پاکستان میں بھی ایڈز سے بچاؤ کاعالمی دن منایا گیا

پاکستان میں بھی ایڈز سے بچاؤ کاعالمی دن منایا گیا

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر)پاکستان سمیت دنیا بھر میں یکم دسمبرکوایڈز سے بچاؤ کا عالمی دن منایا گیا۔ اس دن کے منانے کا مقصد ایڈز جیسی مہلک مرض سے بچاؤ کیلئے احتیاطی تدابیر کے بارے میں شعور و آگاہی پید اکرنا اور لوگوں کو معلومات فراہم کرنا ہے ۔ پاکستان نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام کے مطابق اس وقت ملک بھر میں ایڈز سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 86 ہزار ہے جبکہ 2012سے اب تک ایڈز سے رجسٹرڈ ہلاکتوں کی تعداد 720 ریکارڈ کی گئی ہے۔ایڈ ز سے بچا ؤکے عالمی دن کے موقع پر کراچی میں ساحل سمندر پر واک کا اہتمام کیا گیا۔سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کے تحت منعقد ہونے والی یہ واک میکڈونلڈ سی ویو سے شروع ہوئی۔ واک کی قیادت ایڈیشنل سیکرٹری پروکیورمنٹ محکمہ صحت سندھ ڈاکٹر صابر میمن، پروگرام منیجر ڈاکٹر یونس چاچڑ، کراچی چیمبر آف کامرس کے سردار نزاکت علی اور اس وائرس سے متاثر ہونے والے افراد نے کی۔ شرکاء نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر ایچ آئی وی ایڈز کی بیماری سے بچاؤ اور احتیاطی تدابیر درج تھیں۔ واک میں متاثرہ افراد اور اس بیماری کے خلاف کام کرنے والی این جی اوز کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ شرکاء کے ساتھ پولیس بینڈ، ایڈز کنٹرول پروگرام کا فلوٹ اور اسکاؤٹس بھی موجود تھے۔ اس موقع پر پولیس اور ٹریفک پولیس کے جوان بھی موجود رہے۔ اس موقع پر شرکاء میں یچ آئی وی ایڈز سے بچاؤ کے پیغامات والی ٹی شرٹس، ٹوپیاں اور چھتریاں بھی تقسیم کی گئیں۔ واک سی ویو پر تھوڑی دور جا کر ختم ہوئی جہاں پر مہمانوں نے شرکاء سے خطاب کیا۔ ڈاکٹر صابر میں نے اپنے خطاب میں کہا کہ سندھ سے ایچ آئی وی وائرس اور ایڈز کی بیماری کے خاتمے کے لیے تمام محکموں، اداروں اور نجی شعبے کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت صوبے میں اس بیماری سے متاثرہ افراد کے معیار زندگی کو بہتر کرنے کے لیے علاج سمیت تمام سہولتیں مفت فراہم کر رہا ہے جس کے لیے ایڈز کنٹرول پروگرام کے منیجر ڈاکٹر یونس چاچڑ اور ان کی ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر یونس چاچڑ نے ایڈز پروگرام کی کارکردگی بیان کی اور ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد سے اس جہاد میں اپنا کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔ کراچی چیمبر آف کامرس کے سردار نزاکت علی نے چیمبر کی طرف سے ایڈز کنٹرول پروگرام کو بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔واضح رہے کہ اس دن کی مناسبت سے کراچی سمیت ملک بھر میں محکمہ صحت اور مختلف سماجی تنظیموں کی جانب سے واک،سیمینارز اور دیگر تقریبات کا اہتمام کیا گیا ۔جس سے خطاب کرتے ہوئے صحت کے ماہرین نے ایڈز جیسی مہلک مرض کی علامات اور اس سے بچاؤ کی تدابیر کے متعلق آگاہی فراہم کی ۔ایڈز کا عالمی دن دنیا بھر میں پہلی مرتبہ 1987 میں منایا گیا ۔ایک عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں اب تک لاکھوں افراد ایڈز کی بیماری سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ پاکستان نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام کے مطابق اس وقت ملک بھر میں ایڈز سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 86 ہزار ہے جبکہ 2012سے اب تک ایڈز سے رجسٹرڈ ہلاکتوں کی تعداد 720 ریکارڈ کی گئی ہے۔طبی ماہرین کے مطابق پاکستان میں ایڈز سے متاثرہ رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد زیادہ نہیں ہے۔ لوگ بدنامی کے ڈر سے ٹیسٹ کروانے سے گھبراتے ہیں۔ بعض مریض تصور کرتے ہیں کہ یہ سنگین مسئلہ نہیں ہے درحقیقت یہ بہت ہی سنگین مسئلہ ہے۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے تمام مراکز پر ایچ آئی وی ایڈز کا علاج مفت کیا جا رہا ہے اس لئے مریضوں کو چاہیے کہ وہ اپنا طرزعمل بدلیں اور بیماری کی تشخیص کی صورت میں ڈاکٹرز سے رجوع کریں۔ خیال رہے کہ اعداد وشمار کے مطابق اس وقت ایچ آئی وی کے سب سے زیادہ مریض پنجاب میں موجود ہیں۔ پنجاب میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد پانچ ہزار سے زائد ہے۔ سندھ میں تین ہزار خیبرپختونخوا میں 1200 ایڈز کے مریض رجسٹرڈ ہیں جبکہ بلوچستان میں یہ تعداد 200 ہے۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -