بلدیاتی الیکشن میں ن لیگ کی فتح نے نوازکھوکھر سے فاصلے مٹادیئے ، وزیرداخلہ کو سائیڈ لائن کیے جانے کا امکان ،حکمران جماعت میں دھڑے بندیاں واضح ہوگئیں

بلدیاتی الیکشن میں ن لیگ کی فتح نے نوازکھوکھر سے فاصلے مٹادیئے ، وزیرداخلہ ...
بلدیاتی الیکشن میں ن لیگ کی فتح نے نوازکھوکھر سے فاصلے مٹادیئے ، وزیرداخلہ کو سائیڈ لائن کیے جانے کا امکان ،حکمران جماعت میں دھڑے بندیاں واضح ہوگئیں

  

اسلام آباد(آن لائن) وفاقی دارالحکومت کی تاریخ میں ہونیوالے پہلے بلدیاتی الیکشن نے اسلام آباد کی سیاست کا نقشہ ہی بدل کر رکھ دیاہے ، بلدیاتی الیکشن کے نتائج نے حاجی نواز کھوکھر اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان اختلافات کی خلیج کو تقریباً ختم کردیا ، حاجی نواز کھوکھر مسلم لیگ (ن) کو پیارے ہوگئے تو وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کو اپنی نئی سیاسی سمت متعین کرنا پڑے گی۔30 نومبر کے نتائج نے سابق سینیٹرظفر علی شاہ اور چوہدری اشرف گجر کو بھی وزیر داخلہ کے پلڑے میں ڈال دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کے بلدیاتی الیکشن نے مسلم لیگ (ن) میں پڑی ہوئی دراڑوں کو مزید واضح کردیا ہے۔30نومبر کی شام جب بلدیاتی انتخابات کے نتائج حتمی ہوئے تو سابق سینیٹر ظفر علی شاہ اپنی نشست ہار کر طارق فضل چوہدری اور وزیراعظم سیکرٹریٹ میں بیٹھے ہوئے ایک بیورو کریٹ کو کوسنے دیتے رہے جبکہ دوسری طرف چوہدری اشرف گجر بلدیاتی انتخابات کے روز پورا دن مختلف ٹی وی چینلز پر راز کھول کھول کر عوام کو بتاتے رہے کہ مسلم لیگ (ن) نے زیادہ تر ٹکٹیں ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کے رشتہ داروں اور پراپرٹی ڈیلروں کو دی ہیں۔ چوہدری اشرف کے انکشاف کشا مہم کے نتیجے میں مسلم لیگ (ن) فیصلہ کن برتری حاصل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی اور مسلم لیگ (ن) کی تقسیم سے پیپلز پارٹی تو کوئی فائدہ نہ اٹھا سکی البتہ حاجی نواز کھوکھر کے آزاد امیدواروں نے کافی نشستیں جیت کر مسلم لیگ (ن) کو مجبور کردیا ہے کہ میئر شپ کیلئے مسلم لیگ (ن) ان کے در کا طواف کرے بصورت دیگر میئر شپ کا تاج کسی اور کے سر سج سکتا ہے۔ اسلام آباد کے مصدقہ ذرائع اس بات کی تصدیق کررہے ہیں کہ حاجی نواز کھوکھر اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے درمیان معاملات طے ہوچکے ہیں اور میاں نواز شریف حاجی نواز کھوکھر کو دائیں طرف بٹھا کر وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا زور توڑنے کا پختہ ارادہ کئے ہوئے ہیں۔

ایسی صورت میں چوہدری نثار علی خان کو اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنا پڑے گا اس وقت اسلام آباد میں لینڈ مافیا کے حوالے سے جو الزامات چوہدری اشرف گجر لگارہے ہیں وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان بھی ایسے ہی خیالات رکھتے ہیں۔ وفاقی دارالحکومت میں ہونیوالی نئی سیاسی دھڑے بندی میں حاجی نواز کھوکھر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری ، انجم عقیل خان اور ملک ابرار ایم این اے اس وقت ایک پلڑے میں دکھائی دیتے ہیں جبکہ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان ، ظفر علی شاہ ، اشرف گجر اور ملک شجاع الرحمن دوسرے دھڑے میں دکھائی دیتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم میاں نواز شریف ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کو وزیر مملکت برائے کیڈ بنانے کے ساتھ ساتھ سی ڈی اے کا انچارج وزیر بھی بنا دیا ہے دوسری طرف ایف آئی اے جو کہ وزیر داخلہ کے ماتحت ہیں سی ڈی اے کے کرپٹ مافیا کیخلاف مسلسل پیش قدمی کررہی ہے اور اس وقت ایک درجن کے قریب سی ڈی اے کے کرپٹ لوگ جیل میں بیٹھے ہوئے ہیں نئے دھڑے بندی کے بعد ایف آئی اے کو سی ڈی اے میں آپریشن کلین میں مشکلات پیش آسکتی ہیں وفاقی دارالحکومت میں میئر کا الیکشن لینڈ مافیا اور اینٹی لینڈ مافیا کے درمیان لڑا جائے گا ڈاکٹر طارق فضل چوہدری اور ان کے ساتھی میئر شپ تو ممکن ہیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں لیکن اسلام آباد کے شہریوں کو دوبارہ اعتماد حاصل کرنا مسلم لیگ (ن) کیلئے چیلنج سے کم نہیں ہوگا جس طرح کہ اب پی پی پی گلی گلی رسوا ہو رہی ہے ۔

اسلام آباد کے اقتدار کی جنگ میں پی پی پی کہیں بھی نظر نہیں آتی یہ جنگ مسلم لیگ(ن) کے دو دھڑوں ،پی ٹی آئی اور آزاد گروپ کے درمیان زوروں پر ہے۔یوسی 30سے چیئرمین کے لیگی امیدوار سابق سینٹر سید ظفر علی شاہ نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ انہیں ایک سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت ہرایا گیا ہے ،ڈاکٹر طارق فضل کے حوالے سے سوال کے جواب میں بتایا کہ حضرت علی ؓ کا قول ہے کہ جس کے ساتھ بھلا کر و اس کے شر سے بچو۔انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد کا مئیر میرے مشورہ کے بغیر نہیں بنایا جا سکتا ،اگر ڈاکٹر طارق نے کھوکھر برادران کے امیدواروں سے گٹھ جوڑ کیا تو بھرپور طریقہ سے اپنا رد عمل دوں گا۔مسلم لیگ کے سینئر رہنما چوہدر ی اشرف گوجر نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کی پالیسیوں سے نہ صرف پارٹی کو شدید نقصان پہنچا ہے بلکہ خطرہ ہے کہ مزید پارٹی پوزیشن بھی خراب ہو گی اس پر وزیر اعظم کو معتبر اقدام کرنا ہو گا۔انہوں نے مزید کہا کہ کھوکھر برادران کو ڈاکٹر طارق کی ایما پر جتوایا گیا ہے یہ ایک گہری سازش ہے جسکابے نقاب ہونا ناگزیر ہے ،وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ کہیں پارٹی کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے کے لیے اقدامات تو نہیں کیے جارہے ہیں۔

چوہدری اشرف گوجر نے مزیدکہاکہ کھوکھر برادران سے اگر ن لیگ کا اتحاد ہو گیا تو حکومت کے لیے مزید پریشانیاں بڑھیں گی۔

مزید :

اسلام آباد -اہم خبریں -