امن کے دور میں ہوتا ہے اسلام کا فروغ۔۔۔۔۔۔

امن کے دور میں ہوتا ہے اسلام کا فروغ۔۔۔۔۔۔

اسلام امن و راحت اور سکینت کا دین ہے یہ پیار اور محبت پھیلانا چاہتا ہے اس میں نفرت اور دشمنی کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔تاریخ اسلام کا مطالعہ کریں تو صاف دیکھائی دیتا ہے کہ جب جب امن کی فضا اور امن کا دور میسر آیا اسلام پھیلتا ہی چلا گیا اس لئے کہ اس کے پاس واضح دلائل و براہین ہیں محض عناد اور تشددکے زور پر اس کو قطعاً فروغ نہیں مل سکتا۔عہد رسالت پر ایک نظر دوڑائیں تو یہ سمجھنے میں قطعاً کوئی دقت پیش نہیں آتی کہ عقیدہ توحید کی دعوت اس قدر سیدھی، صاف اور دل میں اتر جانے والی دعوت ہے کہ ہر قلب سلیم رکھنے والا شخص اسے فوراً قبول کرلینے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ قرآن مجید کا انداز بیان اس قدر موثر اور شیریں ہے کہ اس کے اندر لوگوں کے دل ودماغ کو مسخر کرنے کی بے پناہ قوت ہے۔ مکی زندگی میں مشرکین کے شدید مظالم کی وجہ سے اسلام قبول کرنا گویا اپنی موت کو دعوت دینا تھا لیکن اس کے باوجود جو شخص ایک دفعہ عقیدہ توحید سمجھ لیتا اور قرآن مجید کی آیات سن لیتا وہ ہر طرح کا خطرہ مول لے کر دائرہ اسلام میں داخل ہوجاتا۔ مشرکین مکہ کی مخالفت، استہزاء، بدترین جسمانی اور ذہنی تشدد میں سے کوئی بھی ہتھکنڈہ لوگوں کو دائرہ اسلام میں داخل ہونے سے نہ روک سکا۔ البتہ مشرکین کے ان مظالم کا یہ اثر ضرور ہوا کہ لوگوں کے دائرہ اسلام میں داخل ہونے کی رفتار کم رہی، لیکن صلح حدیبیہ میں جب یہ بات طے کردی گئی کہ جو (فرد) یا قبیلہ مسلمانوں سے ملنا چاہے یا قریش مکہ سے ملنا چاہے اسے پوری آزادی ہوگی تب اس معاہدے کے بعد لوگوں کے دائرہ اسلام میں داخل ہونے کی رفتار میں حیرت انگیز حد تک اضافہ ہوگیا۔ صلح حدیبیہ سے قبل اور بعد لوگوں کے دائرہ اسلام میں داخل ہونے کی رفتار کا اندازہ درج ذیل اعداد وشمار سے لگایا جاسکتا ہے۔

ہجرت مدینہ سے قبل مسلمانوں کی کم وبیش تعداد: 300

11 نبوت میں مدنی مسلمانوں کی تعداد: 6

بیعت عقبہ اولیٰ (12 نبوت) میں مدنی مسلمانوں کی تعداد: 12

بیعت عقبہ ثانی (13 نبوت) میں مدنی مسلمانوں کی تعداد: 72

غزوہ بدر (2ھ) میں اسلامی لشکر کی تعداد: 313

غزوہ احد (3 ھ) میں اسلامی لشکر کی تعداد: 700

غزوہ احزاب (5ھ) میں اسلامی لشکر کی تعداد: 1000

غزوہ حدیبیہ (6 ھ) میں اسلامی لشکر کی تعداد: 1400

غزوہ خیبر (7 ھ) میں اسلامی لشکر کی تعداد: 1400

صلح حدیبیہ (6 ہجری) سے پہلے اور بعد لوگوں کے دائرہ اسلام میں داخل ہونے کی رفتار

غزوہ مکہ (8 ھ) میں اسلامی لشکر کی تعداد: 10,000

غزوہ تبوک (9 ھ) میں اسلامی لشکر کی تعداد: 30,000

حجتہ الوداع (10 ھ) میں اسلامی لشکر کی تعداد124000

غور فرمائیے! صلح حدیبیہ سے قبل 19 سالوں میں اسلامی لشکر کی زیادہ سے زیادہ تعداد 1400 تک رہی جبکہ صلح حدیبیہ کے بعد صرف 4 سالوں میں یہ تعداد 1400 سے بڑھ کر ایک لاکھ 24 ہزار تک پہنچ گئی۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کو زمانہ امن میں آزادی کے ساتھ پھلنے پھولنے کے مواقع میسر آجائیں تو یہ چند سالوں میں دنیا کا اکثریتی مذہب بننے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے عہد حکومت میں فتوحات کی نسبت اشاعت اسلام پر توجہ دی گئی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آپ کی سلطنت میں ذمی اس کثرت سے مسلمان ہونے لگے کہ جزیہ کی آمدنی گھٹ گئی اور سرکاری عمال کو باقاعدہ امیرالمومنین سے شکایت کرنا پڑی جس کے جواب میں امیرالمومنین نے فرمایا: ’’اللہ کے رسولؐ ہادی بنا کر بھیجے گئے تھے، تحصیلدار بنا کر نہیں بھیجے گئے تھے۔ میں تو یہ چاہتا ہوں کہ سارے ذمی مسلمان ہوجائیں اور ہم سب کاشتکار بن جائیں، اپنے ہاتھوں سے کمائیں اور کھائیں‘‘۔ یہ ہے وہ خوف جو کفار کو ہر زمانے میں کھائے جارہا ہے۔ آج بھی کفار نے مسلمانوں کے خلاف سازشوں کا نہ ختم ہونے والا جو منظم سلسلہ شروع کر رکھا ہے اس کا واحد سبب یہی ہے کہ کفار کو نہ صرف مشرق ومغرب کے آخری کناروں تک اسلام پھیلتا نظر آرہا ہے بلکہ خود ان کے اپنے ممالک میں اسلامی تحریکیں اس تیزی اور قوت سے پھیل رہی ہیں کہ دن رات ان کے سینوں پر سانپ لوٹنے لگے تھے۔ حقائق پر مشتمل چند خبریں ملاحظہ ہوں۔

1: برطانوی روزنامہ سنڈے ٹائمز کے مطابق بی بی سی کے ایک سابق ڈائریکٹر جنرل لارڈ برٹ کے بیٹے نے گزشتہ ہفتے اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کیا اور اپنا اسلامی نامی یحییٰ برٹ رکھا ہے۔ یحییٰ برٹ نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کیا ہے۔ یحییٰ نے پہلی بار برطانیہ میں ٹھوس شواہد پر مبنی اعداد وشمار بھی پیش کئے اور ثابت کیا ہے کہ برطانوی اشرافیہ کی بعض اہم شخصیات سمیت 14 ہزار سے زائد سفید فام انگریز عیسائیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کرچکے ہیں۔ سنڈے ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اسلام قبول کرنے والوں میں ایک سابق وزیراعظم ہربرٹ اسکیوتھ کی پوتی ایما کلارک سمیت بڑے جاگیردار اور برطانوی اسٹیبلشمنٹ کے سینئر عہدیداروں کی اولادیں اور دیگر اہم شخصیات شامل ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انگریزوں کی اکثریت ایک نومسلم برطانوی سفارت کار چارلس لی گیٹن کی اسلامی تحریروں سے متاثر ہو کر مسلمان ہوئی ہے۔ مسلم کونسل آف برطانیہ نے برطانیہ کے سابق وزیر صحت فرنیک ڈوبسن کے مسلمان بیٹے احمد ڈوب کو تنظیم کی کونسل سازی کی کمیٹی میں شامل کرلیا ہے جبکہ ایما کلارک سرے کاونٹی (شہر کا نام) میں ایک مسجد سے متصل باغ تعمیر کروا رہی ہیں جہاں مسلمانوں کے اجتماعات ہوا کریں گے۔ برطانیہ میں اسلام کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے باعث ملکہ برطانیہ نے بکنگھم پیلس کے مسلمان ملازمین کے لئے ایک نئے نظام کی منظوری دی ہے جس کے تحت نماز جمعہ کیلئے اوقات کار میں وقفہ دیا جائے گا۔(ہفت روزہ تکبیر4مارچ 2004ء)

2۔ جدہ سے شائع ہونے والے جریدے ’’حج وعمرہ‘‘ کی رپورٹ کے مطابق اسلامک فاؤنڈیشن برطانیہ کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد مناظر احسن نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ 11 ستمبر کے بعد برطانیہ میں قرآن مجید کی فروخت سات گنا بڑھ گئی ہے۔ قبول اسلام کی شرح میں 5 تا 10 فیصد اضافہ ہوا۔ 11 ستمبر سے پہلے اور بعد اب تک نو مسلموں کی تعداد 3 ہزار کے قریب ہے جن میں سے 30 فیصد کا تعلق اعلیٰ اور بااثر گھرانوں سے ہے۔ نو مسلموں میں خواتین کی شرح مردوں سے دگنی ہے جبکہ امریکہ میں یہ شرح ایک اور چار ہے۔ دوماہی برطانوی جریدہ ’’ایمل‘‘ کی مدیرہ سارہ جوزف کے مطابق 2010ء میں عملاً برطانیہ کا سب سے بڑا مذہب اسلام ہوگا۔

3۔ ممتاز امریکی جریدہ کر سچین سائنس مانیٹر (27 دسمبر 2005ء) کی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق 11 ستمبر کے بعد اسلام کے بارے میں ابھرنے والے تجسس کی بناء پر اسلام کا پیغام زیادہ سے زیادہ یورپی باشندوں کو اپیل کرنے کا باعث بن گیا ہے۔ مبصرین کا اندازہ ہے کہ ہر سال کئی ہزار مرد وخواتین اسلام قبول کرتے ہیں۔

4۔ ’’دی نیوز‘‘ مورخہ 23 جنوری 2006ء کی رپورٹ کے مطابق فرانس میں ہر سال ہزاروں کی تعداد میں لوگ اسلامی تعلیمات سے متاثر ہو کر اسلام قبول کررہے ہیں لیکن ان میں سے اکثر اس کا اظہار یا اقرار نہیں کر پاتے چونکہ وہ خوف محسوس کرتے ہیں کہ لوگ انہیں تعصب کی نگاہ سے دیکھیں گے یا وہ انتہاپسند یا دہشت گرد سمجھے جائیں گے یہی وجہ ہے کہ فرانس کی فٹ بال ٹیم کے سپر سٹار ’’نکولیس ایثکا‘‘ نے چار سال بعد اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کیا۔

5۔ امریکہ میں اس وقت مسلمانوں کی تعداد ایک کروڑ ہے جن میں ہر سال 20 ہزار نومسلموں کا اضافہ ہورہا ہے۔

6۔ فرانس کے سابق وزیر داخلہ اور موجودہ صدر نکولس سرکوزی نے امریکن ہفت روزہ ’’دی اکانومسٹ‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ میں اس بات کو پسند کروں یا نہ کروں مگر حقیقت ہے کہ فرانس میں اسلام دوسرا سب سے بڑا مذہب بن چکا ہے۔ یاد رہے کہ اس وقت فرانس میں ساڑھے چار ہزار مساجد شمار کی جاچکی ہیں۔

7۔ الجیریا کے رکن پارلیمنٹ حسن اریبی، جنہوں نے امریکہ سے گفت وشنید کے ذریعہ گوانتاناموبے سے 18 قیدیوں کو چھڑایاتھا، نے قاہرہ میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ امریکہ کے بدنام زمانہ قید خانہ گوانتاناموبے میں قید مجاہدین کی تبلیغ سے متعدد امریکی کمانڈوز نے اسلام قبول کرلیا ہے۔ یہ کمانڈوز مجاہدین کی حفاظت پر متعین تھے۔

8۔ اسلامی سکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک نے الریاض کے شاہ فہد ثقافتی مرکز میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مغربی میڈیا اسلام کو جس قدر بدنام کرنے اور دبانے کی کوشش کررہا ہے اسلام اسی قدر تیزی سے پھیل رہا ہے۔ 11 ستمبر کے حملوں کے بعد عیسائیت کے فروغ میں 47 فیصد جبکہ اسلام کے فروغ میں 235 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

9۔ ہوائی یونیورسٹی امریکہ کے پروفیسر ڈاکٹر وسیم صدیقی نے لاہور میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ امریکہ میں جتنی اسلامی کتب نائن الیون کے بعد شائع ہوئی ہیں اس سے پہلے کبھی منظر عام پر نہیں آئی تھیں۔

10۔ ڈچ اسلامک سنٹر کے اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ تین برسوں میں دائرہ اسلام میں داخل ہونے والوں کی تعداد میں دس گنا اضافہ ہوا ہے۔ نیون ہیچ کالج کیمبرج کی 30 سالہ گریجوایٹ لیوشی بشمل میتھیوز نے اسلام کا مطالعہ بدنیتی سے شروع کیا، لیکن بعد میں وہ اس قدر متاثر ہوئی کہ خود اسلام قبول کرلیا۔

11۔ انسٹیٹیوٹ آف اسلامک اوکائیوزان جرمنی کے ڈائریکٹر سلیم عبداللہ نے ایک جرمن اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ (2005ء) جرمنی میں ایک ہزار افراد نے اسلام قبول کیا ۔ اسلام قبول کرنے والوں میں 60 فیصد تعداد خواتین پر مشتمل ہے جن کی اکثریت یونیورسٹیوں کی فارغ التحصیل ہے۔

12۔ ڈنمارک کے معروف اسلامی ریسرچ اسکالر یورجن ہاک لیمونس کا کہنا ہے کہ ستمبر 2005ء میں پیغمبر اسلام کے خلاف ہرزہ سرائی کے بعد ڈنمارک میں قرآن مجید کے مطالعہ کا رجحان بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔ ڈینش باشندوں کی اکثریت اسلام کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی خواہشمند ہے۔ ایک مقامی اخبار کی رپورٹ کے مطابق اوسطاً ایک ماہ میں ڈینش زباں میں ترجمے والے پانچ ہزار قرآن مجید کے نسخے فروخت ہوئے۔

13۔ سنٹر فار سٹرٹیجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز کی رپورٹ کے مطابق یورپ کی 45 کروڑ کی آبادی میں مسلمانوں کی تعداد 2 کروڑ ہے۔ گزشتہ دس برسوں کے دوران مسلمانوں کی تعداد میں دس گنا اضافہ ہوا ہے۔ مغربی یورپ کے ملکوں میں ہر سال دس لاکھ نئے تارکین وطن آتے ہیں۔ اندازہ یہ ہے کہ 2050ء تک ہر پانچواں یورپی باشندہ مسلمان ہوگا۔ یاد رہے کہ ترکی گزشتہ نصف صدی سے یورپ میں شامل ہونے کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے لیکن مسلمانوں کی یورپ میں تیزی سے بڑھتی ہوئی تعداد سے خائف عیسائی کسی قیمت پر یکدم سات کروڑ مسلمانوں کے یورپ میں اضافہ کا خطرہ مول لینے کے لئے تیار نہیں۔

14۔ اٹلی کی مصنفہ ماریانہ فلالی نے مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر اپنی پریشانی کا اظہار ان الفاظ میں کیا ہے۔ ’’مسلمانوں کی شرح پیدائش میں اضافہ سے یورپ مسلمان ریاست میں تبدیل ہورہا ہے‘‘۔

15۔ برطانوی خاتون صحافی ریڈلی کے قبول اسلام کا واقعہ پورے یورپ کے لئے سوہان روح بنا ہوا ہے۔ ریڈلی نے اپنے ایک انٹرویو میں یہ کہا ہے کہ ’’اگرچہ نائن الیون کا واقعہ مسلمانوں کو رگیدنے کے لئے ایک لاٹھی کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے تاہم اس کے نتیجہ میں ایک حیرت انگیز بات یہ ہوئی ہے کہ مجھ جیسے کم علم لوگوں نے اسلام کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننے کے لئے قرآن اور دیگر اسلامی لٹریچر کا مطالعہ شروع کردیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اب اسلام دنیا میں تیزی سے پھیلنے والا مذہب بن گیا ہے۔ خود برطانیہ میں 11 ستمبر کے بعد سے اب تک کوئی 24 ہزار افراد اسلام قبول کرچکے ہیں اور بہت سے مسلمان اپنے ایمان کو ازسرنو تازگی بخشنے کے لئے سرگرم عمل ہیں‘‘۔

16 ۔ 2004ء میں سعودی حکومت نے لندن میں یورپ کا سب سے بڑا اسلامی مرکز تعمیر کروایا۔

مغرب کے طبقہ اشرافیہ میں اسلام کے بڑھتے ہوئے رجحان کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پچھلے الیکشن میں ایک نومسلم امریکی کانگریس کا رکن منتخب ہوا ہے جس نے بائبل کے بجائے قرآن مجید پر حلف اٹھانے کا تاریخی کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ اسی طرح فرانس میں پہلی بار ایک مسلمان خاتون کو کابینہ میں شامل کیا گیا ہے۔(برطانیہ کے حالیہ الیکشن میں کئی مسلمان پارلیمینٹ کے رکن منتخب ہوگئے ہیں)

حقیقت یہ ہے کہ آج امریکہ اور یورپ کا کوئی بڑا شہر ایسا نہیں جس میں مساجد اور اسلامی مراکز قائم نہ ہوں یا اسلام کی دعوت اور تبلیغ کا کام نہ ہو رہا ہو۔ امریکہ اور یورپ میں تیزی سے مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور اسلام کی تیز رفتار اشاعت نے کفار کی نیندیں حرام کر رکھی ہیں۔ یہ ہے اصل سبب کفار کی اسلام دشمنی کا جسے کبھی وہ ’’دہشت گردی‘‘ کا افسانہ تراش کر، کبھی انتہاپسندی کا الزام لگا کر، کبھی بنیاد پرستی کا طعنہ دے کر اور کبھی ’’امن عالم‘‘ کا شور مچا کر ختم کرنا چاہتے ہیں۔ اور اس کا اظہار کرنے میں یورپی اور امریکی تھنک ٹینکوں نے کبھی بخل سے کام نہیں لیا۔

سوئٹزر لینڈ کے ایک ممبر پارلیمنٹ الرخ شولر نے شریعت اسلامیہ کو ایک بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلام ایک مذہب نہیں بلکہ نظریہ حیات ہے جس کا اپنا ایک قانون ہے جس کو شریعت کہتے ہیں۔ یہ ایک بہت بڑا خطرہ ہے اس کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے اگر یہ کام سیاست دانوں نے نہ کیاتو عوام کریں گے۔ ہمیں مساجد سے کوئی تعرض نہیں لیکن مینار ہر گز برداشت نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ ایک سیاسی قوت کی علامت ہے اور یورپ میں کوئی دوسری سیاسی قوت ابھرے اور اس کو عروج حاصل ہو یا ناقابل برداشت ہے۔ شولر نے عدالت میں ایک درخواست دائر کی جس میں یہ کہا گیا ہے کہ سوئٹزر لینڈ میں دستور کی رو سے میناروں کی تعمیر کو ممنوع قرار دیا جائے۔(اس کے بعد یہاں فرانس اور چنددیگر یورپی ملکوں میں میناروں اور پردے پر پابندی کی تحریک چلی)

واشنگٹن ٹائمز کے ایڈیٹر ٹونی بینکلی نے اپنی کتاب ’’کیا ہم تہذیبی جنگ جیت پائیں گے؟‘‘ میں اسلام کو امریکہ اور یورپ کے لئے بہت بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’یورپ کو اسلام پسندوں سے اس وقت اتنا ہی خطرہ ہے جتنا اسے چالیس کی دہائی میں نازیوں سے تھا، ہم نہ تو یورپ کو کھو دینے کا خطرہ مول لے سکتے ہیں نہ ہی یورپ کو آئندہ جہادی کارروائیوں کے لئے ایک لانچنگ پیڈ بنتا دیکھ سکتے ہیں۔ یورپ میں ہمیں بڑھتے ہوئے اسلامی مذہبی اور معاشرتی اثر ونفوذ سے بھی اتنا ہی خطرہ ہے جتنا مسلمان دہشت گردوں سے ہے۔ اہل یورپ کو بھی اس بات کا احساس ہونا شروع ہوگیا ہے کہ یورپین لوگوں میں شرح پیدائش میں کمی اور مسلمانوں کی شرح پیدائش میں اضافہ کے نتیجہ میں اس صدی کے آخر تک یورپ میں مغربی تہذیب کو ختم ہونے کا خطرہ لاحق ہو جائے گا‘‘۔(منقول از کتاب فضائل رحمت للعالمین)

حالانکہ اسلام تو دین روشن ہے جو رسولؐ رحمت کی امن و عافیت والی سیرت کو عام کرکے دنیا کو امن و راحت کا گہوارہ بنانا چاہتا ہے۔ البتہ دنیابھر کے مسلمانوں بالخصوص دیارِ مغرب میں رہنے والے اہل اسلام کواپنی زندگی کو امن و سکنیت کا مظہر بنا کر اور قانون پسند شہری کی حیثیت اختیار کرکے، اسلام اور سیرت منورہ کا سفیر بننا چاہیے تاکہ دیکھنے والے بے اختیار پکار اٹھیں کہ جب عام مسلمان، امن و امان کا پیکر ہے تو جس کو یہ مانتے ہیں اس کی رحمت العالمینی کا عالم کیاہوگا؟

مزید : ایڈیشن 1