کرپشن کے خلاف ہاتھ ڈالا جائے تو معاشرے خوشحالی کی راہ پر گامز ن ہوتے ہیں،پانامہ قومی جنگ ہے ادھوری نہیں چھوڑوں گا :عمران خان

کرپشن کے خلاف ہاتھ ڈالا جائے تو معاشرے خوشحالی کی راہ پر گامز ن ہوتے ...
 کرپشن کے خلاف ہاتھ ڈالا جائے تو معاشرے خوشحالی کی راہ پر گامز ن ہوتے ہیں،پانامہ قومی جنگ ہے ادھوری نہیں چھوڑوں گا :عمران خان

  


پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے معاشرتی اور اقتصادی خوشحالی کو کرپشن کے خاتمے سے مشروط کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب حکومتیں کرپشن پر ہاتھ ڈالتی اور حکومتیں اپنے عوام پر خرچ کر تی ہیں تو معاشرے خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوتے ہیں، پنجاب کی پولیس شریف خاندان کے گھر کے نوکر بن چکے ہیں آئی جی شریفوں کے پاؤں میں بیٹھے رہتے ہیں وہاں پولیس کو مخالفین کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے حتی کہ میرے خلاف متعدد ایف آئی آر درج کی گئیں ،میرا قصور یہ ہے کہ میں پانامہ پر پرامن احتجاجی آواز بلند کرتا رہتا ہوں، یہ قوم کی جنگ ہے اور اس قوم کی جنگ کو میں اُدھورا نہیں چھوڑ سکتا ۔

مزید پڑھیں:کپتان کے 3مشاغل ، کنٹینر پر چڑھنا تقریر کرنا، دلہن ڈھونڈنا ہے :امیر مقام

مٹلتان سوات میں 84 میگاواٹ گورکین ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے سنگ بنیاد کے موقع پر عوامی اجتماع سے خطاب کر تے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان سے سرمایہ کاروں نے دوسرے ملکوں کا رخ اسلئے کیا کہ یہاں اداروں میں کرپشن عروج پر تھی اور یہ کرپشن سیاسی آقاؤں کے ایماء پر ہوتی رہی حتیٰ کہ پاکستان کے اپنے سرمایہ کاروں نے بنگلہ دیش جیسے ترقی پذیر ملک کا رخ کیا،جب کرپشن ہوتی ہے تو سرمایہ کار، سرمایہ کاری کرنے سے ہاتھ ر وک لیتے ہیں۔

انہوں نے خیبرپختونخو اکے وزیراعلیٰ اور پوری ٹیم کو اُونچی سطح پر کرپشن کے خاتمے پر مبارکباد دی اور صوبے کی ترقی کی بنیادشفاف طریقے سے رکھ کر نئے خیبرپختونخوا کی سوچ کو عملی جامہ پہنایا ،تاریخ میں پہلی بار پن بجلی کے شعبے میں چھ پراجیکٹس کیلئے 72 سرمایہ کاروں نے حصہ لیا،اس سے پہلے سرمایہ کار یہاں سرمایہ کاری سے کتراتے تھے، اب انہیں پتہ ہے کہ اداروں میں کرپشن نہیں اور اُن سے کوئی رشوت نہیں مانگے گا۔عمران خان نے کہاکہ قوموں کی ترقی کیلئے دو اہم نکات ہوتے ہیں کہ وہاں کے ادارے مضبوط کئے جائیں جس میں کرپشن ، اقرباء پروری اور بدعنوانی نہ ہو اور دوسرا حکومت عوام پر سرمایہ کاری کرے ۔ انہوں نے کہاکہ جب خیبرپختونخوا میں پولیس کو ادارے کے طور پر مستحکم کیا گیا اس میں سیاسی مداخلت ختم کی گئی کرپشن اور سفارش کا خاتمہ کیا گیا تو یہاں پر جرائم کی شرح میں نمایاں کمی دیکھی گئی ،جب کے اس کے برعکس پنجاب اور سندھ میں جرائم میں نمایاں اضافہ ہوا ،یہ ہوتا ہے کرائم فائٹنگ اور کرائم پروموٹنگ، جو ادارے آزاد اور خود مختار ہوں وہ ہر حالات میں ڈیلیور کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ پنجاب کی پولیس شریف خاندان کے گھر کے نوکر بن چکے ہیں، آئی جی شریفوں کے پاؤں میں بیٹھے رہتے ہیں ،وہاں پولیس کو مخالفین کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے ،حتی کہ میرے خلاف متعدد ایف آئی آر درج کی گئیں ،میرا قصور یہ ہے کہ میں پانامہ پر پرامن احتجاجی آواز بلند کرتا رہتا ہوں، یہ قوم کی جنگ ہے اور اس قوم کی جنگ کو میں اُدھورا نہیں چھوڑ سکتا ۔

