بچوں کی سیاست

بچوں کی سیاست
بچوں کی سیاست

  

کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے گٹھ جوڑ کے دور میں کھیلوں کی سرگرمیاں ایک خبر بن کر رہ گئی ہیں۔ بچوں کو کمپیوٹر ٹیبل سے کھیل کے گراؤنڈ میں لانا آسان کام نہیں۔ مون لائٹ سکول لاہور کے ادیب جاودانی یہ مشکل کام ہر سال کرتے ہیں۔ مجھ ایسے قلم مزدور کو بھی بلا لیتے ہیں۔ نومبر کی آخری اتوار کو انہوں نے گورنمنٹ دیال سنگھ کالج لاہور کی سپورٹس گراؤنڈ میں اپنے سکول کی 35 ویں سالانہ کھیلوں کا اہتمام کیا جس میں طلبہ و طالبات نے اپنی جسمانی مہارتوں کا نہایت شاندار مظاہرہ کیا۔

جاودانی صاحب سینئر کالم نگار ہیں۔ نجی تعلیمی اداروں کی ایسوسی ایشن چلاتے ہیں۔ اپنی آواز دبنگ لہجے میں حکمرانوں کی سماعتوں تک پہنچاتے ہیں۔ اپنی بات منوانا جانتے ہیں۔ میں مون ڈائجسٹ‘ مون لائٹ سکول اور کالم نگاری کے حوالے سے انہیں بہت پہلے سے جانتا ہوں‘ لیکن ان سے میرا اصل تعارف 2004ء میں ہوا جب ہم دونوں ایک کانفرنس میں شرکت کیلئے بھارت کی ریاست ہریانہ گئے تھے۔ میں چونکہ ان سے پہلے ایک بار بھارت جاچکا تھا اس لیے انہوں نے مروتاً مجھے اپنا ’’رہبر و راہ نما‘‘ قرار دے دیا تھا‘ لیکن حقیقت کچھ اور تھی۔ ہم دونوں ایک دوسرے کے رہبر و راہنما تھے۔ میں نے ان کے تجربات زندگی سے سیکھا اور میں نے انہیں اجنبی اور دشمن ملک میں پھونک پھونک کر قدم رکھنے کا سبق دیا۔ جاودانی صاحب کی شخصیت کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ اہل اقتدار سے برابری کی سطح پر تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتے ہیں۔ اپنے جائز مطالبات ان کے سامنے رکھتے ہیں اور کچھ نہ کچھ لے کر ہی اٹھتے ہیں۔ میں نے انہیں سمجھوتا کرتے نہیں دیکھا۔

اس برس انہوں نے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے صوبائی وزیر مجتبیٰ شجاع الرحمان اور صوبائی مشیر صحت خواجہ سلمان رفیق کو خاص طور پر بلا رکھا تھا۔ مجتبیٰ شجاع الرحمان لاہور کے ایک پرانے سیاسی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں جو شرافت کی سیاست کا علمبردار ہے۔ ان میں روایتی سیاستدانوں والے رنگ ڈھنگ نظر نہیں آتے۔ سب کی بات سنتے ہیں کسی کی عزت نفس مجروح نہیں کرتے‘ تعلق نبھاتے ہیں۔ آج سے تین برس پہلے مجھے لیکچرار سے اسسٹنٹ پروفیسر بنایا گیا تو محکمہ تعلیم کے ایک اکھڑ افسر نے مجھے لاہور سے دور ایک کالج میں تبدیل کرنے کا حکم دیا‘ لیکن محترمہ بشریٰ رحمان کے کہنے پر مجتبیٰ شجاع صاحب نے میرا تقرر گورنمنٹ دیال سنگھ کالج لاہور ہی میں کورا دیا۔ گویا شرافت کی جیت ہوئی۔

