تھر سے واپسی

تھر سے واپسی
 تھر سے واپسی

  


تھرپارکر میں مثل مشہور ہے کہ 1965کی جنگ میں رن آف کَچھ کے محاذ پر سابق صدر جنرل پرویز مشرف بھارت کے ساتھ لڑائی لڑتے ہوئے زخمی ہوئے تو تھر کے لوگوں نے ان کی تیمارداری کی تھی۔1999میں ملک پر قبضے کے بعدجب وہ پاکستان کے مضبوط صدر بنے تو تھرپارکر کے باسیوں کا احسان یاد آیا تو انہوں نے تھرپارکر سے اس بزرگ کو اسلام آباد بلوایا جس نے اپنے گاؤں والوں کے ساتھ مل کر ان کی دیکھ بھال کی تھی ۔ ملاقات کے دوران پوچھا کہ وہ بطور صدر ان کے لئے کیا کرسکتے ہیں تو بزرگ نے کہا کہ اس کی تو گزر گئی گزران لیکن کیا ہی اچھا ہو اگر تھرپارکر تک سڑک اور میٹھا پانی پہنچا دیا جائے تاکہ علاقے کی آئندہ نسلوں کی زندگیاں آسان ہو جائیں۔ سونے پر سہاگہ یہ ہوا کہ سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے سندھ میں وزیر اعلیٰ ڈاکٹر ارباب غلام رحیم کا تعلق بھی تھرپارکر سے تھا ،چنانچہ چشم فلک نے دیکھا کہ نہ صرف تھرپارکر تک سڑک گئی بلکہ مرکزی سڑک کے دائیں بائیں واقع چھوٹے چھوٹے دیہاتوں کو بھی ذیلی سڑکوں کے ذریعے جوڑ دیا گیا۔

موجودہ حکومت نے تھرپارکر سے کوئلے کے ذخائر نکالنے کا منصوبہ بنایا تو چین کے ساتھ مل کر بدین سے تھرپارکر تک ایک جرنیلی سڑک تعمیر کردی جس پر کاروں، جیپوں، مسافری ویگنوں اور ٹرکوں کے علاوہ ان موٹر سائیکلوں کی بھرمار نظر آتی ہے جو اہل علاقہ تھر کے صحراؤں سے سندھ کے خوشحال اور سرسبز علاقوں تک آنے جانے کے لئے روزانہ کی بنیاد پر استعمال کرتے ہیں۔ اب تھر پارکر جانا ایسے ہی ہے جیسے مال روڈ سے اٹھ کر رائے ونڈ روڈ چلے جائیے ! ایک انتہائی مضبوط اور چوڑی دورویہ سڑک سندھ کے سابق وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے ضلع بدین سے شروع ہو کر دو سے تین گھنٹے میں تھرپارکر لے جاتی ہے۔ تقریباً اتنا ہی وقت کراچی سے بدین پہنچنے میں لگتا ہے ۔اگرچہ تھر میں ایک ہیلی پیڈ بھی بنا ہوا ہے جہاں ہیلی کاپٹر بآسانی اتارا اور چڑھایا جاتا ہے لیکن موٹروے جیسی اس سڑک پر سفر مسافر کو تھرپارکر کی زندگی سے صحیح معنوں میں متعارف کرواتاہے!

