بھارتی جیلوں میں سکیورٹی کے ناقص انتظامات

بھارتی جیلوں میں سکیورٹی کے ناقص انتظامات

نئی دہلی(اے پی پی) ایک ہی ماہ میں دو اہم جیلوں میں قیدیوں کے فرار ہونے کے واقعات کے بعد بھارت میں جیلوں کی سکیورٹی پر غور کیا جا رہا ہے۔ ملک میں جیلوں میں عملے کی کمی اور جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کی موجودگی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ برطانوی نشریاتی اداے کے مطابق اتوار کے روز شمالی ریاست پنجاب میں نابھا سنٹرل ہائی سکیورٹی جیل پر پانچ مسلح افراد نے حملہ کیا اور چھ قیدیوں کو فرار کرا کے لے گئے۔ فرار ہونے والوں میں سے ایک علیحدگی پسند سکھ رہنما تھے جنھیں پیر کے روز دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔یہ ایک شرمناک حملہ تھا۔ حملہ آور پولیس کی وردیوں میں ملبوس کسی قیدی کو جیل پہنچانے کے بہانے وہاں آئے اور جیل کا گیٹ کھلتے ہی اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ فرار ہونے والے قیدیوں کے ہمراہ وہ گاڑیوں کے قافلے میں بھاگ گئے۔ریٹائرڈ پولیس افسر پرکاش سنگھ کا کہنا ہے کہ ’ایسا تب ہوتا ہے جب جیل کے عملے کی توجہ کسی اور جانب ہو یا انتظامی ڈھانچہ کمزور ہو۔‘حکومتی اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ دو سالوں میں جیل توڑ کر بھاگنے کے چالیس 40 واقعات میں 180 سے زیادہ قیدی فرار ہوئے ہیں۔گذشتہ سال دو قیدی دارالحکومت دلی کی معروف تہاڑ جیل سے دیوار کے نیچے ایک سرنگ کھود کر فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔گذشتہ ماہ بھوپال شہر سے ایک ہائی سکیورٹی جیل سے آٹھ قیدی فرار ہوگئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ قیدی بیڈ شیٹوں کی مدد سے دیواریں پھلانگنے میں کامیاب ہوئے۔بی بی سی کے مطابق بھارت میں جیلوں میں عملے کی کمی اور جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کی موجودگی ایک بڑا مسئلہ ہے۔

مزید : عالمی منظر