’’شہراقتدار‘‘ میئر اور ڈپٹی میئر کیلئے مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کا جوڑ توڑ شروع

’’شہراقتدار‘‘ میئر اور ڈپٹی میئر کیلئے مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کا جوڑ ...

  

اسلام آباد (آئی این پی) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں گزشتہ روز منعقد ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے بعد ’’شہر اقتدار‘‘کے میئر اور ڈپٹی میئر کے نتخاب کیلئے مسلم لیگ (ن)اور پی ٹی آئی کی قیادت کی طرف سے آزاد ارکان کے رابطوں اور جوڑ و توڑ کا سلسلہ شروع ہوگیا، (ن)لیگ کی قیادت کو آزاد ٹکٹ پر کامیاب ہونے والے 5ناراض چیئرمینوں سمیت 9آزاد ارکان نے حمایت کا یقین دلایا جبکہ پی ٹی آئی کے اسد عمر نے بھی بعض آزاد امیدواروں کی حمایت حاصل ہونے کا دعویٰ کیا ہے، اگر (ن) لیگ 9آزاد ارکان کو ساتھ ملانے میں کامیاب رہی تو اسے میئر اور ڈپٹی میئر کے انتخاب کے 50رکنی الیکٹورل کالج میں 28ارکان کی حمایت ہو جائے گی، جبکہ سادہ اکثریت کیلئے 26ارکان کافی ہیں،4 آزاد ارکان کا تعلق نواز کھوکھر گروپ سے ہے، جو پی ٹی آئی کی حمایت کر سکتے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ (ن) نے این اے 48کی 23یونین کونسلوں میں سے 11یونین کونسلوں میں کامیابیاں حاصل کی ہیں جبکہ این اے 49کی 27یونین کونسلوں میں سے 10 میں کامیابی حاصل کی، این اے 49سے پی ٹی آئی نے 7نشستوں پر کامیابی حاصل کی جبکہ 10آزاد امیدوار کامیاب ہوئے، این اے 48میں پی ٹی آئی کے 9اور 3آزاد امیدوار چیئرمین منتخب ہوئے ہیں، مجموعی طور پر اب تک 49یونین کونسلوں کے نتائج سامنے آئے ہیں، جن کے مطابق (ن) لیگ 21، پی ٹی آئی 16اور آزاد امیدوار 13یونین کونسلوں میں کامیاب قرار پائے ہیں، اس طرح کسی بھی جماعت کو میئر اور ڈپٹی میئر کے انتخاب کیلئے سادہ اکثریت حاصل نہیں کر سکی،جس کی وجہ سے آزاد ارکان اہمیت حاصل کر گئے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ کامیاب ہونے والے 13آزاد امیدواروں میں سے 5کا تعلق مسلم لیگ (ن) سے ہے جو ٹکٹ نہ ملنے پر آزاد حیثیت میں اپنی پارٹی امیدوار کے حق میں دستبردار ہونے کی بجائے انتخابی میدان میں موجود رہے اور کامیاب ہوئے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے گزشتہ روزناراض ارکان سے رابطے کئے جس پر ان رہنماؤں نے (ن) لیگ میں شمولیت کا عندیہ دے دیا ہے، مزید 4آزاد حیثیت میں کامیاب ارکان (ن) لیگ سے رابطے میں ہیں اور چوہدری طارق فضل آئندہ 48گھنٹوں میں ان سے ملاقات کر کے حمایت حاصل کریں گے، دیگر 4آزاد ارکان کا تعلق نواز کھوکھر گروپ سے ہے، جن سے ذرائع کے مطابق (ن) لیگ نے رابطے نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، یہ 4آزاد ارکان تحریک انصاف کا ساتھ دینے کا فیصلہ کر سکتے ہیں، اگر (ن)لیگ مذکورہ 9آزاد حیثیت میں کامیاب چیئرمینوں کو ساتھ ملانے میں کامیاب رہی تو اسے اسلام آباد کے میئر اور ڈپٹی میئر کے انتخاب کے 50رکنی الیکٹورل کالج میں 28ارکان کی برتری حاصل ہو جائے گی جبکہ سادہ اکثریت کیلئے 26ارکان کی ضرورت ہے۔(اح+ارشد عزیز)

مزید :

پشاورصفحہ اول -