چھوٹے لاء کالجز ملی بھگت سے قانون کی ڈگریاں بانٹ رہے ہیں :چیف جسٹس منصور علی شاہ

چھوٹے لاء کالجز ملی بھگت سے قانون کی ڈگریاں بانٹ رہے ہیں :چیف جسٹس منصور علی ...

لاہور(نامہ نگار خصوصی )چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے کہا ہے کہ شفافیت اور میرٹ اداروں کی بقاء کے ضامن ہوتے ہیں، عدلیہ میں شفافیت کیلئے اصلاحات لائی گئی ہیں، کوئی بھی کیس کسی کی مرضی سے کسی جج صاحب کے پاس نہیں لگتا، عدالت عالیہ لاہور کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کیلئے ایس ایم ایس سروس، سہولت سنٹر، لاہور ہائی کورٹ ایپلیکیشن اور جدید ترین آٹومیشن سسٹم لایا گیا ہے۔ بد قسمتی سے چھوٹے چھوٹے لاء کالجز، اکیڈمیاں اور ٹیوشن سنٹر یونیورسٹیوں کے ساتھ ملی بھگت سے قانون کی ڈگریاں بانٹ رہے ہیں۔چیف جسٹس نے ان خیالات کا اظہار لمز کے سکول آف لاء میں طلبہ و طالبات سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔ اس موقع پر مسٹر جسٹس محمد یاور علی، مسٹر جسٹس محمد قاسم خان، مسٹر جسٹس عابد عزیز شیخ اور دیگر فاضل جج صاحبان کے علاوہ جسٹس (ر) فضل کریم ، چیف جسٹس (ر) تصدق حسین جیلانی اور چیف جسٹس(ر) جواد ایس خواجہ بھی موجود تھے۔لمز کے موٹ ہال میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس سید منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ اور ضلعی عدلیہ میں لاکھوں کی تعداد میں مقدمات زیر التواء ہیں،، اس لئے ورلڈ بنک کے تعاون سے پاکستان کا پہلاADR سنٹر لاہور میں قائم کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پورے پاکستان کے مقدمات میں سے98 فیصدمقدمات پنجاب میں ہوتے ہیں، تاہم عدالت عالیہ لاہور میں دائر کئے جانے والے مقدمات کی نسبت فیصلہ کئے جانے والے مقدمات کی تعداد زیادہ ہے، انہوں نے کہا کہ عدلیہ اور بار میں تمام معاملات کے حوالے سے مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ فاضل چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ چھوٹے چھوٹے معاملات پر ہڑتالیں انصاف کی فراہمی میں بڑی رکاوٹ ہیں ، اس کلچر کو جلد از جلد ختم ہوجانا چاہیے، انہوں نے کہا کہ بد قسمتی سے چھوٹے چھوٹے لاء کالجز، اکیڈمیاں اور ٹیوشن سنٹر یونیورسٹیوں کے ساتھ ملی بھگت سے قانون کی ڈگریاں بانٹ رہے ہیں جس کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاسکتی ، انہوں نے کہا کہ عدالت عالیہ لاہور کے فل بنچ میں زیر سماعت ایک کیس میں ایسی اکیڈمیوں اور ٹیوشن سنٹرز کے تدارک کیلئے ہدایات جاری کی گئی ہیں تاہم یونیورسٹیز اور بار کونسلز کو بھی اس میں اہم کردار ادا کرنا ہوگا اورچیک اینڈ بیلنس رکھنا ہوگا۔فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ متبادل مصالحتی نظام کے تحت حکم امتناعی کا کلچر بھی ختم ہو جائے گا۔انہوں نے کہا کہ وہ لمز سکول آف لاء سے امید کرتے ہیں کہ ADR کے حوالے سے طلبہ و طالبات کو تربیت دی جائے،لاء جرنل کا مطالعہ کریں اور ہمارے فیصلوں کا تنقیدی جائزہ لیں۔ تقریب سے لمز کے وائس چانسلر سہیل نقوی، سکول آف لاء کے ڈین اور ڈائریکٹر نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

مزید : صفحہ اول