عمران خان نے کہاکہ کتنی شرم کی بات ہے کہ ایک صوبے کے وزیراعلیٰ پر شیلنگ کی گئی ، پنجاب پولیس کو غیر قانونی طور پر پرامن احتجاج روکنے کیلئے استعمال کیا گیا جو ساری دُنیا نے دیکھا کہ پنجاب کی پولیس کتنی سیاست زدہ ہو چکی ہے۔ عمران خان نے کہاکہ جب آپ غریبوں پر خر چ کرتے ہیں تو یہ آپ اپنا دینی و ملی فریضہ ادا کرتے ہیں، اس ملک پر ایک مراعات یافتہ ٹولہ مسلط ہے ،جس کیلئے علیحدہ علیحدہ قانون ہیں لیکن خیبرپختونخو انے منصفانہ نظام کے ذریعے اسلوب حکمرانی کا نیا نظام متعارف کرایا، صرف تعلیم کے شعبے میں 34 ہزار سے زیادہ طلباء پرائیویٹ اداروں سے سرکاری تعلیمی اداروں کی طرف گئے ، صحت کے شعبے میں نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آئی، جب پولیس سے عوامی خدمت کا کام لیا جانے لگا تو پولیس نے مایوس نہیں کیا اور عوامی خدمت میں لگ گئے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے 45 فیصدبچے غذائی نشوونما کی قلت کی وجہ سے قد کی کمی اور ذہنی طورپر پسماندگی کا شکار ہیں،وہ کیسے امیروں کے بچوں کا مقابلہ کر سکیں گے ؟ہم غریب اور کمزور کے حق کیلئے کھڑے ہیں ،میرے سامنے یہ چیلنج ہے اور جس طرح ہمارے پیغمبرﷺنے مدینہ میں فلاحی ریاست قائم کی ،وہ ہمارے مشعل راہ اور ایک نمو نہ ہے، ہم اس کی روشنی میں صوبائی حکومت کی ٹیم کے ساتھ مل کر صوبے میں امن و آشتی اور فلاح و بہبود پر مبنی ایک فلاحی معاشرے کی داغ بیل ڈال رہے ہیں جو پورے ملک کیلئے ایک مثال اور نمونہ ہو گا ،ہم اس میں کتنے آگے جاسکتے ہیں یہ وقت بتائے گا کیونکہ ہمارے ملک کے حالات ایسے آچکے ہیں کہ معمولی چوری میں غریب کو جیل میں ڈال دیا جاتا ہے جبکہ ارب پتی حکمرانی کرتے رہتے ہیں، یہ دو قوانین نہیں چل سکتے ،طاقتور اور کمزور کیلئے ایک ہی ترازو ہونا چاہیئے۔

انہوں نے کہاکہ مجھے یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ سیاست میں آکر لوگ کیسے ارب پتی بن جاتے ہیں؟ یہ اقتدار کو اپنے مفادات میں استعمال کئے بغیر ممکن ہی نہیں،پانامہ لیکس پر ہم عدالت سے انصاف کی اُمید لگائے بیٹھے ہیں ، یہ اس ملک کے مستقبل اور تقدیر کا مسئلہ ہے ، اس پر اگر مگر اور چو چراں نہیں ہوگی اور نہ ہم اپنے موقف سے ہٹیں گے ۔پن بجلی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے عمران خان نے کہاکہ اس سے مقامی لوگوں کو سستی بجلی فراہم ہو گی اور یہ بجلی ماحول دوست بھی ہو گی یہ کوئلے سے پیدا ہونے والے ماحول دشمن بجلی سے بہتر ہے،بین الاقوامی طور پر اقوام کوئلے سے بجلی پیدا کرنا چھوڑ چکے ہیں لیکن چونکہ ہمارے ہاں اس میں حکمرانوں کیلئے کچھ ہے اس لئے وہ کوئلے جیسے ماحول دشمن بجلی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

مزید : قومی