لا قانونیت انتہا کو پہنچ چکی ،آسمان سے مسیحا نہیں اترے گا ،نظام خود درست کرنا ہوگا:چیف جسٹس پاکستان

لا قانونیت انتہا کو پہنچ چکی ،آسمان سے مسیحا نہیں اترے گا ،نظام خود درست کرنا ...
لا قانونیت انتہا کو پہنچ چکی ،آسمان سے مسیحا نہیں اترے گا ،نظام خود درست کرنا ہوگا:چیف جسٹس پاکستان

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا ہے کہ ملک میں لاقانونیت انتہا درجے کو پہنچ چکی ہے، من حیث القوم مسائل کا شکار ہیں، مسائل کے حل کے لئے آسمان سے کوئی مسیحا نہیں اترے گا بلکہ قوم کو خود ہی سر جوڑ کر بیٹھنا ہو گا۔لاہور ہائیکورٹ بار، سپریم کورٹ بار اور پاکستان بار کونسل کی طرف سے دیئے گئے عشایئے سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے مزید کہا کہ آج 68سال گزرنے کے بعد بھی لمحہ فکریہ یہ ہے کہ وہی پاکستان ہے جس کا خواب علامہ اقبال نے دیکھا تھا اور جس کے قیام کے لئے ہمارے بزرگوں نے قربانیاں دیں، ہم صحیح معنوں میں قوم نہیں بن سکے، ہر شخص اور ہر ادارہ اپنی اصلاح کی بجائے دوسروں پر تنقید کر رہا ہے، اگر عدلیہ کا جائزہ لیا جائے تو یہاں بھی حالات مختلف نہیں ہیں، آئین میں توازن برقرار رکھنے کی تلقین کی جاتی ہے، یہ بات عام تجربے میں آئی ہے کہ جب ہم اپنے حقوق کی بات کرتے ہیں تو حکومت سے یہ توقع کرتے ہیں کہ روٹی کا نوالہ بھی توڑ کر ہمارے منہ میں ڈالے، اگر کہیں نل کھلا رہ گیا ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ کیونکہ یہ سرکاری نلکہ ہے تو اسے بند بھی سرکار ہی کرے، یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ ہم وسائل کا ضیاع کر رہے ہیں، بدانتظامی، کرپشن کی وجہ سے ہم تباہی کے دھانے پر پہنچ چکے ہیں، ہم آج بے یقینی اور بے حسی کا شکار ہیں، اگر آج ہم ان مسائل پر قابو نہیں پاتے تو یہ مسائل کبھی حل نہیں ہوں گے، آج دنیا کہ وہ اقوام جنہیں ہمارے بعد آزادی نصیب ہوئی وہ بہتر منصوبہ بندی کی وجہ سے ترقی یافتہ ہیں اور ہم جہالت اور لاقانونیت کی وجہ سے اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ عام آدمی ٹریفک سگنل پر بھی کھڑا ہونا مناسب نہیں سمجھتا، ٹیکسوں کی ادائیگی، سوئی گیس اور بجلی پانی کے بلوں میں چور بازاری عام ہے، نامناسب ناپ تول اور ناقص خوراک کی وجہ سے معصوم بچے بھی محفوظ نہیں ہیں، ان مسائل کو حل کرنے کے لئے آسمان سے کوئی مسیحا نہیں اترے گا، قوم کو ہی سر جوڑ کر بیٹھنا ہو گا، اپنے اپنے فرائض احسن طریقے سے ادا کریں تو 50برسوں میں دنیا کی صف اول قوموں میں شامل ہو سکتے ہیں، عدلیہ میں وراثتی مشکلات کا سامنا ہے، امید ہے کہ ان پر جلد قابو پا لیں گے، کوئی ضلعی عدلیہ یا اعلی عدلیہ کا جج آئین اور قانون سے بالا تر نہیں، میرٹ ہماری ترجیح ہے اور مین پرامید ہوں کہ بار ایسوسی ایشنز اور وکلاءمکمل تعاون کریں گے ، آنے والے وقتوں میں ہر اہم کام میں بار سے مشاورت کی جائے گی،چیف جسٹس پاکستان نے مزیدکہا کہ قومی وسائل کا جس بے دری سے ضیاع کیا ہے اس کی مثال پوری دنیا میں کہیں نہیں ملتی ،بحیثیت قوم بے یقینی کا شکار ہیں ،بے شمار وسائل کے باوجود غربت ، جہالت ، بے روزگاری ، ناانصافی اور لاقانونیت کی دلدل میں دھنس چکے ہیں ،کوئی باہر سے نہیں آئے گا یہ سارے مسائل ہمیں خود ہی حل کرنا ہوں گے ۔ قانون کی حکمرانی کا پرچم بلند کرنے اورسستے انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائیں گے۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ لاہور وہ شہر ہے جس میں قرارداد پاکستان منظور کی گئی ،انہوں نے کہا کہ افسوس ہم آج بھی صحیح معنوں میں قوم نہیں بن سکے ،اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے اندرونی اور بیرونی خلفشار کا شکار ہیں ،آئین پاکستان طرز حکومت کی وضاحت کرتا ہے اور معاشرے میں آدمی کیلئے حقوق و فرائض کی بنیادی ضمانت بھی فراہم کرتا ہے ،ان پر کچھ ذمہ داریاں بھی عائد کرتا ہے تاکہ بہتر صحت مند اور انصاف پر مشتمل معاشرہ تشکیل پاسکے۔انہوں نے کہا کہ جس بے دردی اور لاپرواہی سے اپنے قومی وسائل کا ضائع اور غلط استعمال کرتے ہیں دنیا میں شائد اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ہمیں اپنے زیر زمین آبی وسائل کو سامنے رکھنے کی ضرورت ہے لیکن کرپشن کی وجہ سے صورتحال تباہی کے دھانے پر پہنچ چکی ہے۔،ہم غربت ، بے روز گاری ، ناانصافی اور آبادی میںاضافہ ہوتا رہے گا ،آئین اور قانون پر عمل داری صرف وکلا اور عدلیہ کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر شہری کا فرض ہے تاہم وکلا کی ذمہ داری عام شہریوں سے بڑھ کر ہے ،انہیں اپنے آپ کو ایک رول ماڈل کے طور پر پیش کرنا چاہئے۔چیف جسٹس پاکستا ن نے کہا کہ میں اور میرے رفقاءتمام تر مشکلات کے باوجود سسٹم کو بہتر بنانے میں کوئی دقیقہ نہیںچھوڑیں گے لیکن آپ کے تعاون بھی ضرورت ہے۔حال ہی میں پنڈی اور ملتان میں نامناسب واقعات پیش آئے جن کا سدباب ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی عہدے پر ہوں آئین و قانون سے بالا نہیں ہونا چاہئے ،چاہے کوئی ماتحت عدلیہ ، ہائیکورٹ یا کوئی سپریم کورت میں ہو ایک ہی جیسی عزت و احترام کا مستحق ہے ،آنیوالے وقت میں آپ کے بہتر تعاون سے ملک میں قانون کی حکمرانی کاپرچم بلند کرنے اور سستے انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائیں گے۔انہوں نے کہا کہ میری اگلی ترجیحات میں میرٹ پر عمل کرنا ہے اور آپ ہمیں اس پر مکمل کار بند پائیں گے ۔عشایئے سے سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس میاں ثاقب نثار نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے حلف اٹھایا تو مجھ سے کہا کہ کیا1970ءکے بعد اعلیٰ عدلیہ کے کسی جج سے کوئی کوتاہی نہیں ہوئی؟، کیا ہمیں اپنے اداے میں احتساب نہیں کرنا؟، خوداحتسابی کا مقصد عدلیہ کے نظام کو تباہ کرنا نہیں ہے بلکہ ججز کو طاقت دینی ہے جو واقعی مثبت انداز میں اپنا کام سرانجام دیں، اپنے گھر میں صفائی یا احتساب نہیں کریں گے تو لوگوں کی یہ تنقید جائز ہو گی کہ عدلیہ اپنا کام درست انداز میں نہیں کر رہی، اس بات سے قطعاً مراد نہیں کہ عدلیہ کے ادرے کو تباہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، اعلی عدلیہ کے کسی جج نے اگر کوئی غلطی نہیں کی تو اسے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے، عشایئے سے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ اعجاز الاحسن، صدر لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن پیر مسعود چشتی، صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن بیرسٹر علی ظفر، وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل اعظم نذیر تارڑ، چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی پاکستان بار کونسل احسن بھون نے بھی خطاب کیا۔

مزید :

قومی -