خبردار!ویڈیو گیمز نہ کھینا

خبردار!ویڈیو گیمز نہ کھینا
خبردار!ویڈیو گیمز نہ کھینا

  


تحریر : راحیلہ خالد

چند روزپہلے لاہور کے وارڈنز کو موبائل پر ویڈیوگیمز کھیلنے پر سخت ترین نوٹس دیا گیا ہے ۔معلوم ہوا کہ کہ وہ دوران ڈیوٹی موبائل پر گیمز میں لگے رہتے تھے۔یہ بھی کیا عجیب لت ہے جس نے ڈیوٹی کے دوران بھی انسان کو اپنا اسیر بنارکھا ہے اور وہ صرف دماغ چلنے کی مشق میں مصروف ہوکر اپنے باقی سارے بدن کو بھول جاتا ہے۔

کھیل انسانی زندگی میں بہت اہم مقام کا حامل ہے۔ اس کے انسانی جسم کے ساتھ ساتھ انسانی ذہن پر بھی یکساں اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ پہلے پہل انسان بہت ہی سادہ قسم کے کھیلوں سے محظوظ ہوتا تھا۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ دوسری چیزوں کی طرح کھیلوں کے معاملے میں بھی انسانی توقعات و خواہشات میں تبدیلی آتی گئی۔ پہلے انسان محنت میں عظمت پر یقین رکھتے تھے لیکن جوں جوں معاشرہ ترقی کرتا گیا ،مشینوں کی تخلیق میں بھی اضافہ ہوتا چلا گیا اور انسان سہل پسندی کا شکار ہوتا گیا۔ وہ اپنے زورِ بازو کی بجائے مشینوں پر بھروسہ کرنے لگا۔

جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں دوسرے شعبوں کی طرح کھیلوں نے بھی خوب ترقی کی۔ اور فٹبال،باسکٹ بال،کرکٹ،ہاکی جیسے کھیل بچوں کی توجہ حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ اور ان کی جگہ کمپیوٹر گیمز اور ویڈیو گیمز نے لے لی۔ اور وقت کے ساتھ ساتھ ان کے استعمال میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

سب سے پہلی الیکٹرانک ویڈیو گیم سے 1970 ء میں دنیا کو روشناس کرایا گیا۔ اس کے بعد 1972 ء میں ایک ایسی ویڈیو گیم متعارف کروائی گئی جو سِکوں کی مدد سے چلتی تھی۔ جس کا نام ’’ پونگ ‘‘ تھا اور وہ اٹاری نامی کمپنی نے بنائی تھی۔ پونگ ایک ایسی گیم تھی جس کو بیک وقت دو انسان کھیل سکتے تھے۔ یہ گیم دنیا بھر میں اتنی مقبول ہوئی کہ اسی سال ہی اس کے دس ہزار یونٹ فروخت ہو گئے۔ اور کمپنی نے خاطر خواہ منافع کمایا۔ اس کے بعد 1976 ء کے آخر میں پروگرامیبل ویڈیو گیمز ایجاد ہوئیں۔ اور پھر 1994ء میں Sega نامی ایک کمپنی نے مار دھاڑ کے موضوع کو مدنظر رکھتے ہوئے گیمز بنانی شروع کیں۔ ان گیموں کی بے انتہا کامیابی کو دیکھتے ہوئے Panasonic,philips اور Pioneer نامی مشہورومعروف کمپنیوں نے بھی اس میدان میں قدم رکھا اور نئے گیم سسٹم بنانے شروع کئے۔ پھر 1996 ء میں کمپیوٹر گیمز کو متعارف کروایا گیا۔ اور یوں رفتہ رفتہ یہ گیمز آج کے دور تک پہنچیں۔ اور آجکل موبائل فون ہی ایسے بنائے جا رہے ہیں جن میں ویڈیو گیمز پہلے سے ہی موجود ہوتی ہیں اور اگر نہیں بھی ہوتیں تو انہیں ڈاؤن لوڈ کر لیا جاتا ہے۔

یہ ویڈیو گیمز چاہے وہ موبائل پہ کھیلی جائیں،کمپیوٹر پہ یا کسی اور طرز پہ،ان کا انسانی زندگی پر گہرا اثر ہوتا ہے۔ آجکل کے دور میں بچے،جوان،بوڑھے سبھی ویڈیو گیمز کے دلدادہ ہیں۔ لیکن مختلف نقادوں اور تحقیق کے مطابق ویڈیو گیمز آجکل کی نوجوان نسل اور بچوں پر بہت برے اثرات مرتب کر رہی ہیں۔ ان کی روزمرہ سرگرمیوں،معاشرتی رویوں،صحت،تعلیم اور اسی طرح کے بہت سے شعبوں میں ان ویڈیو گیمز کی وجہ سے واضح تبدیلیاں دکھائی دے رہی ہیں۔ مثلاً جو بچے اور جوان بہت زیادہ ویڈیو گیمز کھیلتے ہیں ان کے معاشرتی رویے میں نمایاں تبدیلی آتی ہے۔ وہ زیادہ دوست نہیں بناتے،نہ ہی پارکوں وغیرہ یا تفریحی مقامات کی سیر میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس طرح کی ان کی خود اعتمادی متاثر ہوتی ہے۔ وہ لوگوں کے سامنے بات کرنے سے کتراتے ہیں۔ اور گھر سے باہر نہ نکلنے اور تفریحی مقامات کے بارے پتہ نہ ہونے کی وجہ سے ان کی اپنی ثقافت بارے معلومات بھی نہ ہونے کے برابر ہوتی ہیں۔

ویڈیو گیمز کا بہت زیادہ استعمال بچوں اور نوجوانوں کی صحت پر بھی منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ وہ بچے جو بڑھنے کی عمر میں ہوتے ہیں ان کے اعضاء صحیح طرح سے نشوونما نہیں پاتے۔ ان کی آنکھوں کی بینائی کمزور ہو جاتی ہے۔ اور ایک جگہ پر بیٹھے رہنے کی وجہ سے وہ موٹاپے کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اور موٹاپہ دل کی بیماریوں،کولیسٹرول،ذیابیطس اور ان جیسی مختلف بیماریوں کو جنم دیتا ہے۔ ایک حالیہ طبی تحقیق کے مطابق زیادہ ویڈیو گیمز کھیلنے سے ذیابیطس کی قسم بی ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔ اے قسم کی ذیابیطس میں جسم میں مطلوبہ مقدار میں انسولین نہیں بنتی اس لئے ذیابیطس کا مرض لاحق ہوتا ہے۔ جبکہ بی قسم کی ذیابیطس وہ ہوتی ہے جس میں جسم میں موجود انسولین کی مقدار صحیح طریقے سے استعمال نہیں ہوتی۔

بعض والدین یہ شکایت بھی کرتے ہیں کہ ویڈیو گیمز کے زیادہ استعمال کی وجہ سے ان کے بچے اپنی تعلیم کو صحیح طریقے سے توجہ نہیں دے پاتے۔ اور ان کے اسکول میں بھی وہ مختلف قسم کی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لیتے۔ جیسا کہ تقریری مقابلے،کھیلوں کے مقابلے اور اسی طرح کی کئی دوسری سرگرمیاں،جن میں بچے اپنی دلچسپی کا اظہار نہیں کرتے۔

برطانیہ میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق وہ بچے جو ویڈیو گیمز نہیں کھیلتے ان کے انگلش اور حساب کے نمبر ان بچوں سے زیادہ ہوتے ہیں جو ویڈیو گیمز کھیلتے ہیں۔ اسی طرح جو بچے اور جوان مار دھاڑ سے بھرپور ویڈیو گیمز کھیلتے ہیں ان کا رویہ تشدد پسندانہ ہو جاتا ہے۔ اور وہ عام زندگی میں بھی اسی ڈگر پر چلتے ہیں۔ ان کو بات بات پہ غصہ آتا ہے۔ اور اس کے انکی آئندہ زندگی پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

ویڈیو گیمز کھیلنے والوں کو کب ان کی عادت ہو جاتی ہے انہیں پتہ ہی نہیں چلتا۔ اور پھر رفتہ رفتہ کھیلنے کا وقت ایک سے دو گھنٹے اور پھر اس سے بڑھ کر آٹھ گھنٹے تک اور کہیں تو اس سے بھی زیادہ تک جا پہنچتا ہے۔ ایک سروے کے مطابق لڑکیوں کے مقابلے میں لڑکے زیادہ ویڈیو گیمز کے عادی ہوتے ہیں۔

ویڈیو گیمز کے بے جا استعمال سے پیدا ہونے والے نفی اثرات کے برعکس ان کے صحیح استعمال سے بچوں اور نوجوانوں میں کچھ مثبت تبدیلیاں بھی دیکھی گئی ہیں۔ Barrie Gunter جو کہ Sheffield یونیورسٹی میں جرنلزم کے پروفیسر ہیں انہوں نے اپنی کتاب ''The effects of video games on children'' میں ویڈیو گیمز کے منفی و مثبت اثرات،اس بارے مختلف تحقیقات اور والدین کے اپنے بچوں بارے تحفظات و شکایات پہ بڑے مفصل انداز میں روشنی ڈالی ہے۔ ان کے مطابق جو بچے صحیح انداز میں ویڈیو گیمز کا استعمال کرتے ہیں ان کی ذہنی صلاحیتیں مزید نکھر کر سامنے آتی ہیں۔ وہ زیادہ حاضر دماغ ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ویڈیو گیمز فارغ اوقات میں وقت گزارنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔ ان کے ذریعے بچے گھروں میں والدین کی نظروں کے سامنے رہتے ہیں اور مختلف قسم کی سماجی و معاشرتی برائیوں سے بھی دور رہتے ہیں۔ بشرطیکہ ان کا استعمال توازن و اعتدال کے دائرے میں رہ کر کیا جائے۔ اگر والدین شروع ہی سے اپنے بچوں کو ٹائم ٹیبل کے مطابق ویڈیو گیمز کھیلنے بارے ترغیب دیں تو اس طرح وہ ان کے بے جا استعمال سے پیدا ہونے والے منفی اثرات سے اپنے بچوں کو محفوظ رکھ سکیں گے۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

.

مزید : بلاگ