شورکوٹ، ٹرین ڈرائیور گپوں میں مصروف، کراچی ایکسپریش کا انجن پٹری سے اتر گیا

شورکوٹ، ٹرین ڈرائیور گپوں میں مصروف، کراچی ایکسپریش کا انجن پٹری سے اتر گیا

  

شورکوٹ چھاؤنی(نامہ نگار) ٹرینیں آپس میں ٹکرانے سے بال بال بچ گئیں کراچی جانے والی ٹرین کا انجن اور ایک بوگی پٹری سے اُتر گئی۔تفصیلات کے مطابق کراچی سے لاہور جانے والی 43اپ شالیمار ایکسپریس نا ن سٹاپ اور لاہور سے کراچی جانے والی 28ڈاؤن شالیمار ایکسپریس نا ن سٹاپ کا کراس تھا۔لاہور جانے والی شالیمار ایکسپریس کو تھرو کر دیا گیا جبکہ کراچی جانے والی ٹرین کو رکنا تھا اسکا ڈرائیور مختار احمد اور فائر مین مظہر علی غوری آپس میں باتوں میں مصروف ہو گئے اِسی دوران ٹرین سٹیشن سے گزری کیبن مین نے جلدی میں سرخ جھنڈی بھی دی لیکن اِسی دوران ایمر جنسی کانٹے پر جانے پر انجن اور ایک بوگی پٹری سے اآتر گئی لیکن خوش قسمتی سے ٹرین کے تمام مسافر محفوظ رہے ۔ڈرائیور مختار احمد معمولی زخمی ہوا جس کو ریلوے ہسپتال داخل کر دیا گیا ۔حادثہ کی اطلاع ملتے ہی ڈی ،ایس ملتان ظفر اللہ دیگر افسروں کے ہمراہ پہنچ گئے ادھر خانیوال اور فیصل آباد سے ریلیف انجن بھی پہنچ گئے تاہم 2گھنٹے 30منٹ کے بعد شالیمار ایکسپریس کراچی کیلئے روانہ کر دی۔ریلیف ٹرین نے بوگی اور انجن کو دوبارہ اُٹھا کر پٹری پر رکھ کر ریلوے ٹریک بحال کر دیا ۔دوسری طرف ریلوے اسٹیشن پر کھانے پینے کے سٹال نہ ہونے کی وجہ سے مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرناپڑا جبکہ سٹیشن ماسٹر مہر حنیف حادثہ کے ایک گھنٹہ بعد پہنچے ۔

مزید :

صفحہ آخر -