”حج پیکج میں 50 ہزار روپے کی کمی کرنے کی پیشکش“

”حج پیکج میں 50 ہزار روپے کی کمی کرنے کی پیشکش“
”حج پیکج میں 50 ہزار روپے کی کمی کرنے کی پیشکش“

  

اسلا م آباد (ویب ڈیسک) وفاقی وزارتِ مذہبی امور کے زیر اہتمام حج پالیسی 2016ءکی تیاری اور اس میں مزید بہتری لانے کے لئے پانچ حاجی کیمپوں کراچی، لاہور، پشاور، اسلام آباد اور کوئٹہ میں کامیاب حج مشاورتی ورکشاپس کے انعقاد کے بعد شرکاءکی طرف سے دیگر تجاویز کے ساتھ یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ پرائیویٹ گروپ آرگنائزرز کے حج پیکیج کو گورنمنٹ سکیم کے برابر لایا جائے تا کہ گورنمنٹ سکیم کے ناکام درخواست دہندگان پرائیویٹ سکیم سے بھی بھرپور استفادہ حاصل کر سکیں۔ اخبار نوائے وقت کے مطابق ان تجاویز کے جواب میں پرائیویٹ گروپ آرگنائزرز نے پیشکش کی ہے کہ اگر وزارت ان کے حج ائیر فئیرکو گورنمنٹ سکیم کے برابر لے آئے اور منیٰ میں خیموں اور ٹرانسپورٹ کے کرایوں وغیرہ میں بھی وہی چھوٹیں اور رعائتیں دی جائیں جو گورنمنٹ سکیم کے حاجیوں کو حاصل ہیں تو وہ اپنے حج پیکیج کو 50ہزار روپے تک کم کرنے پر غور کر سکتے ہیں۔ مذہبی حلقوں، حج این جی اوز اور حج سے متعلقہ دیگر تنظیموں نے اس پیشکش پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 50 ہزار روپے کی کمی اونٹ کے منہ میں زیرہ کے برابر ہو گی اور اس کمی سے پرائیویٹ گروپ کا پیکیج پھر بھی متوسط طبقے کی پہنچ سے باہر ہو گا۔ ان تنظیموں نے یاد دلایا کہ پرائیویٹ سکیم اور گورنمنٹ سکیم میں ماسوائے مکہ رہائش کے علاوہ کوئی فرق نہیں۔ ائیرلائنز ہوں یا جدہ ائیرپورٹ پر کلیرنس کا مرحلہ، جدہ سے مکہ اور مکہ سے مدینہ یا مشاعر کی ٹرانسپورٹ کی سہولت ہو یا منیٰ کے خیموں میں رہائش، عرفات، مزدلفہ میں قیام ہو یا رمی جمرات سب مراحل گورنمنٹ سکیم کی طرح کے ہوتے ہیں اور ان میں پرائیویٹ والوں کو کسی قسم کی کوئی اضافی سہولت میسر نہیں ہوتی۔ مزید یہ کہ پرائیویٹ گروپ ارگنائزرز نے مکہ اور مدینہ رہائش گاہوں کا پانچ سالہ معاہدہ کیا ہوتا ہے جس کے نتیجے میں انہیں رہائشیں گورنمنٹ سکیم سے بھی کم کرائے پرپہلے ہی دستیاب ہوتی ہیں اس کے باوجود ان کے حج اخراجات گورنمنٹ سکیم سے دوگنا زیادہ ہوتے ہیں۔ یاد رہے حج 2015ءمیں گورنمنٹ سکیم کے حج اخراجات تقریباً 2 لاکھ 50 ہزار تھے جبکہ پرائیوٹ سکیم کے حج اخراجات ساڑھے چار لاکھ سے شروع ہو کر 10 لاکھ روپے تک تھے۔ان تنظیموں نے وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف اور سیکرٹری مذہبی امور مرزا سہیل عامر سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس کے باوجودپرائیویٹ گروپ آرگنائزرز کو اپنے حج پیکیج گورنمنٹ سکیم کے برابر لانے میں بہت زیادہ نقصان کا احتمال ہے تو ان کی باتوں میں آنے کی بجائے ایسے گروپ آرگنائزرز کو آگے لایا جائے جو سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود کوٹے کے منتظر ہیں اور اپنے پیکیج گورنمنٹ سکیم کے برابر لانے پر تیار ہیں۔

مزید :

بین الاقوامی -