دنیا کا وہ واحد آدمی جسے ڈاکٹروں نے غلطی سے کینسر تشخیص کردیا لیکن جب حقیقت سامنے آئی کہ وہ صحت مند ہے تو اس کے دکھ کی کوئی انتہا نہ رہی، صحت مندی کی خبر پر اتنا دکھی کیوں ہوا؟ جواب کوئی سوچ بھی نہیں سکتا

دنیا کا وہ واحد آدمی جسے ڈاکٹروں نے غلطی سے کینسر تشخیص کردیا لیکن جب حقیقت ...
دنیا کا وہ واحد آدمی جسے ڈاکٹروں نے غلطی سے کینسر تشخیص کردیا لیکن جب حقیقت سامنے آئی کہ وہ صحت مند ہے تو اس کے دکھ کی کوئی انتہا نہ رہی، صحت مندی کی خبر پر اتنا دکھی کیوں ہوا؟ جواب کوئی سوچ بھی نہیں سکتا

  

لندن(نیوز ڈیسک) خود کو کینسر میں مبتلاءسمجھ کر موت کا انتظار کرنے والے مریض کو یہ خبر مل جائے کہ دراصل اسے کینسر تھا ہی نہیں ہے تو اس سے بڑی خوشخبری کیا ہو سکتی ہے؟ جان برینڈرک نامی ادھیڑ عمر مریض کو ڈاکٹروں نے یہی خوشخبری سنائی، مگر خوش ہونا تو دور کی بات الٹا اس کا دل غم سے بیٹھ گیا۔

فوکس نیوز کے مطابق 62 سالہ جان برینڈرک کے ساتھ یہ افسوسناک واقعہ 2005ءمیں پیش آیا۔ ڈاکٹروں نے اسے بتایا کہ وہ ’پینکریاٹک کینسر‘ کا شکار ہے اس کے پاس زندہ رہنے کو چند ماہ ہی بچے تھے۔ جان برینڈرک کو یہ سن کر دکھ تو بہت ہوا لیکن اس نے فیصلہ کیا زندگی کے جو چند ماہ باقی رہ گئے ہیں انہیں اتنے مزے میں گزارے کے سب حسرتیں ہی پوری ہو جائیں۔ بس یہی سوچ کر اس نے اپنی ملازمت چھوڑ دی اور جو کچھ مال اسباب موجود تھا اسے بیچ کر زندگی کے مزے لوٹنے کے لئے نکل کھڑ اہوا۔ وہ ہر روز تفریح گاہوں اور سیاحتی مقامات کا رخ کرتا اور اس کے شب و روز مہنگے ریستورانوں اور ہوٹلوں میں گزرتے تھے۔

بھارتی وزیراعظم مودی کے دونوں بھائی اس وقت کہاں ہیں اور کیا کرتے ہیں؟ جان کر ہمارے سیاستدانوں کو شرم کے مارے اپنا منہ چھپانے کی کوئی جگہ نہ ملے گی

جان اپنی دولت موج مستی پر لٹاتے ہوئے جب تقریباً ختم کر چکا تو ایک روز ڈاکٹروں نے وہ خوشخبری سنا دی جو اس کے دل پر بجلی بن کر گری۔ ڈاکٹروں نے اپنی پہلی تشخیص پر نظر ثانی کرتے ہوئے جان کو بتایا کہ دراصل وہ کینسر کا نہیں بلکہ ’پینکریاٹیٹس‘ نامی بیماری کا شکار ہے جو پوری طرح قابل علاج ہے۔ یہ خبر سن کر جان کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ زندگی بچنے پر خوشی منائے یا یہ سوچ کر دکھی ہو کہ اب خالی ہاتھ زندگی گزرے گی کیسے۔

ڈیلی پاکستان کے یو ٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

اس صورتحال سے دوچار ہونے پر جان کا کہنا تھا ”میرے لئے یہ انکشاف بھی پہلے انکشاف سے کچھ کم صدمہ خیز نہیں تھا۔ مجھے انہوں نے پورے یقین کے ساتھ بتایا تھا کہ مجھے کینسر لاحق تھا اور میں زیادہ عرصہ زندہ نہیں رہ پاﺅں گا۔ میں نے یہ سن کر ہر چیز سے نجات پالی تھی، گاڑی بھی بیچ ڈالی اور گھر بھی، اپنے قیمتی ملبوسات بھی بیچ ڈالے اور جو کچھ بچت موجود تھی اسے بھی خود پر خرچ کرلیا۔ اب میرے پاس کچھ نہیں بچا جس کے سہارے زندہ رہ سکوں۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس