پیپلز پارٹی کے جیالے ان ایکشن ۔۔۔ !

پیپلز پارٹی کے جیالے ان ایکشن ۔۔۔ !
پیپلز پارٹی کے جیالے ان ایکشن ۔۔۔ !

  


پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پیپلز پارٹی ایک ایسی پارٹی ہے جس نے ایک نظریئے کی خاطر نہ صرف سب سے بڑی مزاحمتی تحریک چلائی بلکہ پاکستان کے پسے ہوئے عوام اور عام آدمی کو اس کے حقوق دینے کی بھی بات کی۔ پاکستان میں عوام کو شعور دینے کے سیاسی نعرے کے آغاز کا کریڈٹ بلاشبہ پیپلز پارٹی کے بانی زیڈ اے بھٹو کی میراث ہے جو آج 49 سال گزرنے کے بعد بھی کوئی ڈکٹیٹر حتیٰ کہ حالات کا جبر بھی یہ اعزاز بھٹو خاندان سے نہیں چھین سکا۔ پیپلز پارٹی کے کارکنوں کا پلٹنا جھپٹنا ہے لہو گرم رکھنے کا ایک بہانہ کے مصداق ایک خاص مزاحمتی مزاج ہے جس کو صرف زیڈ اے بھٹو ‘ محترمہ بینظیر بھٹو ‘ میر مرتضیٰ بھٹو ‘ شاہنواز بھٹی اور بھٹو کے نظریئے پر عمل کرنے والے جیالے سمجھتے تھے اور آج جیالے کے مخصوص مزاحمتی مزاج اور بھٹو کے نظریئے اور فلسفے کو نوجوان چیئر مین بلاول بھٹو زرداری لے کر پرخار راستوں سے ہوتے ہوئے منزل تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے جیالے اور مزاحمتی کارکن کو راتوں رات ایک سوئچ بدل کر مزاحمت سے مفاہمت میں تبدیل کرنے والوں نے پیپلز پارٹی کے ساتھ وہ ظلم کیا ہے جو شاید پیپلز پارٹی کو توڑنے والے ڈکٹیٹر بھی نہیں کر سکے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت اس حوالے سے بھی کئی طرح کی توجیحات بیان کرتی ہے مگر میں تو بات کر رہا ہوں پیپلز پارٹی کے جیالے کے نظریئے کی اس کے خاص مزاج کی ‘ زیڈ اے بھٹو کے انقلابی فلسفے کی ، بینظیر بھٹو کے نئے پاکستان کے تصور کی ان تمام باتوں میں کسی بھی جگہ مجھے مفاہمتی سیاست نظر نہیں آ تی ‘ زیڈ اے بھٹو سے لیکر محترمہ بینظیر بھٹو تک کے نظریئے اور فلسفے کا اگر غور سے غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے تو بھی یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ زیڈ اے بھٹو اور بینظیر بھٹو جن عوام کو حقوق دلانے کی بات کرتے تھے وہ حقوق مفاہمت سے نہیں مزاحمت سے ملا کرتے ہیں۔ خیر پیپلز پارٹی کے مزاحمت سے مفاہمت تک اور اب ایک بار پھر اپنی اصل کی طرف لوٹتے ہوئے مفاہمت سے مزاحمت کی طرف سفر پر کئی کتابیں لکھی جا سکتی ہیں مگر مجھے آج کے کالم میں زیڈ اے بھٹو کے نواسے ‘ بی بی شہید کے لخت جگر اور جیالوں کی امید بلاول بھٹو سے ہونیوالی ملاقات کا تذکرہ کرنا ہے بدھ کی صبح نوید چوہدری کا فون آیا کہ بلاول بھٹو زرداری لاہور آئے ہیں کچھ صحافی دوستوں کی ان سے کھانے پر ملاقات ہے اور ساتھ ہی ساتھ پیپلز پارٹی کے 49 ویں یوم تاسیس پر آپ کی نئی پیپلز پارٹی سے ملاقات بھی کروائیں گے۔ طبیعت ناساز ہونے کے باوجود شہر سے کئی میل دور بحریہ ٹاون میں واقع بلاول ہاؤس کیلئے روانہ ہوا اور پورے راستے سوچتا رہا کہ نوید چودھری یوم تاسیس پر کون سی نئی پیپلز پارٹی کو پٹاری سے نکالیں گے اور صحافیوں کے سامنے رکھیں گے۔ خدا خدا کر کے بحریہ ٹاون پہنچے تو وہاں پر پہلے سے موجود دو درجن کے لگ بھگ سینئر صحافیوں کی موجودگی پا کر کچھ حوصلہ ہوا۔ مجھے وہاں پہنچ کر اندازہ ہوا کہ جس انداز میں میڈیا کو مدعو کیا گیا ہے اور ان کا عزت و احترام سے استقبال کر کے ان کو مطلوبہ مقام تک پہنچانے اور بعد ازاں کھانے پینے کے انتظامات کو دیکھنے کیلئے باقاعدہ مکینزم موجود ہے اور مجھے ایسے لگا کہ بالآخر پیپلز پارٹی کو میڈیا مینجمنٹ کی اہمیت کا احساس ہو ہی گیا ہے اور پیپلز پارٹی نے اس کیلئے پارٹی کے دیرینہ کارکنوں پر مشتمل ایک میڈیا کمیٹی تشکیل دی ہے جو براہ راست میڈیا مینجمنٹ کے معاملات کی نگرانی کر رہی ہے اس کمیٹی میں پیپلز پارٹی پنجاب کے سیکرٹری اطلاعات مصطفی نواز کھوکھر جو ایک بڑے باپ کے بیٹے ہیں اور خاص کر وہ جس جوش و جذبے اور کمال محبت سے اپنے ٹاسک اور ذمہ داریوں کو نبھا رہے تھے یقیناًان کی صورت میں پیپلز پارٹی کی صفوں میں ایک خوبصورت اضافہ کہا جا سکتا ہے۔ اس طرح نوید چودھری اور منور انجم جیسے پیپلز پارٹی کے دیرینہ کارکنوں کو اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے تمام صحافیوں کو اچھا لگ رہا تھا صحافی دوستوں کا خیال تھا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت کو لگتا ہے اپنی غلطیوں کا احساس ہو گیا ہے اور پیپلز پارٹی آہستہ آہستہ اپنی اصل کی طرف لوٹ رہی ہے۔ بلاول ہاؤس کے صحن میں واقع جلسہ گاہ پہنچے تو وہاں پر بھی پارٹی کے نظریاتی جیالوں کا پوری طرح غلبہ پایا ‘ قمر زمان کائرہ کی قیادت میں پارٹی کے دیرینہ کارکن شوکت بسرا ‘ چودھری منظور ‘ عثمان ملک ‘ افضل چن کا اسٹیج سمیت تمام انتظامات پر قبضہ تھا ‘ پارٹی کا انکل بریگیڈ بھی وہاں موجود تو تھا مگر انکی موجودگی کو انتظامیہ اور عام کارکن کوئی زیادہ محسوس نہیں کر رہے تھے۔ سابق وزراء اعظم یوسف رضا گیلانی ‘ راجہ پرویز اشرف ‘ سندھ کے سابق وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ ‘ موجودہ مراد علی شاہ ‘ میاں منظور وٹو ‘ خورشید شاہ ‘ فردوس عاشق اعوان ‘ شیری رحمن ‘ شہلا رضا سمیت تمام سابقہ اور موجودہ حکومتی عہدیدار موجود تھے مگر اسٹیج پر کسی کو دعوت نہیں دی گئی اسٹیج پر بھی بلاول بھٹو زرداری کی نئی ٹیم جو پارٹی کے نظریاتی کارکنوں پر مشتمل ہے کو بلایا گیا ان سے تقریریں کروائی گئیں ان میں سے شوکت بسرا نے پنجابی میں کمال کی تقریر کی ‘ قمر زمان کائرہ کی تقریر یوم تاسیس کے حوالے سے پورا نچوڑ تھی جبکہ اخوندزادہ چٹان نے تو اسٹیج کے سامنے بیٹھے پارٹی کے پرانے عہدیداروں اور سابق حکمرانوں کو پیپلز پارٹی کے موجودہ حالات کا ذمہ دار قرار دے ڈالا جس پر پارٹی کارکنوں نے نعرے لگا کر اور جھنڈے لہرا کر خوشی کا اظہار کیا جس کے بعد مجھے یقین ہونے لگا کہ پیپلز پارٹی پر جیالا بریگیڈ کا قبضہ ہو چکا ہے میں نے پیپلز پارٹی کے بہت سے جلسے اٹینڈ کئے ہیں پیپلز پارٹی بھی روایتی پارٹیوں کی طرح ہی تھی مگر پہلی بار مجھے تبدیلی نظر آئی ‘ پارٹی اور حکومتی عہدیداروں میں مجھے فرق نظر آیا اس ساری صورتحال کو دیکھ کر مجھے ایسا لگا کہ پیپلز پارٹی کے جیالا بریگیڈیر نے پارٹی کی لگامیں سنبھال لی ہیں پیپلز پارٹی جو صرف بڑے بڑے لیڈروں کی جماعت بنتی جا رہی تھی اب شاید عام آدمی اور کارکنوں کی دوبارہ جماعت بن پائیگی ؟ اور سب سے بڑھ کر بلاول بھٹو زرداری کو جب اسٹیج پر بلایا گیا تو وہ اسٹیج سے اتر کر عام کارکنوں میں آ گئے اور پھر کارکنوں کی سیلفیوں نے بلاول بھٹو اور ان کی بہن بختاور بھٹو کا جو حشر کیا اور جس حوصلے سے دونوں بہن بھائی دھکے بھی کھاتے رہے اور آخر تک مسکراتے بھی رہے۔ اس سے اندازہ ہوا کہ بلاول بھٹو اپنے گرد قائم طرح طرح کے حصار توڑ کر کارکنوں میں پہنچ چکا ہے اور جب وہ اسٹیج پر تقریر کیلئے گیا تو ان کے ساتھ پارٹی کی نئی تنظیم کو بلوایا گیا جس میں قمر زمان کائرہ ‘ نثار کھوڑو اور پارٹی کے دیگر نئے عہدیدار تھے جن کے بارے اسٹیج سے بار بار اعلان کیا جاتا رہا کہ ہماری نئی تنظیم کے میرٹ کو کوئی چیلنج کر کے دکھائے بلاشبہ کسی بھی سیاسی جماعت کیلئے ایسا چیلنج بہت بڑا رسک ہوتا ہے مگر بلاول بھٹو کے ساتھ کھڑے نظریاتی کارکنوں پر مشتمل نئی تنظیم کو دیکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ پیپلز پارٹی واقعی اب دوسری جماعتوں کو چیلنج کر سکتی ہے اس طرح بلاول بھٹو زرداری نے اپنے انقلاب اور نئے پاکستان کے خواب کو پورا کرنے کیلئے لاہور کو مرکز بنانے کی بات کر کے اپنی سیاسی میچورٹی کا مظاہرہ کیا ہے بعد ازاں بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ غیر رسمی گپ شپ کے دوران میرے سمیت تمام صحافیوں کا خیال تھا کہ نوجوان بلاول بھٹو زرداری میں وہ تمام اہمیت اور صلاحیت موجود ہے کہ وہ جیالوں اور نوجوانوں کی امید پر پورا اتر سکیں لیکن اس کا زیادہ تر انحصار بلاول بھٹو زرداری کی نئی ٹیم جو پرانی پیپلز پارٹی میں سے نیا جنم لینے کیلئے کوشاں ہے اس پیپلز پارٹی پر ہوگا یہ بھی دیکھنا پڑے گا کہ ان میں ابھی دم خم موجود ہے کہ وہ ایک بار پھر پیپلز پارٹی کے فطری مزاج کے مطابق مزاحمتی سیاست کا آغاز کر سکیں اور اپنے تجربے کی بنیاد پر اس مزاحمت کو نتیجہ خیز بنا سکیں جس کا ثمر عام پارٹی کارکن تک پہنچ سکے یا پھر پارٹی کے انکل ونگ پر انحصار ہوگا کہ وہ کب تک اس صورتحال کو برداشت کرتا ہے کیونکہ میں

اپنی بصیرت کے مطابق یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ جس طرح پیپلز پارٹی کو نظریاتی جیالوں نے باقاعدہ ٹیک اوورز کر لیا ہے اگر ان جیالوں اور نئی پیپلز پارٹی کو بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں کام کرنے دیا گیا تو نہ صرف پارٹی دوبارہ زندہ ہو جائیگی بلکہ عام پارٹی کارکن جو ناراض ہو کر گھر میں بیٹھا ہے دوبارہ باہر نکل آئے گا بلکہ انکل ونگ کے کئی کرداروں سے جان بھی چھوٹ جائے گی جو اپنی کرپشن کی وجہ سے اب پارٹی پر بوجھ کے سوا کچھ نہیں ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری اس بوجھ کو جتنی جلدی اتار دیں اتنی سپیڈ سے پارٹی آگے بڑھتی جائے گی۔

مزید : کالم