راجیو گاندھی کے قاتل جیل میں رہیں گے، حکومت کو معافی کا حق نہیں ،بھارتی سپریم کورٹ

راجیو گاندھی کے قاتل جیل میں رہیں گے، حکومت کو معافی کا حق نہیں ،بھارتی سپریم ...
راجیو گاندھی کے قاتل جیل میں رہیں گے، حکومت کو معافی کا حق نہیں ،بھارتی سپریم کورٹ

  

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک)بھارت میں سپریم کورٹ نے تامل ناڈو عدالت کی جانب سے راجیو گاندھی کے قاتلوں کو رہا کرنے کے حکم کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ راجیو گاندھی کے قتل کے ساتوں مجرم جیل میں ہی رہیں گے۔تفصیلات کے مطابق بھارتی عدالت عظمی نے سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کے قتل کے الزام میں عمر قید کی سزا کاٹنے والے 7 مجرموں کی سزا معاف کرنے کے تامل ناڈو ریاست کے فیصلے کے خلاف مرکزی حکومت کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے کہا کہ کسی کی سزا کو معاف کرنے کا حق ریاستی حکومت کے بجائے مرکزی حکومت کے پاس ہے۔سپریم کورٹ کے پانچ ججوں کی آئینی بنچ کے اس فیصلے کے بعد اب راجیو گاندھی کے قتل کے ساتوں مجرم جیل میں ہی رہیں گے۔اس سے قبل تمل ناڈو کی حکومت نے انھیں رہا کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔عدالت نے کہا کہ جس معاملے کی تحقیقات میں مرکزی ایجنسیاں شامل ہوں یا جنھیں مرکزی قانون کے تحت سزا ہوئی ہو، ان کی سزا کی معافی کا حق مرکزی حکومت کے پاس ہے نہ کہ ریاستی حکومت کے پاس۔عدالت نے کہا کہ عمر قید کا مطلب تا حیات قید میں ہی رکھنا ہوتا ہے۔

تامل ناڈو کی جے للتا حکومت نے گذشتہ سال راجیو گاندھی کے قتل کے الزام میں جیل میں قید 7 قیدیوں کی رہائی کیلئے مرکزی حکومت سے سفارش کی تھی۔خیال رہے کہ راجیو گاندھی کو 21 مئی سنہ 1991 میں جنوبی ہند کے سری پیرمبدور میں ایک انتخابی ریلی کے دوران ہلاک کر دیا گیا تھا۔اس قتل کے الزام میں سنتھن، مروگن، پیراریولن، نلنی، رابرٹ پایس، جے یمار اور روی چندرن جیل میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔

مزید :

بین الاقوامی -