثبوتوں اور شہادتوں کے باوجود ملزموں کی ضمانتیں منظور کر لیں جس کی وجہ سے وہ چار برسوں سے گھر کا قبضہ واگزار کرانے کیلئے دھکے کھا رہی ہے، ڈپٹی ڈائریکٹر لیگل اینٹی کرپشن رانا احسن عزیز نے بنچ کو بتایا کہ مقدمے کا چالان متعلقہ عدالت میں پیش کردیا گیا ہے اور ٹرائل جاری ہے جس پر بنچ کے رکن جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے کچھ نہیں کرنا ہوتا، صرف کاغذی کارروائیاں کی جاتی ہیں، فاضل بنچ نے دلائل سننے اور ریکارڈ دیکھنے کے بعد ملزم باپ بیٹے کو سات دسمبر کیلئے طلب لیا، عدالت نے محکمہ پراسکیوشن کو بھی پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -