کیا جمہوریت کو گالی دوں؟

کیا جمہوریت کو گالی دوں؟
کیا جمہوریت کو گالی دوں؟

  

یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ناجائز منافع خوری کرنے والوں کو پکڑے اور اگر حکومت خود ہی ناجائز منافع خور ہو تو اسے کون پکڑے۔ خیال تھا کہ پٹرول چار سے پانچ روپے سستا ہو گا کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں 15فیصد کمی ہوئی، بتایا گیا کہ اوگرا کی طرف سے معمول کے مطابق عالمی مارکیٹ میں تیل کی گرتی قیمتوں کو سامنے رکھتے ہوئے کمی کے لئے جو تجاویز تیار کی گئی تھیں ا ن کے مطابق مجموعی طور پر چار سے پانچ روپے فی لیٹر کم ہونا تھے، افسوس کامقام ہے کہ وزارت خزانہ نے پچھلے ماہ بھی قیمت اتنی زیادہ کم کرنے کی تجویز قبول نہیں کی تھی لہذادوسری سمری تیار کی گئی، جس کے مطابق ایک روپے پانچ پیسے فی لیٹر کم کرنے کی تجویز دی گئی ،وزارت خزانہ نے اسے بھی تسلیم نہیں کیا اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں کے تعین کے فارمولے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے دو تین سے ماہ میں تقریباً30 ارب روپے عوا م کی جیبوں سے نکال لئے ہیں اور یہاں نرخوں میں کمی نہ کرنے سے سرکاری ادارہ پی ایس او بھی براہ راست مستفید ہوا اور اسے پانچ ارب ڈالر کا منافع ہوگیا۔ اس پورے قصے میں خسارے میں صرف عوام رہے، وہ عوام جو مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو ہر انتخاب میں کامیابی پر کامیابی دیتے چلے جارہے ہیں۔

مجھے اصل خدشہ یہ ہے کہ ابھی کچھ عرصہ بعداگر قیمتوں میں اضافہ ہوا تو اسے براہ راست عوا م تک منتقل کر دیا جائے گا، جب پٹرول مہنگا کئے جانے پر احتجاج ہو گا تو معصوم سا منہ بنا کے کہہ دیا جائے گا کہ حکومت کیا کرے، پٹرول تو عالمی منڈی میں مہنگا ہوا ہے۔ پاکستان عالمی مارکیٹ سے عرب لائٹ خام تیل خریدتا ہے، 30اکتوبر کو مارکیٹ میں اس کی فی بیرل قیمت 45 ڈالر 70 سینٹ تھی، جو نومبر کے آخری ہفتے تک کم ہوتے ہوتے 38 ڈالر 70 سینٹ فی بیرل رہ گئی، سٹیٹ بینک کے مطابق ایک سال کے دوران عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت بیالیس فیصد سے زیاد ہ کم ہوچکی، جبکہ پاکستان میں اس دوران پٹرول کی قیمت صرف 18.9 فیصد اور ڈیزل کی قیمت صرف 17 فیصد کم کی گئی ہے۔ ابھی میں پٹرولیم مصنوعات کے ذریعے حکومت کی ناجائز منافع خوری کی کہانی پر غور ہی کر رہا تھا کہ اخبارات کی شہ سرخیوں میں شائع ہوا کہ سگریٹ،گاڑیوں، مشینری اور کھانے پینے کی درآمدی چیزوں سمیت ساڑھے تین سو اشیاء کو مہنگا کر دیا گیا ہے۔ اسحاق ڈار نے ائیر کنڈیشنروں، ریفریجریٹروں اور اور مائیکرو ویو اوونوں ہی نہیں دہی ، بسکٹ، شہد، پنیر اور چاکلیٹ جیسی اشیاء پر بھی پانچ سے دس فیصد تک ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کر دی ہے۔ وجہ اس کی یہ بیان کی ہے کہ حکومت آپریشن ضربِ عضب کے اخراجات پورے کرنا اور متاثرین کی امداد کرنا چاہتی ہے، اس کی وجہ سے سینکڑوں اشیاء مہنگی کی جا رہی ہیں۔ یہاں میرا پہلا سوال یہ ہے کہ ابھی حال ہی میں حکومت نے کسانوں کو کئی سو ارب روپوں کا پیکیج دیا ہے حالانکہ چاول سمیت دیگر فصلوں میں نقصان کی ذمہ دار زراعت، تجارت اور خزانہ جیسی وزارتیں ہیں۔ ان کی بیڈ گورننس کی وجہ سے چاول کا کاشتکار خاص طور پر متاثر ہوا۔ وزیراعظم نے اس نااہلی اور بدانتظامی پر متعلقہ وزارتوں کا احتساب کرنے کی بجائے سینکڑوں ارب روپے بلدیاتی انتخابات میں حمایت حاصل کرنے کے لئے بانٹنے شروع کر دئیے۔ ا س طرح حکومت نے اپنی نااہلی کو بھی اپنے سیاسی فائدے کے لئے استعمال کیا۔ میرا دوسرا سوال یہ ہے کہ جب کسانوں کے لئے پیکیج دیا جا سکتا ہے تو پھر آپریشن ضربِ عضب کے متاثرین کے لئے بجٹ سے40ارب روپے کیوں نہیں نکالے جا سکتے۔ میراتیسرا سوال یہ ہے کہ اگر حکومت کو عالمی منڈی میں خام تیل سستا ہونے کی وجہ سے دو سے تین ماہ کے دوران جو 30 سے 40ارب روپوں کا فائدہ ہوا ہے وہ اس رقم کو آپریشن ضربِ عضب کے اخراجات اور متاثرین کی امداد کے لئے کیوں استعمال نہیں کرتی۔ چوتھا سوال یہ ہے کہ حکومت قرض پر قرض لینے کی بجائے امیروں سے براہ راست ٹیکس کی وصولی کے نظا م کوکیوں بہتر نہیں بناتی ۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتو ں میں کمی قدرت کی طرف سے حکومت کے لئے ایک غیبی مدد تھی، مگر یوں لگ رہا ہے کہ وہ غائب ہو گئی ہے۔ اسحاق ڈار کہتے ہیں کہ قیمتوں میں اس اضافے سے عام آدمی متاثر نہیں ہوگا، کیونکہ یہ ریگولیٹری ڈیوٹی درآمدی اشیاء پر عائد کی گئی ہے۔ کیا اسحاق ڈار یہ نہیں جانتے کہ بعض نئی اور استعمال شدہ درآمدی اشیاء مقامی اشیاء سے سستی ہوتی ہیں۔ وہ دعوے کرتے ہیں کہ ملکی معیشت مضبوط ہور ہی ہے، ہم اسے تسلیم کرلیتے اگر قرضوں میں کمی ہورہی ہوتی، وہ خود تسلیم کرتے ہیں کہ ہر برس قرضوں میں دو ہزار چھ سو ارب روپے اضافہ ہو رہا ہے۔

یہ بہت برس پہلے کی بات نہیں جب سال میں ایک مرتبہ قوم پر مہنگائی کا سکائی لیب گرایا جاتا تھا، مگر اب تو ہر مہینے یہی کام ہوتا ہے۔حکومت نے شروع شروع میں ڈالر کی قیمت کم کر کے بہت واہ واہ کروائی تھی، جب میں یہ الفاظ تحریر کر رہا ہوں تو ملک کی گرتی اور معاشی صورتِ حال اور بڑھتے ہوئے قرضوں کے باعث ایک ڈالر بھی108روپوں تک پہنچ رہا ہے۔ حکومتی پالیسیاں روپے کی قدر میں مسلسل کمی کر رہی ہیں۔ بینکوں کے ذریعے لین دین پر ٹیکس عائد ہونے کے بعد تاجر آپس میں ڈالر کے ذریعے براہ راست لین دین کر رہے ہیں۔ پچھلے بجٹ میں حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں بھی مناسب اضافہ نہیں کیا تھا جس کی وجہ تنخواہ دار طبقہ مسائل کا شکار ہوتا چلا جا رہا ہے۔ کیا یہ امر افسوسناک نہیں کہ حکومت کے مقابلے میں عوام کے مفادات کی محافظ ہونے کی دعویدار اپوزیشن جماعتیں انتخابات میں مبینہ دھاندلی جیسے معاملات پر تو احتجاج کر رہی ہیں، مگر ٹیکسوں میں اضافے اور پٹرول مہنگا رکھے جانے پر کسی دھرنے اور کسی مارچ کی دھمکی نہیں دے رہیں۔ انتخابی معاملات سیاسی جماعتوں جبکہ مہنگائی کی لہر عام آدمی کا معاملہ ہے اور عام آدمی کی ترجمانی کے لئے فی الحال کوئی بھی دستیاب نہیں ہے۔ مجھے افسوس کے ساتھ کہنا ہے کہ اگر حکومت نااہل ہے تو اپوزیشن اس سے بھی زیادہ نااہل ہے۔ جب ہم اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات میں حکمران جماعت کے حق میں نسبتاً بہتر نتائج کو دیکھتے ہیں تو کہہ سکتے ہیں کہ عوام نے دو نااہلوں میں نسبتاً کم نااہل کا چناؤ کیا اور پنجاب میں آزاد امیدواروں کی کامیابی سیاسی جماعتوں کی بہ حیثیت مجموعی ناکامی کو ظاہر کر رہی ہے۔ مَیں نے اسی سوال سے اپنے کالم کاآغاز کیا تھا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ناجائز منافع خوروں کوپکڑے اگر وہ خود ناجائزمنافع خور بن جائے تواسے کون پکڑے، ہاں، اپوزیشن اس کا عوامی اور سیاسی سطح پر احتساب کر سکتی ہے ۔جب اپوزیشن نااہل اور ناکام ہو تو کیا عوام کی جیب پر ڈالے جانے والے اس ڈاکے پر جمہوریت کو گالی دی جائے؟

مزید :

کالم -