نارنگ ،قبضہ گروپ کی پولیس سے ساز باز کر کے زرعی اراضی پر قبضہ کی کوشش،دھان کی فصل کاٹ کر چوری کرلی

نارنگ ،قبضہ گروپ کی پولیس سے ساز باز کر کے زرعی اراضی پر قبضہ کی کوشش،دھان کی ...

لاہور(کرائم رپورٹر) نارنگ کے نواحی گاؤں گندھو وال میں قبضہ گروپ کے ارکان نے مقامی پولیس کے ساتھ مبینہ طور پر ساز باز کرکے ساڑھے پانچ ایکڑ سے زائد زرعی اراضی پر قبضہ کرنے کی کوشش کی اور لاکھوں روپے مالیت کی دھان کی فصل گن پوائنٹ پر کاٹ کر چوری کرکے لے گئے۔ شہری محمد افضل باجوہ کی درخواست پر پولیس نے 18 روز گزر جانے کے باوجود تاحال کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔ شہری نے وزیراعلیٰ پنجاب اور آئی جی پولیس سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ فیروزوالہ کے گاؤں کرول کے رہائشی محمد افضل کے مطابق گندھو وال کے نواحی گاؤں میں اس کی ساڑھے پانچ ایکڑ 40 کنال اور 12 مرلے وراثتی اراضی ہے اور اس اراضی میں دھان (چاول) کی فصل بیج رکھی تھی۔ شہری کے مطابق 16 نومبر کو قبضہ گروپ کے ارکان سعید احمد، بشیر احمد، نجم الثاقب، رشید احمد اور عمران وغیرہ 15 سے 20 مسلح افراد نے اس کی فصل پر دھاوا بول دیا اور مقامی تھانہ کے ایس ایچ او ظہیر عالم شاہ سے مبینہ طور پر سازباز کرکے دھان کی فصل کاٹ لی بعد میں اگلے روز ہی باقی ماندہ فصل کو آگ لگا کر تباہ کر دیا اور لاکھوں روپے مالیت کی تیار دھان (چاول) کی فصل چوری کرکے فرار ہوگئے۔ پولیس کو اطلاع دی گئی۔ پولیس نے موقع سے ہارویسٹر مشین کو قبضہ میں لے لیا اور تین روز تھانہ میں رکھنے کے بعد مبینہ طور پر مک مکا کرکے قبضہ گروپ کے ارکان کے حوالے کر دی۔ شہری محمد افضل کے مطابق وہ اراضی کا وارثتی طور پر مالک ہے اور اس کے والد محمد بشیر باجوہ نے یہ اراضی 1978ء میں گاؤں کے رہائشی زمیندار لال دین سے خریدی اور قبضہ گروپ کے ارکان سعید احمد وغیرہ نے اراضی کو خریدنے کے باوجود قبضہ نہ لینے دیا، جس کی بناء پر ان کے والد بشیر باجوہ نے بے دخلی اور قبضہ حاصل کرنے کیلئے عدالت میں کیس دائر کیا۔ قبضہ گروپ کے ارکان نے عدالت لمیں اس زمین کے مشترکہ کھاتے کے حصہ دار ہونے کا دعویٰ بوگس رجسٹری پیش کر دی جس کو عدالت نے رد کر دیا اور ماتحت عدالت سے لیکر سپریم کورٹ تک عدالتوں نے ان کے حق میں فیصلے دے رکھے ہیں اور ان عدالتی فیصلوں کی روشنی میں محکمہ ریونیو نے پولیس حکام کی موجودگی میں چار ماہ قبل اس زرعی اراضی کا قبضہ دلوایا جس سے اس زمین میں دھان کی فصل بو دی۔ شہری محمد افضل کے مطابق مقامی پولیس نے ملزمان سے سازباز کر رکھی ہے اور ڈی پی او شیخوپورہ کو درخواست دینے کے باوجود تاحال مقدمہ درج نہیں کیا جا رہا۔ وزیراعلیٰ پنجاب اور آئی جی پولیس نوٹس لی کر اس کی زرعی زمین کا قبضہ دلوائیں جبکہ اس حوالے سے ڈی پی او شیخوپورہ سرفراز ملک کا کہنا ہے کہ شہری افضل باجوہ کی درخواست پر قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔ اس کیلئے ڈی ایس پی مریدکے نواز سیال کی انکوائری کرکے مقدمہ دوبارہ کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

مزید : علاقائی