رابرٹ موگابے کو عہدے سے ہٹانے میں کامیابی ملنے کے بعد زمبابوین فوج کو ایک اور خوشخبری مل گئی

رابرٹ موگابے کو عہدے سے ہٹانے میں کامیابی ملنے کے بعد زمبابوین فوج کو ایک اور ...
رابرٹ موگابے کو عہدے سے ہٹانے میں کامیابی ملنے کے بعد زمبابوین فوج کو ایک اور خوشخبری مل گئی

  

ہرارے (ویب ڈیسک) زمبابوے کے نئے صدر ایمرسن منانگاگوا نے نئی کابینہ میں اعلیٰ فوجی افسران کو شامل کرکے انہیں اہم وزارتیں تفویض کردیں۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق گزشتہ ہفتے صدارت کا منصب سنبھالنے کے بعد نئے صدر ایمرسن منانگاگوا نے اپنی پہلی کابینہ تشکیل دے دی ہے جس میں فوجی افسران کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ نئے صدر نے فضائیہ کے ایئر مارشل پیرنس شیری کو وزیر زراعت مقرر کردیا جب کہ سابق صدر رابرٹ موگابے کا تختہ الٹنے کے بعد قوم سے خطاب کرنے والے فوجی جنرل سیبوسیسو کو وزارت خارجہ کا قلمدان سونپ دیا۔

ڈیلی پاکستان کا یوٹیوب چینل سبسکرائب کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

سابق فوجیوں کی تنظیم کے سربراہ کرس متس وانگوا کو وزیر اطلاعات بنادیا گیا۔ اعلیٰ ملٹری افسران کو کابینہ میں شامل کرنے پر نئے صدر کو تنقید کا سامنا ہے اور مخالفین کا کہنا ہے کہ مسلح افواج کی اعلیٰ قیادت کو اہم وزارتیں تفویض کرنا غیر دانشمندانہ فیصلہ ہے۔نئے وزیر زراعت پیرنس شیری 1980 میں موگابے کے دور حکومت میں عام شہریوں کے قتل عام میں بھی ملوث تھے۔ زمبابوے کی سیاست میں ملکی افواج کا کردار متنازع رہا ہے اور رابرٹ موگابے کے 37 سال تک برسراقتدار رہنے کی وجہ بھی فوج کی حمایت کو قرار دیا جارہا ہے۔ نئی کابینہ میں موگابے حکومت کے وزرا کو بھی شامل کیا گیا ہے ۔ حکومت نے ان سابق فوجی افسران کو بھی کیبنٹ کا حصہ بنایا ہے جو ماضی میں سابق صدر موگابے کو سپورٹ کرتے رہے ہیں۔

مزید : بین الاقوامی