لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 سندھ اسمبلی سے منظور کرایا جائیگا،جام خان شورو

لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 سندھ اسمبلی سے منظور کرایا جائیگا،جام خان شورو

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر بلدیات سندھ جام خان شورو نے کہا ہے کہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 سندھ بھر سے منتخب نمائندوں نے بنایا ہے اور اسے سندھ اسمبلی سے منظور کرایا گیا ہے۔ اسی قانون کے تحت سندھ میں بلدیاتی نظام اور اس کے زیر انتظام آنے والے اداروں کو چلایا جائے گا۔ وزراء کے قلمدان تبدیل ہوتے رہتے ہیں تاہم پالیسیوں کو آنے والے وزراء ہی آگے بڑھاتے ہیں۔ کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کو ایک منافع بخش ادارہ بنا کر ان کو اپنے پیرو ں پر کھڑا کرنے کا عزم ہے اور انشاء اللہ جلد ہی ریکوری ، پانی کے جاری منصوبوں اور نئے منصوبوں پر عمل درآمد شروع کردیا جائے گا اور اس سلسلے میں آنے والی رکاوٹوں کو بھی ہنگامی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔ نئے ہائیڈرینٹ کھولنے پر پہلے ہی پابندی عائد ہے جبکہ زیرزمین پانی کے ہائیڈرینٹ پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔ ہماری اولین ترجیح عوام کو پینے کا صاف پانی ان کی دہلیز تک پہنچانا ہے تاہم اس وقت طلب اور رسد میں بہت زیادہ فرق ہے، جس کے باعث مشکلات کا سامنا ہے اس لئے فیصلہ کیا گیا ہے کہ بڑے بڑے رہائشی پلازہ میں وہاں کی یونینز کے ساتھ مل کر سندھ حکومت کے تعاون سے آر او پلانٹس نصب کئے جائیں، جس کی فزیبلیٹی کی تیاری کے لئے ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔ محکمہ واٹر بورڈ جن جن کچی آبادیوں کو پانی کی فراہمی کررہا ہے اور وہاں بلنگ بھی کررہا ہے وہ اسکو مکمل طور پر اوون کرے اور وہاں کا نوٹیفیکیشن بھی جاری کرے ۔ شہر کے تمام ڈی ایم سیز میں عوام کو پانی کی فراہمی واٹر بورڈ کی ذمہ داری ہے اور وہاں پر مینٹینس سمیت تمام کاموں پر بھی ذمہ داری سے وہ کام کرے۔ کراچی میں نالوں کی صفائی پر پارٹی کی اعلیٰ قیادت اور بالخصوص وزیر اعلیٰ سندھ کے شدید تحفظات ہیں اس لئے واٹر بورڈ اور کے ایم سی مل کر شہر کے تمام چھوٹے اور بڑے نالوں کی صفائی اور ان پر قائم تجاوزات کے خاتمہ کے لئے گرانڈ آپریشن کرے اور اس کے مثبت نتائج اس شہر کے عوام کو ملیں اس کے لئے اقدامات کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے دورے کے موقع پر اجلاس سے خطاب اور بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری بلدیات عمران عطا سومرو، ایم ڈی واٹر بورڈ مصباح الدین فرید، سنئیر ڈائریکٹر میونسپل سروسز مسعود عالم، تمام اضلاع کے چیف ا نجینئرز، ڈائریکٹرز اور دیگر اعلیٰ افسران موجود تھے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر بلدیات کو منیجنگ ڈائریکٹر کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ مصباح الدین فرید نے تفصیلی بریفنگ دی جس میں انہوں نے کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کی کارکردگی، ان کے جاری ترقیاتی کاموں اور فراہمی آب کے منصوبے K-4اور فراہمی نکاس کے منصوبے S-3 سمیت دیگر 100 اور 65 ملین گیلن پانی کے حوالے سے جاری منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی،واٹر بورڈ کے مالی امور سمیت دیگر مسائل پر ان کی توجہ مبذول کرائی جن میں کمر شلائزیشن چارجز کی وصولی سمیت دیگر معاملات شامل ہیں، صوبائی وزیر نے ایم ڈی واٹر بورڈ مصبا ح الدین فرید ، ڈی ایم ڈی واٹر بورڈ اوردیگر منصوبوں کے پروجیکٹ ڈائریکٹرز اور چیف انجنئیرز سے ان منصوبوں اور شہر میں فراہمی آب و نکاسی کے حوالے سے مختلف سوالات بھی کئے اور انہیں ان منصوبوں کی لاگت، ان کے مکمل ہونے اور انکی راہ میں حائل رکاوٹوں اور مشکلات سے بھی آگاہی حاصل کی۔ بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے صوبائی وزیر بلدیات جام خان شورو نے کہا کہ وہ آج کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے مرکزی دفتر میں بریفنگ لینے کی غرض سے آئے ہیں اور اس میں انہوں نے کراچی میں پانی اور سیوریج کے حوالے سے عوام کو درپیش مسائل، کراچی کے عوام کو صاف پانی کی فراہمی،K-4 ، S-3 منصوبوں سمیت دیگر منصوبوں کے حوالے سے آگاہی حاصل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں میں نے واٹر بورڈ کے ایم ڈی اور ان کے ریکوری کے حوالے سے درپیش مسائل پر بھی مکمل معلومات حاصل کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ایم ڈی واٹر بورڈ کو ہدایات دی ہیں کہ ریکوری کو مزید فعال کیا جائے اور اس میں کمرشل صارفین کی ریکوری کے لئے اسے نجی کمپنی کو دے دیا جائے تاکہ مذکورہ کمپنی ان کمرشل اداروں سے ریکوری بھی کرے اور ان اداروں کو پانی کی فراہمی کی راہ میں درپیش مسائل کو بھی خود حل کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری اولین ترجیح واٹر بورڈ کو اس کے اپنے پیروں پر کھڑا کرنا ہے اور اس میں عوام سے بھی گذارش ہے کہ وہ اپنے پانی کے ماہانہ بلز اور بقایاجات کی ادائیگی کو یقینی بنائیں۔ ایک سوال کے جواب میں صوبائی وزیر نے کہا کہ گذشتہ روز کے ایم سی میں اجلاس کے دوران کئی ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریٹرز کی جانب سے واٹر بورڈ کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا خصوصاً ڈسٹرکٹ ملیر میں واٹر بورڈ انتظامیہ کی جانب سے تنصیبات کو اوون نہ کئے جانے سمیت دیگر مسائل زیر بحث آئے تھے، جس پر آج ایم ڈی واٹر بورڈ اور تمام متعلقہ افسران کو ہدایات جاری کردی گئی ہیں کہ واٹر بورڈ کراچی کے تمام ڈسٹرکٹ اور کچی آبادیوں میں اپنی تنصیبات کو اوون کرے اور جہاں جہاں بھی نکاسی و فراہمی آب واٹربورڈ کے ذریعے کی جارہی ہے وہاں وہاں وہ اپنی تنصیبات کو درست کرے اور وہاں سے بلنگ بھی وصول کرے۔ ایک سوال کے جواب میں صوبائی وزیر نے کہا کہ وزراء کے قلمدان تبدیل ہوتے رہتے ہیں لیکن حکومت کی پالیسیاں اداروں کے حوالے سے قائم رہتی ہیں اور ان پالیسیوں پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ بلدیاتی انتخابات کے بعد واٹر بورڈ کے چیئرمین کے حوالے سے ماضی میں مئیر کے چیئرمین کی روایات کے سوال پر صوبائی وزیر نے کہا کہ میں روایات کی بجائے قانون پر عمل درآمد پر یقین رکھتا ہوں اور بلدیاتی قانون 2013 جسے سندھ بھر کے عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے ارکان سندھ اسمبلی نے منظور کیا ہے، اس پر عمل درآمد کیا جائے گا اور اس قانون میں جو اختیارات بلدیاتی اداروں میں جس کے ہوں گے اسی کو دئیے جائیں گے۔ کنٹریکٹ اور ایڈہاک ملازمین کے سوال کے جواب میں صوبائی وزیر نے کہا کہ جن جن ملازمین کی ضرورت ہوگی اسے رکھا جائے گا تاہم ادارے پر کسی قسم کا کوئی مالی دباؤ اب برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ادارے میں کام کرنے والے تمام ملازمین کو اب سندھ بینک کے ذریعے ان کی فزیکل تصدیق کے بعد تنخوائیں ادا کی جائیں گی اور جو ملازمین ذاتی طور پر حاضر نہیں ہوگا اب وہ تنخواہ کا اہل نہیں رہے گا۔ ایک اور سوال کے جواب میں جام خان شورو نے کہا کہ او پی ایس، ڈپیوٹیشن اور دیگر پر سپریم کورٹ کے احکامات پر من وعن عمل کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ واٹر بورڈ میں بھی تمام چیف انجینئرز کو ہدایات جاری کردی گئی ہیں کہ وہ سالانہ ترقیاتی پروگرامز کے لئے اپنی اپنی اسکیمیں بنا کر دیں تاکہ زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام اسکیموں کو آنے والے مالیاتی سال کے ترقیاتی کاموں اور پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے 150 ارب روپے کے ترقیاتی پیکج میں شامل کیا جاسکے اور اس کا براہ راست فائدہ اس شہر کے عوام کو پہنچے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر نے اجلاس میں شامل تمام افسران کو ہدایات جاری کی کہ وہ اپنے اپنے ڈسٹرکٹ میں متعلقہ ڈسٹرکٹ کے ایڈمنسٹریٹرز اور دیگر افسران سے رابطوں کا سلسلہ مزید وسیع کریں اور کے ایم سی، ڈی ایم سیز اور واٹر بورڈ مل کر اس شہر کے عوام کو ریلیف پہنچانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -