پولیس میں جعلی بھرتیاں نالائقی ہے جس پر پولیس افسروں کو شرمندہ ہونا چاہیے،سپریم کورٹ

پولیس میں جعلی بھرتیاں نالائقی ہے جس پر پولیس افسروں کو شرمندہ ہونا ...
پولیس میں جعلی بھرتیاں نالائقی ہے جس پر پولیس افسروں کو شرمندہ ہونا چاہیے،سپریم کورٹ

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی)سپریم کورٹ کے مسٹر جسٹس اعجاز افضل خان اور مسٹر جسٹس اعجاز احمد چودھری نے پنجاب پولیس میں جعلی اہلکاروں کی بھرتیوں اور تبادلوں میں ملوث 163ملزموں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محکمے میں جعلی اہلکاروں کی بھرتیاں پنجاب پولیس کی انتہائی درجے کی نالائقی ہے جس پر پولیس کو شرمندہ ہونا چاہیے۔سپریم کورٹ لاہوررجسٹری میں فاضل بنچ نے سماعت شروع کی تو آر پی او ملتان طارق مسعود یٰسین ساتھی افسروں سمیت عدالت میں پیش ہوئے۔طارق مسعود یٰسین نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے بنچ کو آگاہ کیا کہ جعلی اہلکاروں کی بھرتیوں اور تبادلوں کے سکینڈل کی انکوائری مکمل ہو چکی ہے،163جعلی اہلکار کا سراغ لگایا گیا ہے،ملزموں کے خلاف مقدمات درج کر کے کارروائی کی جا رہی ہے، آرپی او نے عدالت کو بتایا کہ کوئی بھی اعلیٰ افسر کسی دانستہ غفلت کا مرتکب نہیں پایا گیا، اس پر جسٹس اعجاز احمد چودھری نے ریمارکس دیئے کہ پولیس نے خود کچھ نہیں کرنا ہوتا،عدالت نوٹس نہ لیتی تو پولیس کو کچھ پتہ نہیں چلنا تھا، دہشت گردی جعلی طریقے سے بھرتی ہو کر کوئی بھی افسوسناک کارروائی کر سکتے تھے، محکمے میں جعلی اہلکاروں کی بھرتیاں پنجاب پولیس کی انتہا درجے کی نالائقی ہے جس پر پولیس کو شرمندہ ہونا چاہیے، فاضل بنچ نے ملزموں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیتے ہوئے بوگس بھرتیوں اور تبادلوں کا معاملہ نمٹا دیاجبکہ جعلی پولیس اہلکاروں کی بحالی سے متعلق ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف محکمہ پولیس کی اپیلوں کی سماعت جاری رہے گی۔

مزید :

لاہور -