وفاق نے 45 ڈالر فی ٹن کی سبسیڈی کا وعدہ تاحال پورا نہیں کیا ،ناصر شاہ

وفاق نے 45 ڈالر فی ٹن کی سبسیڈی کا وعدہ تاحال پورا نہیں کیا ،ناصر شاہ

  

کراچی(اکنامک رپورٹرر)سندھ کے وزیر خوراک سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کی غلط پالیسیوں کے باعث دو سال قبل بیرون ملک سے خریدی جانے والی گندم کے باعث سندھ حکومت کو شدید مشکلات اور تحفظات ہیں۔ وفاق کی جانب سے اس گندم پر 45 ڈالر فی ٹن کی سبسیڈی کے وعدے کو بھی ابھی تک پورا نہیں کیا جاسکا ہے۔ سندھ میں گوداموں میں موجود گندم کو ایکسپورٹ کرنے اور ان گوداموں میں گندم کے چوری اور خرابیوں پر ان پر خود اچانک چھاپے ماروں گا اور جو بھی ملوث ہوگا اس کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ سندھ میں فوڈ اتھارٹی کے قیام کے لئے قانون سازی شروع کردی گئی ہے اور جلد اس کا بل اسمبلی میں پیش کردیا جائے گا۔ محکمے میں کسی بھی کرپشن کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور جو بھی افسر یا ملازم کرپشن میں ملوث پایا جائے گا اس کے خلاف کوئی رعایت نہیں کی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز اپنے دفتر میں محکمہ خوراک کے اعلیٰ سطحی اجلاس اور بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری خوراک لئیق احمد، ایڈیشنل سیکرٹری فوڈ زبیر احمد، ڈائریکٹر فوڈ احمد علی قریشی، تمام ریجن کے ڈپٹی و ایڈیشنل ڈائریکٹر اور دیگر بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ صوبائی وزیر خوراک کو محکمہ خوراک کے حوالے تفصیلی بریفنگ دی گئی اور انہیں دو سال قبل وفاقی حکومت کی ناقص پالیسی کے باعث خریدی جانے والی گندم اوردو سال سے گوداموں میں موجود گندم اور تاحال ایکسپورٹ نہ کئے جانے اور اس حوالے سے درپیش مسائل سے بھی آگاہ کیا گیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ نے تمام افسران کو ہدایات دی کہ محکمہ خوراک میں کرپشن کے مکمل خاتمے کے لئے وہ تیار ہوجائیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں مختلف شکایات گوداموں میں موجود گندم اور اس میں کرپشن کے حوالے سے ملی ہیں ، جس پر وہ خود ان گوداموں کا اچانک دورہ بھی کریں گے اور ان میں موجود گندم کے حوالے سے مکمل ریکارڈ بھی لیں گے۔ بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے دو سال قبل علط پالیسیوں سے منگوائی جانے والی گندم زیادہ تر سندھ اور اس میں خصوصاً کراچی کو بھیجی گئی، جس کے باعث صوبہ سندھ کو بہت زیادہ مشکلات کا سامنا رہا۔انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے وفاقی حکومت نے اس گندم کو دوبارہ باہر ایکسپورٹ کرنے اور اس پر 45 ڈالر فی ٹن سبسیڈی فراہم کرنے کا بھی وعدہ کیا تھا، جس پر ابھی تک عمل درآمد نہیں کیا گیا اور ہم اس سلسلے میں ایک بار پھر وفاق سے جلد رجوع کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کی گوداموں میں موجود گندم کو ایکسپورٹ کرنے کے حوالے سے بھی سندھ حکومت جلد پالیسی مرتب کررہی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ محکمہ خوراک کے حوالے سے انہوں نے آج پہلی بریفنگ لی ہے اور اس سلسلے میں سیکرٹری خوراک، ایڈیشنل سیکرٹری، ڈائریکٹرز اور تمام ریجن کے ڈپٹی ڈائریکٹرز کو اجلاس میں طلب کیا گیا تھا اور آئندہ کی حکمت عملی اور محکمہ سے کرپشن کو زیرو کرنے کی بھی ہدایات دے دی ہیں۔ اس کے بعد میں خود تمام گوداموں اور محکمہ کے دفاتر کا سرپرائز وزٹ کروں گا اور اگر کہی بھی کرپشن نظر آئی تو نہ صرف اس میں ملوث افسر کو گھر بھیج دیا جائے گا بلکہ ان کے خلاف مکمل قانونی کارروائی بھی کی جائے گی۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ صوبے میں فوڈ اتھارٹی کے قیام کے لئے قانون سازی کی جارہی ہے اور جلد ہی یہ قانون سندھ اسمبلی میں پیش کردیا جائے گا۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -