’’ پاکستان پیپلز پارٹی اقتدار میں آکر حکیموں کی بھرتیوں پر عائد پابندی ختم کردے گی‘‘ عزیز الرحمٰن چن

’’ پاکستان پیپلز پارٹی اقتدار میں آکر حکیموں کی بھرتیوں پر عائد پابندی ختم ...
’’ پاکستان پیپلز پارٹی اقتدار میں آکر حکیموں کی بھرتیوں پر عائد پابندی ختم کردے گی‘‘ عزیز الرحمٰن چن

  

لاہور(مشرف زیدی سے ) پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماء عزیز الرحمن چن نے پنجاب حکومت کی جانب سے حکیموں کی بھرتیوں پر پابندی کی پرزور مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیاہے کہ اطباء کو بھی سرکاری ملازمتوں کا حق دیا جائے تاکہ وہ ملک و قوم کی خدمت کرسکیں۔ عزیز الرحمن چن نے وفاق اطباء پاکستان کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی آپ کے موقف کی حمایت کرتی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اقتدار میں آکر حکیموں کی بھرتیوں پر عائد پابندی ختم کردے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہماری صوبہ سندھ میں حکومت ہے اور وہاں ہم نے حکیموں کو گریڈ سترہ میں پروموٹ بھی کیا ہے اور حکیموں کی سینکڑوں ملازمتیں مہیا کی ہیں۔ صوبہ سندھ کے ایمپلائز اطباء کے لئے گریڈ 17 پر پوسٹنگ آرڈر جاری ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ پنجاب کے برعکس سندھ کے ہر ضلع میں سینئر سرکاری حکیم کو گریڈ 17 پر ترقی کا پوسٹنگ آرڈر دیا جائے گا ، جو انھیں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر جاری کرے گا،ملک بھر کے اطباء نے سندھ حکومت کے اس فیصلے کو مسئلہ صحت حل کرنے میں اہم پیش رفت قرار دیا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اطباء سندھ کے ان دور دواز علاقوں میں بھی جا کر اپنی خدمات انجام دیتے ہیں جہاں ڈاکٹرز اور نرسیں جانے سے گریز کرتے ہیں۔

ڈیلی پاکستان کا یوٹیوب چینل سبسکرائب کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

وفاق اطباء پاکستان کے وفد نے پیپلز پارٹی کے رہنماء کو بتایا کہ پنجاب بھر کے اطباء میں حکومتی اہلکاروں کی وجہ سے بے جا ہراساں کرنے کی وجہ سے بہت تشویش پائی جاتی ہے‘ جس کی وجہ پی ایچ سی، ڈرگ رولز 2016 اور ڈریپ کی طرف محکمہ صحت پنجاب کے ذریعہ سے پریکٹیشنرز کیخلاف کی جانے والی ظالمانہ اور خلاف قانون کاروائیاں ہیں۔ وفد نے انہیں بتایا کہ اگر موجودہ حکومت نے اس سلسلے میں خود انحصاری کی راہ نہ اپنائی اور اپنے اس ورثہ کی حفاظت نہ کی تو بعید نہیں کہ آئندہ آنے والے وقت میں پاکستانیوں کو ہربل (یونانی )میڈیسنزبھی کسی اور ملٹی نیشنل کمپنی کی بنی ہوئی خریدنی پڑیں ۔لہٰذا اس سلسلے میں حکومت طب یونانی اور صنعت طبی دواسازی کی سرپرستی کرے اور اس سلسلے میں قوانین میں ترامیم اور تنسیخ جو کہ عوامی مفاد نیز صنعت طبی دواسازی کے مفاد میں اطبائے پاکستان اور دیگر طبی تنظیموں نے پیش کی ہیں ان پر عملدرآمد کیا جائے تا کہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو۔

مزید : لاہور