یمنی فوج نے 36 ہزار بارودی سرنگیں تلف کردیں

یمنی فوج نے 36 ہزار بارودی سرنگیں تلف کردیں

صنعاء(کے پی آئی)یمنی فوج نے حالیہ مہینوں کے دوران صوبے مآرب میں قریبا 36 ہزار بارودی سرنگیں تلف کردیں،ہزاروں کی تعداد میں یہ بارودی سرنگیں حوثی ملیشیا اور معزول صدر علی عبداللہ صالح کے وفادار فوجیوں نے بچھائی تھیں۔عرب میڈیا کے مطابق یمنی فوج کے ملٹری انجنیئرنگ یونٹ کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل شیخ زاید ثابت نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ان میں سے ہزاروں بارودی سرنگیں دوسری عالمی جنگ کے زمانے سے تعلق رکھتی تھیں۔اس کے علاوہ مقامی ، روسی اور ایرانی ساختہ بارودی سرنگیں تباہ کی گئی ہیں۔یمنی انسانی حقوق کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق صوبے مآرب میں بارودی سرنگوں کے دھماکوں میں 47 افراد ہلاک اور 98 زخمی ہوئے ہیں۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کی ایک رپورٹ کے مطابق تعز میں بارودی سرنگوں کے دھماکوں میں 23 افراد ہلاک اور 56 زخمی ہوگئے تھے۔صدر عبد ربہ منصور ہادی کی وفادار عوامی مزاحمتی فورسز کا کہنا ہے کہ حوثی ملیشیا اور معزول صدر علی عبداللہ صالح کے وفادار جنگجوں نے تعز کے مختلف علاقوں میں مارچ 2015 کے بعد چالیس ہزار سے زیادہ بارودی سرنگیں بچھائی ہیں۔صوبے الجوف میں سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثی باغیوں نے اس صوبے میں 30 ہزار سے زیادہ بارودی سرنگیں بچھا رکھی ہیں۔

یمنی حکام اور میڈیکل ذرائع کے مطابق تعز میں مئی 2015 سے اپریل 2016 تک بارودی سرنگوں کے دھماکوں میں 18 افراد ہلاک اور 39 زخمی ہوئے تھے۔ان میں ایک کے سوا باقی تمام ہلاکتیں گاڑیوں کو تباہ کرنے کے لیے بچھائی گئی بارودی سرنگوں کے دھماکوں سے ہوئی تھیں۔تعز کے الروضہ اسپتال کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر سہیل الضبھانی نے جون میں ایچ آر ڈبلیو کو بتایا تھا کہ اپریل کے بعد سے اسپتال میں ایسے پچاس افراد کا علاج کیا گیا تھا جن کے ایک یا ایک سے زیادہ اعضا بارودی سرنگوں کے دھماکوں میں کٹ چکے تھے۔ان افراد میں تیس مرد ،آٹھ عورتیں اور بارہ بچے تھے۔ان سب کے بارے میں خیال کیا جاتا تھا کہ وہ بارودی سرنگوں کے دھماکوں ہی میں زخمی ہوئے تھے اور اپنی ٹانگوں یا بازوں سے محروم ہوگئے تھے۔یادرہے کہ یمن نے 1998 میں بارودی سرنگوں پر پابندی کے معاہدے کی توثیق کی تھی اور افراد مخالف مائنز کے استعمال پر پابندی کا وعدہ کیا تھا۔اس نے اپریل 2002 میں اقوام متحدہ کو مطلع کیا تھا کہ اس نے افراد مخالف بارودی سرنگوں کے تمام ذخیرے کو تباہ کر دیا تھا۔

مزید : عالمی منظر