دنیا کے بڑے اسلامی ملک میں بچے بنانے کی ’فیکٹری‘، ایک بچہ کتنے میں خرید سکتے ہیں؟ ایسی تفصیلات منظر عام پر کہ دنیا میں تہلکہ برپا ہوگیا

دنیا کے بڑے اسلامی ملک میں بچے بنانے کی ’فیکٹری‘، ایک بچہ کتنے میں خرید سکتے ...
دنیا کے بڑے اسلامی ملک میں بچے بنانے کی ’فیکٹری‘، ایک بچہ کتنے میں خرید سکتے ہیں؟ ایسی تفصیلات منظر عام پر کہ دنیا میں تہلکہ برپا ہوگیا

  


کوالا لمپور (مانیٹرنگ ڈیسک) دولت کے پجاری ہوس زر کی خاطر کچھ بھی کرنے کو تیار ہوجاتے ہیں، لیکن شاید کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ یہ درندے ایک ممتاز اسلامی ملک میں انسانی بچوں کی فروخت کا بازار بھی لگا سکتے ہیں، جہاں ہر رنگ اور نسل کے نوزائیدہ بچے فروخت کئے جا رہے ہیں۔

پاکستان کی پہلی آن لائن فلم،مکمل خبر پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ا لجزیرہ ٹی وی نے تہلکہ خیز انکشاف کیا ہے کہ ملائیشیا میں نومولود بچوں کی فروخت کے لئے سپر مارکیٹ قائم ہے، جہاں قید میں رکھی گئی خواتین سے بچے پیدا کرواکر انہیں ہزاروں ڈالر کے عوض فروخت کیا جاتا ہے، اور ان بچوں کو فروخت کرنے کے لئے انٹرنیٹ پر باقاعدہ مارکیٹنگ بھی کی جاتی ہے۔ الجزیرہ ٹی وی نے اپنے پروگرام ”101 ایسٹ“ میں گزشتہ ہفتے اس تہلکہ خیز تحقیق پر مبنی رپورٹ نشر کی۔ اس رپورٹ میں بتایاگیا کہ حالات سے مجبور اور ناجائز تعلقات کے نتیجے میں حاملہ ہونے والی لڑکیوں کی بڑی تعداد جرائم پیشہ گروہوں کے ہاتھ لگ جاتی ہے۔ ان لڑکیوں اور خواتین کو مخصوص گروہ اپنی تحویل میں رکھتے ہیں اور ان کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کو فروخت کردیتے ہیں۔

’جب بھی کسی کو بتاﺅں کہ ڈیوٹی ختم ہونے کے بعد یہ کام کرتی ہوں تو وہ شدید حیرت میں مبتلا ہوجاتا ہے‘ ائیرہوسٹس نے اپنی زندگی کے بارے میں ایسا انکشاف کردیا کہ دیکھ کر کسی کو بھی یقین نہ آئے

الجزیرہ کے صحافیوں نے گاہکوں کا روپ دھار کر دارالحکومت کے نواح میں مقیم ایک خاتون سے رابطہ کیا، جس نے بچوں کی فروخت کے لئے انٹرنیٹ پر اشتہارات دے رکھے تھے۔ اس خاتون نے بتایا کہ اس کے پاس مختلف نسلوں کے بچے دستیاب تھے جو چند سو سے لے کر چند ہزار ڈالر کی قیمت میں دستیاب تھے۔ یہ خاتون گاہکوں کے روپ میں آنے والے صحافیوں کو ایک بچہ ڈیڑھ ہزار ڈالر (تقریباً ڈیڑھ لاکھ پاکستانی روپے) میں فروخت کرنے پر تیار ہوگئی۔ صحافیوں کی مخبری پر پولیس نے چھاپہ مار کر اس خاتون، اس کے بیٹے اور ایک میڈیکل اسسٹنٹ کو گرفتار کرلیا۔ ان سے کی گئی تفتیش میں خوفناک انکشاف ہوا کہ خاتون نے اپنے پاس 78 انڈونیشیائی خواتین اور لڑکیوں کو قید کررکھا تھا۔ یہ سب کی سب حاملہ تھیں اور ان کے ہاں جنم لینے والے بچوں کو فروخت کے لئے پیش کیا جانا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس کاروبار میں کئی منظم گروہ، ہسپتال اور ڈاکٹر ملوث ہیں۔ یہ گروہ سوشل میڈیا ویب سائٹوں پر اپنی تشہیر کرتے ہیں اور گاہکوں کو پیشکش کرتے ہیں کہ وہ اپنی پسند کی نسل، رنگت اور قابلیت کی خواتین کا انتخاب کرسکتے ہیں۔ منتخب کی گئی خاتون کے ہاں پید اہونے والا بچہ گاہک کو طے شدہ قیمت میں فروخت کردیا جاتا ہے۔ بچے کی قیمت کا تعین اس کی جنس، رنگت اور دیگر عوامل کی بنا پر کیا جاتا ہے۔ عموماً یہ قیمت 500ڈالر (تقریباً 50 ہزار پاکستانی روپے) سے لے کر 8ہزار ڈالر (تقریباً آٹھ لاکھ پاکستانی روپے) تک ہوتی ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس