داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کی بیوی کو ’آزادی‘ مل گئی

داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کی بیوی کو ’آزادی‘ مل گئی
داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کی بیوی کو ’آزادی‘ مل گئی

  

بیروت(مانیٹرنگ ڈیسک) داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کی سابق بیوی سجی الدلیمی گزشتہ ایک سال سے اپنے 3بچوں کے ہمراہ لبنان کی ایک جیل میں قید تھی، جسے اب لبنانی حکومت نے القاعدہ سے منسلک گروہ النصرہ محاذ کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے میں آزاد کر دیا ہے۔ لبنان حکومت اور النصرہ محاذ میں قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ قطر حکومت نے کروایا تھا۔ چند ماہ قبل النصرہ محاذ نے لبنان کے 18فوجیوں کو گرفتار کر لیا تھا، جن میں سے انہوں نے 2کو قتل کر دیا جبکہ 16ابھی زندہ تھے۔ شدت پسند گروپ نے لبنان کو قطر کے ذریعے قیدیوں کے تبادلے کی پیش کش کی تھی۔ شدت پسندوں نے کہا تھا کہ لبنان اپنی جیلوں میں قید ہمارے 13قیدیوں کو رہا کر دے۔ بدلے میں ہم اس کے 16فوجیوں اور ایک قتل ہونے والی فوجی کی لاش اس کے حوالے کر دیں گے۔

مزید جانئے: امریکا کا واحد مسلم اکثریت شہر جس نے ریاست کے خلاف بغاوت کا اعلان کردیا، فیصلہ تسلیم کرنے سے انکار کردیا

معاہدے پر عمل درآمد کرتے ہوئے النصرہ محاذ نے لبنان کے 16فوجی رہا کر دیئے جس کے بعد لبنان نے بھی اس کے 13قیدیوں کو رہائی دے دی ہے۔ لبنان نے ابوبکر البغدادی کی سابق بیوی سجی الدلیمی کے ساتھ النصرہ محاذ کے ایک رکن کی بیٹی کو بھی رہا کیا ہے۔ان کی رہائی کی الجزیرہ ٹی وی نے لائیو کوریج کی۔ کوریج میں دیکھا گیا کہ ان کی رہائی پر النصرہ محاذ کے شدت پسندوں نے نعرے لگائے۔ وہ سجی الدلیمی کے بیٹوں کو پیار کر رہے تھے اور ان کے بوسے لے رہے تھے۔ سجی الدلیمی کو دہشت گردوں سے تعلقات کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا مگر آج رہائی کے بعد ایک ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سجی الدلیمی کا کہنا تھا کہ میں 6سال قبل ابوبکر البغدادی سے طلاق لے چکی ہوں۔ جب مجھے گرفتار کیا گیا تو میرا اس سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ اس نے بتایا کہ میں پہلے لبنان کے دارالحکومت بیروت جاﺅں گی اور اس کے بعد ترکی چلی جاﺅں گی۔

دوسری طرف لبنان کے اعلیٰ سطحی دفاعی حکام نے قیدیوں کے تبادلے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے بہادر جوان ہمیں واپس مل گئے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ یہ خوشی اس وقت تک ادھوری ہے جب ہمارے وہ فوجی بھی واپس نہیں آ جاتے جو داعش نے حراست میں لے رکھے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم داعش کے ساتھ بھی مذاکرات کرنے کے لیے تیار ہیں اور اس کے لیے ہمیں کسی تیسرے فریق کی تلاش ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -