حکومت اور تحریک صراط مستقیم کے درمیان مذاکرات کامیاب، ڈاکٹر اشرف جلالی نے مال روڈ پر جاری دھرنا ختم کردیا

حکومت اور تحریک صراط مستقیم کے درمیان مذاکرات کامیاب، ڈاکٹر اشرف جلالی نے ...
حکومت اور تحریک صراط مستقیم کے درمیان مذاکرات کامیاب، ڈاکٹر اشرف جلالی نے مال روڈ پر جاری دھرنا ختم کردیا

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) حکومت اور تحریک صراط مستقیم کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں جس کے بعد ڈاکٹر اشرف جلالی نے  پنجاب اسمبلی کے سامنے ایک ہفتے سے جاری اپنا دھرنا ختم کرنے کا اعلان  کردیا ہے  ،معاہدے پر ایک ماہ تک عملدرآمد نہ ہواتو پھر دھرنا دیں گے ،مذاکرات میں حکومت کی جانب سے خواجہ سعد رفیق، میاں مجتبیٰ شجاع الرحما ن نے شرکت کی جبکہ تحریک صراط مستقیم کے وفد میں سید نوید الحسن مشہدی ، ولید احمد شرقپوری اور مفتی عابد جلالی شامل تھے، دھرنے کے خاتمے کا اعلان ڈاکٹر اشرف جلالی نے پنجاب اسمبلی کے سامنے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اشرف جلالی نے 3 دسمبر تک رانا ثنا اللہ کے استعفے کا مطالبہ خواجہ حمید الدین سیالوی کی عدالت پر چھوڑ دیا ، انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیر قانون حمید الدین سیالوی کی موجودگی میں جید علمائے کرام کے سامنے اپنے بیان کی وضاحت دیں ، اس کے بعد ہم فیصلہ کریں گے کہ رانا ثنا اللہ کا استعفی لینا ہے یا نہیں ۔ 

پنجاب اسمبلی کے باہرسید نوید الحسن مشہدی ، ولید احمد شرقپوری اور مفتی عابد جلالی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر اشرف آصف  جلالی کا کہنا تھا مذاکرات کے بعد حکومت نے ہمارے تمام چھے مطالبات تسلیم کر لئے ہیں،حکومت اور تحریک کے مابین طے شدہ معاہدے کی رو سے پنجاب حکومت رانا ثناءاللہ کے متنازعہ بیانات کے حوالے سے کمیٹی بنائے گی ، حکومت اور مذہبی جماعت طے شدہ معاہدے کی پابند ہوگی۔ حکومت پنجاب مساجد کے سپیکر پر پابندی کے حوالے سے تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام پر مشتمل ایک کمیٹی بنائے گی جو قانون سازی کے لئے سفارشات دے گی اور اس حوالے سے16جنوری2018ءتک قانون سازی کرکے اعلان کیا جائے گا۔ وفاقی حکومت اور تحریک لبیک کے مابین کے درمیان3نومبر کو ہونے والے نکات پر فوری عمل درآمد کیا جائے گا۔ متحدہ علما ءبورڈ نصاب سازی کے امور کا جائزہ لے گی جبکہ معاہدے اسلام آباد کی شق نمبر 3پر فوری عملدآمد کیا جائے گا۔ اشرف جلالی کا مزید کہنا تھا کہ حکومت نے ہمیں شہدا ،گرفتار اور زخمی افراد کی لسٹیں ہمیں فراہم کردی ہیں ، جس طرح حکومت اپنی رپورٹ میں شفافیت لا سکتی تھی انہوں نے کوشش کرکے ہمیں مکمل لسٹیں دے دی ہیں، 30دسمبر تک ہم شہدا اور زخمیوں کی ایف آئی آر درج کرانے کا معاملہ ایک ماہ تک علامہ خادم حسین رضوی پر چھوڑتے ہیں اور 30دنوں تک ہم اس پر بات نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم رانا ثناءاللہ کے استعفے کا مطالبہ اور استعفے کے بعد آئین سے غداری کا مقدمہ خواجہ حمید الدین کی عدالت پر چھوڑ دیتے ہیں اور 3تاریخ تک ہم اس سے دستبردار ہوتے ہیں ، رانا ثناءاللہ اپنے بیان کے حوالے سے خواجہ حمید الدین کی موجودگی میں جید علمائے کرام کے سامنے وضاحت دیں۔علامہ اشرف آصف  جلالی کا مزید کہنا تھا کہ آئین پاکستان قادیانیوں کو خود کو مسلمان کہنے پر تین سال قید کی سزا دیتا ہے جبکہ ہمارے قائدین اس سے لا علم ہیں اور رانا ثناءاللہ قادیانیوں کی زبان بول رہے تھے، ایک  ایسا ادارہ بنایا جائے تو قادیانیوں کی مانیٹرنگ کرے کہ وہ کہا ں کہاں آئین پاکستان کی خلاف ورزی کر رہے ہیں؟ ہمارے مطالبے پر حکومت یہ ادارہ بنانے پر راضی ہوگئی ہے، دو ماہ کے اندر حکومت جید علمائے کرام کی سرپرستی میں ایک قومی ادارہ بنائے گی، توہین رسالت ﷺ کی مجرمہ آسیہ کی سزا پر قانون کے مطابق عملدآمد کیا جائے گا اور اسے بیرون ملک بھیجنے کی خبریں بے بنیاد ہیں۔انہوں نے کہا کہ  راجہ ظفر الحق کمیٹی کی رپورٹ کو سامنے لاتے ہوئے انتخابی اصلاحات بل میں ترمیم کرنے والے افراد کو سامنے لایا جائے اور قانون کے مطابق ان کے خلاف کارروائی کی جائے، زاہد حامد کے استعفے کے بعد آج تک یہ بات سامنے نہیں آئی کہ ختم نبوت ﷺ پر کس نے حملہ کیا؟ہمارا چوتھا مطالبہ تھا کہ سفارتی ، سیاسی اور اخلاقی ذرائع سے برمی مسلمانوں کے حوالے کوششیں کرے گی اور ترکی کی مدد سے ان کے لئے ریلیف سرگرمیاں شروع کرے گی، ہمارا پانچواں مطالبہ تھا کہ وفاقی حکومت پنجاب حکومت کو لاﺅڈ سپیکر کے حوالے سے عائد پابندی کے خاتمے کے لئے کام کرے گی، ہم نے  اسلام آباد میں جاں بحق ہونے والے افراد  کے بارے میں  گذشتہ سات دنوں میں ان  کے حق میں آواز بلند کی، فیض آباد  معاہدے میں کسی  شہید کا ذکر نہیں ہے جبکہ رانا ثناءاللہ نے بھی کہہ دیا کہ وہاں کوئی شہید ہی نہیں ہوا ۔ پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے اسلام آباد میں جاں بحق ہونے والے افراد کے ایصال ثواب کے لئے دعا ئے مغفرت بھی کی گئی جبکہ انہوں نے تمام کارکنان کا شکریہ ادا کیا جو گذشتہ سات دنوں سے مال روڈ دھرنے میں موجود تھے۔

ڈیلی پاکستان کے یو ٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں پر کلک کریں

مزید : قومی