خواجہ سلمان رفیق کو وزیراعلیٰ پنجاب نے ایک مشکل محکمہ دیا ہوا ہے‘ جس میں روز ہڑتالیں اور مظاہرے ہوتے ہیں۔ کبھی ڈینگی کی آفت سر پر آن کھڑی ہوتی ہے اور کبھی کوئی بڑا حادثہ ہو جاتا ہے۔ یوں خواجہ صاحب کی ہر وقت دوڑ لگی رہتی ہے۔ لوگوں کا پیدا کیا ہوا بگاڑ‘ خواجہ صاحب نہایت دھیمے لہجے میں بات کرکے یوں دور کرتے ہیں‘ جیسے کبھی تھا ہی نہیں۔ مجھے خواجہ سلمان رفیق اس لیے اچھے لگتے ہیں کہ وہ اپنے پرانے وقت اور اپنی غربت کے ساتھیوں کو یاد رکھتے ہیں۔ یہ بات تو وہ کئی مقامات پر اعلانیہ کہہ چکے ہیں کہ بچپن میں وہ لنڈے کے کپڑے پہنا کرتے تھے۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے ایک درد مند دل عطا کیا ہے‘ یہی وجہ ہے کہ وہ دوسروں کو تکلیف میں مبتلا دیکھ کر رونے لگتے ہیں۔ ان کے آنسو ووٹ حاصل کرنے کا حربہ نہیں‘ بلکہ ان کی دردمندی کا ثبوت ہیں۔ خود میں نے کئی مواقع پر انہیں روتے دیکھا ہے۔ محکمہ صحت کو ایسا ہی سیاست دان راہ راست پر لا سکتا ہے۔ اس تقریب میں میری خواجہ صاحب سے کچھ باتیں ہوئیں تو انہوں نے کہا کہ اس معاشرے کو اہل دل ہی بدلیں گے‘ یہی لوگ دراصل جنونی اور دیوانے ہوتے ہیں۔ یہ بتا کر مجھے انہوں نے مزید حیران کردیا کہ وہ بات بات پر رو دیتے ہیں حتیٰ کہ کسی فلم میں جذباتی منظر آ جائے تو آنکھیں آبشار بن جاتی ہیں اور اگر روتے ہوئے کئی دن گزر جائیں تو کوئی پرانی پاکستانی فلم دیکھ لیتے ہیں۔ خواجہ صاحب کی شخصیت کا ایک اور پہلو بھی اس تقریب میں مجھ پر کھلا کہ وہ بچوں سے بہت پیار کرتے ہیں۔ اپنے بچوں سے تو سبھی پیار کرتے ہیں‘ لیکن دوسروں کے بچوں سے پیار کرنے کا فن کسی کسی کو آتا ہے۔ مون لائٹ سکول کے ننھے منے طلبہ و طالبات دور سے انہیں دیکھ کر ہاتھ ہلاتے تو خواجہ صاحب انہیں اپنے پاس بلاتے‘ پیار کرتے‘ گود میں بٹھاتے اور ان کے ساتھ تصویر بنواتے۔ اس کا مطلب تو گویا یہ ہوا کہ خواجہ صاحب کے اندر (سیاست کی دنیا میں رہنے کے باوجود) ایک بچہ موجود ہے۔ میرا خیال ہے کہ بچہ کم سنی کا نام نہیں‘ بچہ دراصل بہت سی صفات کا نام ہے بچہ ہمیشہ سچ بولتا ہے‘ منافقت سے کام نہیں لیتا‘ لڑتا ہے تو غیر مشروط طور پر صلح کرلیتا ہے‘ دل میں کوئی بات نہیں رکھتا‘ لب پر لے آتا ہے۔ چھوٹی سی نئی بات یا نئی چیز دیکھ کر حیران ہو جاتا ہے۔ جب رونے کو دل چاہے روتا ہے اور جب ہنسنا چاہے ہنستا ہے‘ فطرت کے قریب رہتا ہے۔ جب تک بچے میں یہ ساری صفات باقی رہتی ہیں‘ وہ بچہ ہی رہتا ہے۔ جوں جوں بچہ ان صفات سے محروم ہوتا جاتا ہے توں توں وہ بڑا ہوتا جاتا ہے‘ مجھے یہ بڑا پن نہیں چاہئے۔ مجھے معصوم بچپن چاہئے‘ مجھے افسوس ہے کہ میں بڑا کیوں ہوا؟ بچہ ہی رہتا تو کم از کم معاشرے کو آج بھی اپنے حصے کی خوب صورتی ضرور عطا کر رہا ہوتا۔

اگر ہم سارے بڑے اپنے معاشرے کی بدصورتی کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے اندر کے بچے کو دوبارہ زندگی دینا ہوگی۔ ان صفات کو دوبارہ اپنانا ہوگا جنہیں ہم بچگانہ باتیں کہہ کر ترک کرچکے ہیں۔ سیاستدانوں کیلئے یہ بچگانہ باتیں بہت ضروری ہیں۔ خواجہ سلمان رفیق نے تو اپنے اندر کے بچے کو زندہ رکھا ہوا ہے۔ باقی سیاستدان کب ان کی پیروی کرتے ہیں؟ دیکھتے ہیں

مزید :

کالم -