کراچی ، بلدیاتی انتخابات میں پولنگ اسٹیشن میں فوج تعینات کے جائے ، اے پی سی

کراچی ، بلدیاتی انتخابات میں پولنگ اسٹیشن میں فوج تعینات کے جائے ، اے پی سی

  

 کراچی (اسٹاف رپورٹر) دھاندلی، کرپشن اور دہشتگردی سے پاک سندھ کے موضوع پر پر آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد قومی عوامی تحریک کے مرکزی صدر ایاز لطیف پلیجو اور جمعیت علماء پاکستان کے مرکزی جنرل سیکریٹری شاہ اویس نورانی کی زیر صدارت کراچی میں بیت الرضوان میں ہوا۔ آل پارٹیز کانفرنس میں تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے رہنماؤںِ سول سوسائٹی کے اشخاص، وکلا، ادیبوں، دانشوروں نے شرکت کی۔ آل پارٹیز کانفرنس میں متفقہ قرارداد پاس کی گئی جس میں مطالبہ کیا گیاکے 5 دسمبر کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے تیسرے مرحلے میں کراچی میں ہر پولنگ کے اند اور پولنگ کے باہر فوج مقرر کر کے بلدیاتی الیکشن فوج کی نگرانی میں کرائی جائے۔ بلدیاتی الیکشن کے پہلے دو مراحل میں پیپلزپارٹی رکارڈ توڑ دھاندلی کی اس لئے ان الیکشن کے نتائج کو رد کرتے ہیں اور سندھ میں دوبارہ بلدیاتی الیکشن مکمل طور پر فوج کی نگرانی میں کرائے جائیں۔ کانفرنس میں اے این پی سندھ کے صدر سینیٹر شاہی سید، سابق وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا، پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما اور سابق وزیر اعلی سندھ ارباب غلام رحیم، سینیٹر نحال ہاشمی، شفیع محمد جاموٹ، عرفان اللہ مروت، جماعت اسلامی کے رہنما محمد حسین محنتی، پاکستان مسلم لیگ فنکشنل کے رہنما ایم پی اے جام مدد علی، ایم پی اے شھریار مھر، ایم پی اے نصرت سحر عباسی، ظفر شاھ، پی ٹی آے کے رہنما علی زیدی، ناز بلوچ، مجلس وحدت مسلممین کے رہنما علاما مقصود ڈومکی، پاکستان پیپلزپارٹی شھید بھٹو کے رہنما مجید سیال، اسلم شاھ، ایم کیو ایم حقیقی کے رہنما شمشاد غوری، بلوچ رہنما رؤف ساسولی، سابق سندھ اسیمبلی کی ڈپٹی اسپیکر راحیلا ٹوانا، پائلر کے رہنما کرامت علی، مرکزی جماعت اہل سنت پاکستان کے رہنما سید ضیاء اللہ شاھ، مفتی محمد جان نعیمی، تحریک جوانانے پاکستان کے رہنما، محمد نعیم ، راجا عمران، محمد بادشاھ، سندھ نیشنل مومینٹ کے سربراہ اعجاز سامٹیو، غلام مصطفی چانڈیو، انجمن اتحاد عباسی کے رہنما، ڈاکٹر شفقت عباسی، سندھ لایرز فورم کے چیئر مین مسعود نورانی، ایم بی کٹیان، عوامی اتحاد پارٹی کے رہنما علی اکبر بنگوار، بشپ نظیر عالم، قومی عوامی تحریک کے رہنما نور احمد کاتیار، مظھر راھوجو، اشرف لاکو اور دیگر سیاسی اور سماجی رہنماؤں نے شرکت کی۔آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں نے کہا کہ آج کی آل پارٹیز کانفرنس سمجھتی ہے کہ18کروڑ پاکستانیوں بشمول5 کروڑ سندھ کے شہریوں کے لیے ضروری ہے کہ ملک اور خصوصاً سندھ کو مکمل طور پر امن کا گھوارا بنایا جائے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ملک میں دھاندلی، دہشت اور دباؤ سے پاک شفاف الیکشن ہو۔ مسلسل دھشتگردی کے المناک سانحات، کھربوں روپے کی کرپشن اور دھاندلی شدہ الیکشن کی وجہ سے پاکستان اور خصوصاً سندھ کی تصویر انتہائی غیر محفوظ، غیر شفاف صوبے والی بنائی جارہی ہے۔ ہماری نااہلی اور عالمی طاقتوں کی سازشوں کے نتیجے میں کبھی انتھا پسندی کی صورت میں، کبھی لسانیت کا لبادہ اوڑھ کر، کبھی تقسیم کی بات کر کے، کبھی سرکاری املاک اور کھربوں روپے کے وسائل لوٹ کرکبھی ٹارگیٹ کلر اور بھتا خور بن کر ملک کے جڑوں کو کھوکلا کیا جارہا ہے۔ گذشتہ 4 ہفتوں میں بلدیاتی الیکشن کے نام پر جس طرح جمہوریت، شفافیت اور گورننس کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں۔ اس کی مثال نہ دوسرے صوبوں میں ملتی ہے نہ دوسرے ملکوں میں۔ الیکشن سے قبل جس طرح پیپلزپارٹی کی جانب سے سیاسی مفادات کی خاطر من پسند حلقہ بندیاں کی گئیں۔ جس طرح 40ہزار گھوسٹ ٹیچرز اور اہل اقتدار کے عزیزو اقارب کو الیکشن عملے کی طور پر تعینات کیا گیا، جس طرح الیکشن سے قبل پولیس اور ضلع انتظامیہ کی طرف سے امیدواروں کو گرفتار کر کے جبراَ دستبردار کروایا گیا، جھوٹے مقدمات قائم کئے گئے ،اربوں روپے میں ووٹر اور امیدواروں کی خرید و فروخت کی گئی درازہ خیرپور میں 12 سے زائد شہریوں کو شہید کیا گیا، قاسم آباد میں الیکشن سے 6گھنٹے قبل سیاسی کارکن کو شہید کیا گیا اور جس طرح 19 نومبرکو شام 2بجے کے بعد سندھ کے 70 فیصد سے زائد پولنگ اسٹیشنز پر قبضہ کر کہ 3گھنٹے تک لاکھوں جھوٹے ٹھپے لگائے گئے، اس سے ثابت ہوگیا ہے کہ 2013 کی سندھ کی جنرل الیکشن کی طرح یہ بلدیاتی الیکشن بھی نہ صاف تھی نہ شفاف، نہ جمہوری اور نہ ہی غیر جانبدار۔ گذشتہ چند دنوں میں جس طرح کراچی کے ووٹرز اور امیدواروں اور سیاسی مخالفین کو دھشتزدہ کیا جا رہا ہے اس سے واضع خدشہ موجود ہے کہ 5 دسمبر کو ایم کیو ایم1987سے لیکر اب تک کی جانے والی منظم دھاندلی کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے کراچی کے مینڈیٹ کو ایک بار پھر یرغمال کرنا چاہتی ہے۔ نہ صرف بلکہ ایم کیو ایم کی جانب سے سندھ کی تقسیم کے مطالبہ پر الیکشن مہم ،چلانا بہی سندھ اور ملک دشمنی ہے جس کی یہ اے پی سی سخت مذمت کرتی ہے۔ یہ آل پارٹیز کانفرنس سمجہتی ہے کے 2013 کہ پی پی پی اور ایم کیو ایم کے جھوٹے مینڈیٹ کی طرح بلدیاتی الیکشن کا مینڈیٹ بھی جہوٹا ہے۔ اے پی سی مطالبہ کرتی ہے کہ سندھ کے مختلف اضلاع خیرپور، تھر، عمرکوٹ، حیدرآباد، دادو، قاسم آباد، نوشہروفیروز، قمبر شہداد کوٹ، کندھ کوٹ، ٹنڈو الھیار اور دیگر اضلاع میں دھاندلی شدہ الیکشن کے نتائج رد کرکے پورے صوبے میں دوبارہ الیکشن کرائے جائیں اور یہ اے پی سی مطالبہ کرتی ہے کہ خیرپور اور قاسم آباد کے ببھیمانہ قتل میں ملوث حکمران ٹولے کے لوگوں کو پکڑا جائے۔ ا ے پی سی مطالبہ کرتی ہے کہ ایم کیو ایم کی ہتھیار بند ونگ ختم کر کے کراچی کے لوگوں کو آزادانہ طور پر اپنے ووٹ کو استعمال کرنے کا موقعہ دیا جائے، قانون نافذ کرنے والے ادارے دھشتگردی اور کرپشن کے خلاف آپریشن کے دائرے کو مزید تیز، مؤثر اور وسیع کریں۔ اے پی سی سمجھتی ہے کہ جب تک دھشتگردی، دھاندلی اور کرپشن میں ملوث وزراء ،افسران، ایم این ایز، ایم پی ایز اوراعلی عہدیداروں کو گرفت میں نہ لایا گیا تب تک اکا دکا چھوٹی مچھلیاں پکڑنے سے مسائل حل نہیں ہونگے۔ اے پی سی مطالبہ کرتی ہے الیکشن میں بایو میٹرک سسٹم متعارف کروایا جائے، دھاندلیوں میں ملوث سرکاری افسران کو گرفتار کیا جائے، الیکشن کمیشن کو مکمل طور پر سیاسی اثر سے پاک کرکے غیرجانبدار ، شفاف اور مؤثر بنایا جائے۔ انتخابات مکمل طور پر فوج کی نگرانی میں کرائے جائیں۔یہ اے پی سی مطالبہ کرتی ہے کہ 12 مئی، 22 مئی، بلدیہ فیکٹری اور نشترپارک ، سانحہ صفورا چورنگی، جیکب آباد، شکارپور، درازہ میں ملوث اور ہدایت دینے والے گرفتار کیے جائیں، سیاسی رشوت، نوکریاں، أسوں اور بینظیر انکم کارڈز کی ذریعے ووٹرس کی خریداری بند کی جأیے۔ پاکستان میں کھربوں روپے کی کرپشن اوروھشت انگیز دھشتگردی کر کے بیرون ملک فرار ہونے والے مجرموں کو گرفتار کر کے پاکستان میں لایا جائے۔اور مقدمے چلا کر کڑی سے کڑی سزائیں دی جائیں۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -