200 ڈاکٹروں کو مستقل نہ کرنے پر جواب طلب

200 ڈاکٹروں کو مستقل نہ کرنے پر جواب طلب

  

پشاور(نیوزرپورٹر)پشاورہائی کورٹ کے جسٹس قیصررشید اور جسٹس اسداللہ خان چمکنی پرمشتمل دورکنی بنچ نے 2011ء میں ایڈہاک بنیادوں پر بھرتی ہونے والے 200سے زائد ڈاکٹروں کو مستقل نہ کرنے پر صوبائی حکومت کو آخری مہلت دیتے ہوئے جواب طلب کرلیافاضل بنچ نے امین الرحمان ایڈوکیٹ کی وساطت سے دائرڈاکٹررضوان کی رٹ کی سماعت کی اس موقع پر عدالت کو بتایاگیاکہ صوبائی حکومت نے2011ء میں500سے زائدڈاکٹروں کو تعینات کیاجس میں سے بعض کو کنٹریکٹ پرلیاگیااس ضمن میں جب پشاورہائی کورٹ میں متاثرہ ڈاکٹروں نے رٹ دائرکی تو صوبائی حکومت نے 237ڈاکٹروں کو اس بنیاد پر مستقل کیاکہ ا نہیں ایڈہاک کی بجائے کنٹریکٹ پربھرتی کیاگیاتھا جبکہ200سے زائد ڈاکٹرتاحال مستقل نہیں ہوئے حالانکہ ہائی کورٹ پہلے ہی صوبائی حکومت کویہ ہدایت کرچکی ہے کہ ان ڈاکٹروں کو دیگرساتھیوں کے طرزپرمستقل کیاجائے لیکن تاحال ایسانہیں کیاگیا جس پرفاضل بنچ نے صوبائی حکومت کو آخری موقع فراہم کرتے ہوئے انہیں مستقل کرنے کی ہدایات جاری کیں ۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -