اگر آپ پیپسی یا کوک کین میں پیتے ہیں تو ابھی سے اس عادت کو ترک کردیں کیونکہ اس کی وجہ سے آپ اس مہلک بیماری کا شکار ہوجائیں گے، سائنسدانوں نے انتہائی خطرناک انکشاف کردیا

اگر آپ پیپسی یا کوک کین میں پیتے ہیں تو ابھی سے اس عادت کو ترک کردیں کیونکہ اس ...

لندن(نیوزڈیسک) ایلومینیم ایک ایسی دھات ہے جس کا استعمال ہم اپنی روزمرہ زندگی میں کرتے ہیں اور اس میں کوک اور پیپسی پی کر بہت فخر محسوس کرتے ہیں لیکن اس کے بارے میں ایک حالیہ تحقیق میں ہوشربا انکشاف ہوا ہے۔تحقیق کاروںکا کہناہے کہ اس دھات کی وجہ سے انسان الزائمر (ایسی بیماری جس میں انسان کی یاداشت ختم ہوجاتی ہے)کا شکار ہوسکتاہے۔

برطانیہ کی کیلی یونیورسٹی میں کی گئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ دماغ یا جسم میں اس دھات کی زیادتی سے الزائمر لاحق ہوتا ہے۔تحقیق میں دیکھا گیا کہ جو لوگ اپنے مرنے کے وت اس بیماری کا شکار تھے ان میں سے بیشتر لوگوں کا تعلق اپنی زندگی میں ایلومینیم کے ساتھ رہا تھا۔ سائنسدانوں نے ایک 66سالہ انسان کا بھی مطالعہ کیا جو اپنے کام کے دوران آٹھ سال تک ایلومینیم کی گرد کا شکار رہا تھا۔ان کاکہنا ہے کہ سانس کے ذریعے ایلومینیم کے ذرات اس کے پھیپھڑوں میں داخل ہوئے اور وہاں سے کون کے ذریعے دماغ کومنتقل ہوئے۔یہ پہلا موقع نہیں ہے جس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ الزائمر کا شکار لوگوں کے خون میں ایلومینیم کی مقدار زیادہ تھی۔2004ءمیں بھی ایک برطانوی خاتون کا پتا لگا تھا جسے موت کے وقت الزائمر کا عارضہ لاحق تھا اور اس کے جسم میں بھی ایلومینیم کے اثرات زیادہ تھے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جو لوگ ایلومینیم کے قریب رہتے ہیں جیسے کان کن،فیکٹری ملازمین،خراد کا کام کرنے والے لوگ وغیرہ اس سے زیادہ متاثرہوتے ہیں۔ان کاکہناہے کہ نہ صرف الزائمر بلکہ دیگر بیماریاں جیسے چھای کا سرطان،دمہ،کھانسی اور پھیپھڑوں کا ناکارہ ہونا بھی ایلومینیم کی وجہ سے ہے۔

ہمارے اردگرد ایلومینیم

ایلومینیم صرف کان یا پہاڑوں پر نہیں پایاجاتابلکہ ہمارے اردگرد اس دھات کی موجودگی خطرناک حد تک زیادہ ہے۔یہ کئی کھانوں میں بھی شامل ہوتا ہے اور ہمارے جسم میں داخل ہونے لگتا ہے۔کئی کھانے کی چیزیں ان میں پیک کی جاتی ہیں جیسے مشروبات(پیپسی، کوک)، پیک کئے ہوئے کھانے بھی ان میں ملتے ہیں۔کئی ادویات اورویکسین جیسے ہیپا ٹائٹس اے اور بی وغیرہ میں بھی ان کے ذرات موجود ہوتے ہیں۔کاسمیٹک مصنوعات میں بھی اس دھات کا استعمال کیاجاتاہے جبکہ خوشبویات میں بھی انہیں ڈالا جاتا ہے۔لہذا اگلی بار ان چیزوں کا استعمال ترک کردیں یا انہیں بہت کم مقدارمیں استعمال کریں۔

مزید : تعلیم و صحت