ڈانس اکیڈمیاں اور نام نہاد کلچر گروپس، نو عمر لڑکیوں ک سمگلنگ کے مکروہ دھندے میں ملوث

ڈانس اکیڈمیاں اور نام نہاد کلچر گروپس، نو عمر لڑکیوں ک سمگلنگ کے مکروہ دھندے ...

  

لاہور( رپورٹ: محمد یو نس با ٹھ)صو با ئی دا رالحکو مت میں جا بجا کھلی ڈا نس اکیڈ میا ں اور نا م نہا د کلچر ل گروپس لڑ کیو ں کی سمگلنگ کے مکرو ہ دھند ے میں ملو ث ہیں۔شوبز کے گلیمر سے متا ثر چھو ٹے بڑے گھرا نے کی لڑ کیا ں شہر ت کی خا طر ان گروپو ں کی چکنی چپٹی با تو ں میں آکر اپنا سب کچھ گنوا بیٹھتی ہیں ۔شہر ت کا لا لچ پہلے مر حلے میں بیرون ملک کی سیر ،اور دوسر ے فیز میں دو لت کی ہو س میں تبد یل ہو کر ان سمگلڈ لڑ کیو ں کا مستقبل تبا ہ کر نے کا با عث بن رہا ہے ۔لا کھو ں رو پے ما ہا نہ کما ئی کا سبز با غ دکھا کر انھیں کہیں کا نہیں چھوڑا جا تا ۔ہیر وئن بنا نے کا جھا نسہ دیکر اکثر اوقات ان اکیڈ میو ں کے ڈائر یکٹرانھیں خود بھی بے آبرو کر دیتے ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق صوبائی دارالحکومت میں پانچ سو سے زائد ڈانس اکیڈمیاں جگہ جگہ کھلی ہوئی ہیں ان اکیڈمیوں میں مختلف شہروں سے جھانسہ دے کر نوعمر لڑکیوں کوبلوایا جاتا ہے جہاں انہیں ماڈل گرل ،ہیروئن ،اداکارائیں بنانے کا سہانہ خواب دکھا کر آخر میں یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ اگر آپ بیرون ملک جائیں گی تو وہاں روزگار کے بہتر مواقع ہیں پھر ان لڑکیوں کے پاسپورٹ بنوا کر مختلف ممالک دبئی ،سری لنکا ،تھائی لینڈ ،تائیوان ،ملیشیاء ہانگ کانگ اور دیگر ممالک میں بھجوا کر مرضی کے کام کروائے جاتے ہیں بہت سی لڑکیاں ان کی چکنی چپٹی باتوں میں آ کر اپنا سب کچھ گنوا بیٹھتی ہیں ۔ذرائع کے مطابق ا ن اکیڈمیوں نے ملتان روڈ ،اقبال ٹاؤن ،ٹبی سٹی ،سبزہ زار ،مرغزار کالونی ،سمن آباد ،شاہ نور سٹوڈیو ،ڈیفنس ،گلبرگ ،ساندہ کے علاقوں میں مکرہ دھندہ شروع کیے ہوئے ہیں ۔ذرائع کے مطابق ملتان روڈ کے قریب سید پور کے علاقہ میں جبار سمراٹ اکیڈمی،حیدر سمراٹ ڈانس اکیڈمی ،ندیم سمراٹ اکیڈمی ،متھن ڈانس اکیڈمی ،نکا ڈانس اکیڈمی ،سمن آباد میں پپو ڈانس اکیڈمی ،شمع ڈانس اکیڈمی ،نیلو ڈانس اکیڈمی ،فرح ڈانس اکیڈمی سبزہ زار میں عجب ڈانس اکیڈمی ،شوبز ڈانس اکیدمی ،گل ڈانس اکیڈمی ،گلبرگ میں شانو ڈانس اکیڈمی ،مہ پارا ڈانس اکیڈمی ،رفعت اکیڈمی میں دور دراز کے علاقوں سے آنے والی سادہ لوح لڑکیوں کو ڈانس سکھانے اور شوبز میں کام دلوانے کا جھانسہ دیکر بڑے پیمانے پر جسم فروشی کروائی جاتی ہے ۔ذرائع کے مطابق خوبصورت اور کم سن لڑکیوں کو بیرون ملک بھی بھجوایا جاتا ہے۔جس کے عوض یہ اکیڈمیاں لاکھوں میں کھیل رہی ہیں ۔ان اکیڈمیوں سے بھاگنے والی لڑکیوں نے اپنا نام نہ طاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ اکیڈمی مالکان کے ہاتھ اعلی افسران تک ملے ہوتے ہیں اگر کوئی لڑکی مالکان کا کہنا نہ مانے تو اسے زبردست تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور اکیڈمی میں بند کرکے کئی کئی دن بھوکا پیاسا بھی رکھا جاتا ہے۔ایک لڑکی نے بتایا کہ بیرون ملک جانے والی لڑکیوں کو وہاں پر مختلف ہوٹلوں میں ڈانس کے بہانے دھندے پر لگا دیا جاتا ہے بیرون ملک جاتے ہی ایجنٹ ان سے پاسپورٹ اور دیگر کاغذات لے لیتے ہیں جس کے باعث یہ لڑکیاں ان کا ہر کام کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں ۔جبکہ لڑکیوں کوڈانس پارٹیوں میں کام کرنے کا معاوضہ انتہائی کم ملتا ہے جس کے باعث وہ جسم فروشی پر مجبور ہوتی ہیں ۔حکومت کو چاہیے کہ وہ ڈانس اکیڈمیوں پر چیک اینڈ بیلنس رکھے تاکہ شوبز اور ڈانس کے بہانے کسی لڑکی کی عزت خراب نہ ہو ۔

مزید :

صفحہ آخر -