کرپشن میں ملوث 102سرکاری ملازمین 5سال تک حکم امتناعی کے پیچھے چھپے رہے،حکومت نے گرفتاری کے لئے ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا

کرپشن میں ملوث 102سرکاری ملازمین 5سال تک حکم امتناعی کے پیچھے چھپے رہے،حکومت ...
کرپشن میں ملوث 102سرکاری ملازمین 5سال تک حکم امتناعی کے پیچھے چھپے رہے،حکومت نے گرفتاری کے لئے ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی)پنجاب حکومت نے فیصل آباد انڈسٹریل اسٹیٹ کی اراضی کے حصول میں مالی بدعنوانیوں کے مرتکب 102سرکاری افسروں اورملازمین کی گرفتاری کے لئے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا ہے۔مسٹر جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے اس سلسلے میں دائر حکومت پنجاب کی درخواست پر ملزموں کے وکلائکو بحث کے لئے طلب کر لیاہے۔ان ملزموں نے محکمہ اینٹی کرپشن کی کارروائی کے خلاف 2010ئسے عبوری حکم امتناعی حاصل کررکھاہے جس کے خاتمہ کے لئے پنجاب حکومت نے یہ درخواست دائر کی ہے۔ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل پنجاب عبدالصمد نے عدالت کو آگاہ کیا کہ فیصل آباد کے لینڈ ایکوزیشن کلکٹر نے پٹواریوں،محکمہ جنگلات کے افسران اور ماتحت عملے سے مل کر جعلی سروے رپورٹ تیار کر کے 14کروڑ روپے کے لگ بھگ مالیت کے درخت اور املاک فروخت کر کے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا۔انہوں نے کہا کہ چیف سیکرٹری پنجاب نے انکوائری رپورٹ کی روشنی میں 102ملزمان کے خلاف کارروائی کی سفارش کر رکھی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملزمان نے عدالت عالیہ میں آئینی پٹیشن دائر کر کے2010ئسے حکم امتناعی لے رکھا ہے جبکہ ملزمان حکم امتناعی کی آڑ میں اینٹی کرپشن کے روبرو تفتیش میں بھی شامل نہیں ہو رہے۔انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزمان کو گرفتارنہ کرنے کے عدالت عالیہ کے حکم امتناعی کو ختم کرتے ہوئے ان کی گرفتاری کے احکامات صادر کئے جائیں۔ملزمان کے وکلائکے عدالت میں پیش نہ ہونے پر ملزمان کے وکیل کو عدالت میں پیش ہونے کا آخری موقع دیتے ہوئے قرار دیا کہ اگر ملزمان کے وکلائبحث کے لئے پیش نہ ہوئے تو یکطرفہ کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔

مزید :

لاہور -