سی پیک منصوبے کے بعد تھرپارکر میں کوئلہ نکالنے کا کام پاک چین دوستی کی ایک اور عمدہ مثال ہے۔ راقم کو گزشتہ ہفتے کے اختتام پر تھرپارکرجانے کا موقع ملا جہاں پاکستانی اور چینی انجنیئرمل کر کوئلہ نکالنے کے کام کا آغاز کر چکے ہیں۔بلاک ون اور ٹو میں زیر زمین کوئلے پر سے مٹی اٹھانے کا کام جاری ہے ، کل ملا کر بارہ ایسے بلاک کی نشاندہی ہوئی ہے جہاں پر کوئلے کے وسیع ذخائر موجود ہیں جنھیں اگلے پچاس برسوں تک استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ حکومت مقامی لوگوں سے مطلوبہ قطعہ اراضی ایک ایک کرکے خریدتی جا رہی ہے اور زمین چھڑوانے کا معقول معاوضہ بھی ادا کیا جاتا ہے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اہل علاقہ کو یقین ہے کہ وہاں سے کوئلہ نہیں نکلے گا اور بالآخر انہیں ان کی زمینیں واپس مل جائیں گی ، چنانچہ انہوں نے خوشی خوشی معاوضے وصول کرکے اردگرد کے علاقوں میں ڈیرے ڈال دیئے ہیں کہ جونہی کوئلہ نکالنے میں ناکامی ہو ، وہ دوبارہ سے اپنی زمینوں پر جابیٹھیں ، بتایا گیا کہ اس سے قبل بھی وہاں سے کوئلہ نکالنے کی کوشش کی گئی تھی لیکن کامیابی نہ ہوئی تھی ، چنانچہ مقامی لوگ اپنی جانب سے حکومت کو بیوقوف بنا کر زمینوں کے دام وصول کر چکے ہیں جو بقول ان کے دوبارہ سے ان کے تصرف میں ہوں گی۔لیکن سائیٹ پر کام کرنے والے انجنئیروں کا کہنا ہے کہ جون 2019میں کوئلے کی پہلی کھیپ زمین سے نکل آئے گی جسے قریب ہی زیر تعمیر تھر کول پاور پلانٹ میں استعمال کرکے بجلی پیدا کرنے کا کام شروع کردیا جائے گا۔ پھر وہاں ماڈل گاؤں بنائے جائیں گے جن میں ہر نئے شادی شدہ جوڑے کوگھر الاٹ کیا جائے گا!لاہور کی طرح اب وہاں بھی دھڑا دھڑ شادیاں ہوتی نظر آئیں گی!

یہ تذکرہ دلچسپی سے خالی نہیں کہ تھرپارکر میں بجلی پہلے سے پہنچ چکی ہے اور وہاں کے مکین کھلے آسمان تلے سورج کی تیز شعاؤں میں اٹھتے، بیٹھتے ، کام کرتے ہوئے بجلی کے پنکھوں کی ہوا کھاتے نظر آتے ہیں، ٹی وی سیٹ صرف مردان خانوں تک محدود ہیں ، ابھی تک کوئی کیبل نیٹ ورک وہاں نہیں پہنچا ، اس کے برعکس ڈش انٹینوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ تھرپارکر کی مرکزی جرنیلی سڑک پر سفر کرتے ہوئے آپ کو ارد گرد ریت کے ٹیلے اور بڑے بڑے میدان عام دیکھنے کو ملتے ہیں جن پر جھاڑیوں ، بیریوں اور نیم کے درختوں کے علاوہ مقامی طور پر اگنے والی جڑی بوٹیوں کے انبار نظر آتے ہیں جن کے بیچوں بیچ کچے پکے راستے گم ہوتے دکھائی دیتے ہیں اور جگہ جگہ بکریوں، بھیڑوں اور گائے بیلوں کے جھنڈ کے جھنڈگھومتے جڑی بوٹیاں چرتے دکھائی دیتے ہیں۔ بتایا گیا کہ مقامی لوگ ان جانوروں کو باندھ کر نہیں رکھتے بلکہ سہہ پہر کے وقت بیابانوں میں چرنے کے لئے چھوڑ آتے ہیں اور اگلے دن صبح سویرے فجر کے وقت جا کر واپس لے آتے ہیں، کوئی چرانے کی جرات نہیں کرتا کیونکہ ریت پر پاؤں کے نشان سے اپنے جانور اور چور کا کھرا بآسانی مل جاتا ہے ، البتہ اگر کوئی بھیڑ بکری سڑک پر آجائے تو موٹر سائیکل پر ڈال کر چوری کرنے کے واقعات میں ضرور اضافہ ہورہا ہے کیونکہ سڑک پر پاؤں اور پہیوں کا کھرا ڈھونڈنا مشکل ہوتا ہے۔ تھر کے مقامی لوگ باجرے کی روٹی کھاتے ہیں اور گھروں میں سالن معمول سے نہیں پکتا بلکہ لوگ لسی کے ساتھ روٹی کھانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ لڑکوں کے ساتھ ساتھ لڑکیوں کو پڑھانے کا رجحان بڑھ رہا ہے اور جرنیلی سڑک پر ویگنوں کے ساتھ چمٹے ہوئے مقامی طالب علموں کے جھنڈ بآسانی دیکھے جاتے ہیں۔

