بھوک سے مرتے ان بچوں کی یہ تصویر کس اسلامی ملک سے آئی ہے؟ ایسی تلخ حقیقت کہ جان کر ہر مسلمان شرم سے پانی پانی ہوجائے

بھوک سے مرتے ان بچوں کی یہ تصویر کس اسلامی ملک سے آئی ہے؟ ایسی تلخ حقیقت کہ ...
بھوک سے مرتے ان بچوں کی یہ تصویر کس اسلامی ملک سے آئی ہے؟ ایسی تلخ حقیقت کہ جان کر ہر مسلمان شرم سے پانی پانی ہوجائے

  


بغداد (مانیٹرنگ ڈیسک) گزشتہ دو سال سے داعش کے زیر قبضہ شہر موصل کو آزاد کروانے کے لئے عراقی افواج فیصلہ کن جنگ لڑ رہی ہے ،لیکن یوں لگتا ہے کہ اس جنگ کے خاتمے سے پہلے ہی شہر میں محصور لاکھوں بد قسمت انسان بھوک اور پیاس سے تڑپ تڑپ کر ہلاک ہو جائیں گے۔

موصل میں پھنسے ہوئے 15لاکھ سے زائد افراد پر کیا بیت رہی ہے اس کا اندازہ حال ہی میں سامنے آنے والی ایک ویڈیو سے کیا جا سکتا ہے جس میں نظر آنے والے دو بچے زندہ تو ہیں لیکن حقیقت میں ان بیچاروں کی حالت مردوں سے بھی بد تر ہو چکی ہے۔یہ ویڈیو ریڈیو فائیو لائیو کی خاتون صحافی نے بنائی ،جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دو اور نو سال کے دو بچے مسلسل بھوک کے باعث ہڈیوں کے ڈھانچے میں بدل چکے ہیں، البتہ یہ اتنے خوش قسمت ضرور تھے کہ ان کی ماں انہیں زندہ حالت میں حسن شام پناہ گزین کیمپ تک لانے میں کامیاب ہو گئی۔ صحافی نے بچوں کی والدہ سے بات کی تو اس کا ہر لفظ رلا دینے والا تھا۔اپنے بچوں کی حالت پر آنسو بہاتے ہوئے اس کا کہنا تھا کہ "یہ تو پہلے ہی مر چکے ہیں۔ میں دیکھ سکتی ہوں کہ یہ پہلے ہی مر چکے ہیں۔مجھے یقین نہیں ہوتا کہ یہ ابھی تک زندہ ہیں۔ "

دنیا کا وہ سمندر جس میں صرف تیرنے سے ہی جادوئی طور پر دل اور سینے کی بیماریوں کا علاج ہوجاتا ہے

خاتون نے بتایا کہ اس کے بچوں کو ایک ماہ تک کھانے کو کچھ نہیں ملا تھا، جبکہ اس سے پہلے ایک طویل عرصے کے دوران انہیں ملنے والی خوراک اور پانی نہ ہونے کے برابر تھا۔اس مسلسل بھوک اور پیاس نے انہیں ہڈیوں کے ڈھانچے میں بدل کر رکھ دیا ہے اور انکے لئے اٹھ کر بیٹھنا بھی ممکن نہیں رہا ۔خاتون کا کہنا تھا کہ وہ اپنے بچوں کو لے کر داعش کے جنگجوﺅں کے پاس گئی اور انکی منت سماجت کی کہ وہ اسے شہر سے باہر جانے دیں ورنہ اس کے بچوں کی موت ہو جائے گی،مگر اسے اجازت نہ دی گئی۔ موصل پر عراقی افواج کے حملے کے دوران وہ اپنی جان پر کھیل کر دونوں بچوں کو لے کر شہر سے نکلی اور کسی طرح پناہ گزین کیمپ تک پہنچ گئی ۔ خاتون کا یہ بھی کہنا تھا کہ موصل شہر کے داعش کے زیر قبضہ حصے میں پانی اور خوراک ہے اور نہ بیماروں کے لئے ادویات ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ محصور علاقے میں ہزاروں بچوں کا یہی حال ہے اور اس بات کی امید بہت کم رہ گئی ہے کہ وہ زندہ بچ سکیں گے۔

مزید : بین الاقوامی