طالب علم سے 400 سال تک چلنے والی بیٹری ایجاد ہو گئی

طالب علم سے 400 سال تک چلنے والی بیٹری ایجاد ہو گئی
طالب علم سے 400 سال تک چلنے والی بیٹری ایجاد ہو گئی

  


کیلیفورنیا (مانیٹرنگ ڈیسک) ایک طالبعلم نے ایسی بیٹری تیار کرلی ہے جو 400 سالوں تک چل سکتی ہے۔ حادثاتی طور پر ہونے والی اس ایجاد نے دنیا بھر کے سائنسدانوں کو چکرا کر رکھ دیا ہے۔

فیس بک نے آئی فون صارفین کے لئے ایسی سہولت متعارف کروادی کہ اب یہ چیز آپ کا فون مفت تلاش کرے گا

تفصیلات کے مطابق کیلیفورنیا یونیورسٹی کی طالبہ مایا لی تھائی پی ایچ ڈی کررہی ہیں اور وہ اپنی ٹیم کے ساتھ عام ریچارج ایبل بیٹریوں میں استعمال کیلئے بہتر نینو وائرز ڈیزائن کرنے کی کوشش کررہی تھیں۔ مایالی تھائی اور ان کی ٹیم اپنے مقصد کے حصول کیلئے سونے سے بنے نینو وائرز کو سپیشل الیکٹرو لیٹ جیل میں ایمبیڈ کر رہی تھیں۔ وہ اپنے مقصد میں تو کامیاب نہ ہو سکیں البتہ اسی دوران انہوں نے ایسی بیٹری ایجاد کر ڈالی جو 400 سال تک چل سکتی ہے۔

انہوں نے اس بیٹری پر تجربات کئے تو ہر کوئی دنگ رہ گیا کیونکہ اسے 3 ماہ تک 2 لاکھ چارج سائیکلز دئیے گئے لیکن اس کے باوجود یہ بالکل ٹھیک کام کرتی رہی اور اس کی کارکردگی میں ذرا برابر بھی فرق نہ آیا۔ ماہرین کے مطابق یہ بیٹری ایک عام سمارٹ فون یا لیپ ٹاپ کو 400 سال تک پاور دے سکتی ہے۔

کیلیفورنیا یونیورسٹی کے کیمسٹری فیکلٹی کے سربراہ رینالڈ پینر نے اس ایجاد کو حیران کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ” عام طور پر بیٹریوں کی کارکردگی 6 یا 6 ہزار چارج سائیکلز کے بعد تنزلی کا شکار ہوجاتی ہے یا زیادہ سے زیادہ سات ہزار چارج اس کے لیے کافی ثابت ہوتے ہیں۔“

پاکستانیوں کیلئے بہت بڑی خوشخبری آ گئی، ایک ایسی کمپنی کو پاکستان میں سمارٹ فونز بیچنے کی اجازت ملی گئی جس کے بارے میں جان کر آپ اچھل پڑیں گے

سائنسدان ابھی تک یہ جاننے سے قاصر ہیں کہ جیل اور سونے کی تاروں کے امتزاج سے ایک سپر بیٹری کیسے تیار ہو گئی، مگر چونکہ سونا ایک بہت مہنگی دھات ہے اس لئے سائنسدانوں نے اس کی متبادل سستی دھات کی تلاش شروع کر دی ہے جو مذکورہ بیٹری کی تیاری میں کام آ سکے۔

یہ بیٹری کب صارفین کے استعمال کیلئے پیش کی سکے گی، اس حوالے سے ابھی کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہو گا تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ سمارٹ فون بنانے والی کمپنیوں کیلئے بھی بیٹری کی کارکردگی ایک اہم مسئلہ رہی ہے اس لئے اس بیٹری کو جلد از جلد مارکیٹ میں لانے کی بھرپور کوشش کی جائے گی اور شائد آئندہ چند سالوں میں ہی یہ ممکن بھی ہو جائے۔

مزید : سائنس اور ٹیکنالوجی