80ہزار پلاٹوں کی کمپیوٹرائزیشن کے لئے خصوصی پراجیکٹ ، 30کروڑلاگت آئیگی

80ہزار پلاٹوں کی کمپیوٹرائزیشن کے لئے خصوصی پراجیکٹ ، 30کروڑلاگت آئیگی

 لاہور(اپنے خبر نگار سے)لاہورڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل زاہد اختر زمان نے بتایا ہے کہ ایل ڈی اے کی رہائشی سکیموں میں واقع 80ہزار سے زائد پلاٹوں کی فائلوں کی سکیننگ اور کمپیوٹرائزیشن کے لئے 30کروڑ روپے کی لاگت سے خصوصی پراجیکٹ شروع کر دیا گیا ہے ۔ پہلے مرحلے میں جوہر ٹاؤن ‘گلبرگ او ر ایونیو ون سکیموں کا ریکارڈ کمپیوٹرائزکیاجا رہا ہے ۔منصوبے کے تحت ان پلاٹوں کی اراضی کا تمام ریکارڈمحکمہ ریونیو اور دیگر دفاتر کی بجائے ایک جگہ اکٹھا کر دیا جائے گا جس کے نتیجے میں پلاٹوں کی خریدو فروخت میں فراڈ کے امکانات کا خاتمہ اور شہریوں کی درخواستوں پر تیزی سے عمل در آمد ممکن ہو سکے گا۔ ایل ڈی اے کی مختلف رہائشی سکیموں کا لینڈ آڈٹ بھی کروایا جا رہاہے اور ابھی تک جوہر ٹاؤن سکیم کے پانچ بلاکوں میں اربوں روپے مالیت کے 80پلاٹ دریافت کئے گئے جن کی نجی ملکیت کا کوئی ریکارڈ دستیاب نہیں ہو سکا ۔ قانونی تقاضے پورے کر کے ان پلاٹوں کی نیلامی سے حاصل ہونے والی رقم شہر کے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کی جائے گی ۔حالیہ چند برسوں کے دوران ایل ڈی اے نے اعلیٰ معیار برقرار رکھتے ہوئے تیز رفتاری سے ترقیاتی منصوبے مکمل کئے ہیں جو دیگر اداروں کے لئے مثال ہے ۔ چوبچہ پھاٹک پر ایک کلومیٹر طویل انڈر پاس سمیت5ارب روپے کی لاگت سے کینال روڈ کا توسیعی منصوبہ چار ماہ کی قلیل مدت میں مکمل کیا جائے گا۔ وہ گزشتہ لاہورڈویلپمنٹ اتھارٹی کے مطالعاتی دورے پر آنے والے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ کراچی میں 20ویں سینئر مینجمنٹ کورس کے شرکاء کے 26رکنی وفد کو ایل ڈی اے کے تنظیمی ڈھانچے اور مختلف شعبوں کے فرائض اور کاکردگی کے بارے میں بریفنگ دے رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ خریداروں کے مفادات کے تحفظ کے لئے پلاٹ فروخت کرنے والوں کے لئے ایل ڈی اے سے این او سی حاصل کرنا لازمی قرار دے دیا گیا ہے ۔جعلسازی کی روک تھام کے لئے نئی رہائشی سکیموں ایونیو ون اور ایل ڈی اے سٹی میں مختار عام کے ذریعے پلاٹوں کی فروخت پر پابندی عائد ہے ۔جعلی دستاویزات پر پلاٹوں کی فروخت کے سد باب کے لئے ٹرانسفر لیٹر سمیت 13اہم دستاویزات سیکورٹی فیچرڈ پیپرز پر جاری کی جا رہی ہیں ۔

مزید : میٹروپولیٹن 1