پنجاب کے دیہاتوں کے برعکس تھر میں مرد حضرات دھوتی استعمال کرنے کے بجائے شلوار قمیض میں ملبوس نظر آتے ہیں ، اپنے قیام کے دوران ہمیں کوئی بھی مقامی مرد شلوار قمیض کے سوا کچھ اور زیب تن کئے نظر نہیں آیا، چنانچہ جو ملبوساتی علامتیں پنجاب میں بعض حوالوں سے جانی جاتی ہیں ان کے تناظر میں تھرپارکر کے لوگ محض شلوار قمیض کے استعمال کے سبب سلجھے ہوئے دکھائی پڑتے ہیں ، لباس کا شخصیت کو متعارف کروانے میں اتنا بڑا کردار ہمیں تھرپار کر جاکر محسوس ہوا۔ البتہ مقامی عورتیں شلوار قمیض استعمال نہیں کرتیں اور اس کے بجائے وہ مقامی لہنگااور چولی استعمال کرتی ہیں جس پر ایک لمبی چادر سے پورے جسم کو ڈھانپا جاتا ہے اور اسی چادر سے چہروں کو لمبے پردے سے ڈھانپا بھی جاتا ہے ، بازور بھر چوڑیاں وہاں کی خواتین کی زندگیوں کا جزو لاینفک ہے ، ان چوڑیوں کی تعداداور رنگ کسی بھی خاتون کے سوشل سٹیٹس کو اجاگر کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے ۔ تھرپارکر میں پراسرار خاموشی ہے جس کے اندر سانپ کی ایک پھنکار پورے علاقے کو دہشت زدہ کردیتی ہے ، سانپ ڈسے کا علاج آج بھی وہاں دم کرنے سے کیا جاتا ہے ۔ اس خاموشی میں تھرکول پراجیکٹ پر چینی ٹرکوں ، ڈمپروں اور ایکسکاویٹروں کی آوازیں موسیقیت کا واحد تاثر پیدا کرتی ہیں ، پراجیکٹ پر مٹی ہٹانے کا کام دن رات جاری ہے اور بڑے بڑے چینی ڈمپر منوں کے حساب سے مٹی اٹھا کر کیڑیوں کی طرح لائن میں لگے بڑے بڑے ڈھیر لگاتے دکھائی دیتے ہیں، دن ہو یا رات ان ڈمپروں کی گھوں گھوں کا شور ارد گرد کے علاقوں میں سنائی دیتا رہتا ہے۔

تھرپارکر میں قیام کے دوران سب سے دلچسپ بات یہ لگی کہ وہاں پر پانامہ پیپرز پر بحث ہوتی ہے نہ سول ملٹری کشیدگی پر دلائل سننے کو ملتے ہیں، نہ کسی کوپتہ ہے کہ نواز شریف وزیراعظم رہیں گے یا نہیں اور نہ کوئی عمران خان کا فین نظر آتا ہے ۔ البتہ قائد عوام بھٹو کے ساتھ وابستگی کے نشان ضرور ملتے ہیں ،تھر میں داخلے کے مرکزی گیٹ پر ’باب قائد عوام شھید ذوالفقار علی پتو‘ جلی حروف میں درج ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ وہاں پیپلز پارٹی کے علاوہ کوئی اور پارٹی نہیں ہے جس کی عملداری بھی گیٹ کے باہر باہر ہے ، تھر کے اندر نہ سیاست ہے نہ سیاسی جماعت ہے ، اگر آپ اس ڈپریشن سے نکلنا چاہتے ہیں کہ کیا حکومت 2018تک مدت پوری کرے گی یاکیا نیا آرمی چیف سیاست میں دلچسپی لے گا یا نہیں تو کچھ روز تھر چلے جائیے ، آپ کے خون کی گردش اور انزائٹی لیول ٹھیک ہو جائیں گے!

مزید : کالم