مرشد نے شہر چھوڑ دیا اور ہیجڑوں کے گروہ میں شامل ہوگیا،اللہ کے ایک برگزیدہ بندے کا حیرت و استعجاب میں مبتلا کردینے والا واقعہ

مرشد نے شہر چھوڑ دیا اور ہیجڑوں کے گروہ میں شامل ہوگیا،اللہ کے ایک برگزیدہ ...
مرشد نے شہر چھوڑ دیا اور ہیجڑوں کے گروہ میں شامل ہوگیا،اللہ کے ایک برگزیدہ بندے کا حیرت و استعجاب میں مبتلا کردینے والا واقعہ

  

اللہ والوں کے رموز کو سمجھنا عام انسان کے بس میں نہیں۔بعض اوقات وہ اپنے نفس کو مارنے کے لئے ایسے کام بھی کرجاتے ہیں کہ صرف اہل سلوک ہی ان کی اس ادا کو سمجھ پاتے ہیں کہ دراصل وہ کس مجاہدے میں مصروف ہیں۔خزینۃ الاصفیہ میں شیخ شبلی ؒ کا ایسا ہی واقعہ بیان کیا گیا ہے جسے کوئی عام انسان سمجھنے سے قاصر ہے ۔وہ اپنی طرح کے صاحب جذب و سرشار بزرگ تھے ۔حضرت جنید بغدادیؒ کے لاڈلے شاگرد تھے۔آپؒ اپنے شاگرد شبلیؒ کے بارے میں اکثر فرماتے ’’لوگو! تم شبلی کو اس نظر سے نہ دیکھا کرو جس طرح دوسروں کو دیکھتے ہو کیونکہ وہ ’’عین من عیون اللّٰہ‘‘ ہیں۔ یہ عجیب بات ہے کہ ہمہ وقت کی سر شاری وارفتگی میں شبلی کو شریعت مطہرہ اور شعائر اسلامی کا حد درجہ پاس تھا۔شیخ شبلیؒ کی زندگی کا یہ واقعہ انکی وارفتگی اور سرشاری سے ہی متعلق ہے۔

مزید سبق آموز واقعات کی کہانیاں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

روایت بیان کی جاتی ہے کہ شیخ شبلیؒ کچھ عرصہ اپنے مقام سے غائب رہے۔ ہر چند تلاش کیاگیا ۔ لیکن وہ کسی کو مل نہیں پائے پھر ایک روز ہیجڑوں کے گروہ میں دیکھے گئے۔ مریدین تعجب کا شکار ہوگئے کہ ایسا صوفی کس کام میں پڑگیا۔ پوچھا’’ اے شیخ یہ کیا بات ہے‘‘

فرمایا’’ یہ گروہ دنیا میں نہ مرد ہے نہ عورت۔ میں بھی اسی حالت میں گرفتار ہوں۔ نہ مرد ہوں نہ عورت۔ پس ناچار میری جگہ انہی میں ہے‘‘

روایت ہے شیخ ابھی مرض الموت ہی میں تھے کہ آپ کی وفات کی خبر شہر میں اڑ گئی۔ لوگ انبوہ در انبوہ نماز جنازہ میں شریک ہونے کے لئے آنا شروع ہوئے۔ شیخ نے جب لوگوں کا ہجوم دیکھا تو ہنس کر کہا’’ عجیب بات ہے کہ مُردے زندہ کے جنازہ کے لئے آرہے ہیں‘‘

اس وقت ایک شخص نے کہا’’ اے شیخ کلمہ لا الہ الا اللہ کہئے‘‘

فرمایا’’ لا نہیں کہوں گا‘‘

لوگوں نے کہا’’ اس وقت سوائے کلمہ کہنے کے اور کوئی چارہ نہیں‘‘ اس دوران ایک شخص نے بلند آواز سے کلمہ شہادت پڑھا۔ شیخ نے فرمایا’’ سبحان اللہ مُردہ زندہ کو تلقین شہادت کرتا ہے‘‘

چند ساعت کے بعد حاضرین نے پوچھا’’ کہئے آپ کیسے ہیں؟ ‘‘

فرمایا’’ ابھی محبوب سے ملا چاہتا ہوں‘‘ یہ کہا اور واصل حق ہوگئے۔

شیخ شبلیؒ نے ۳۳۵ھ میں وفات پائی۔ مزار بغداد میں زیارت گاہ خلق ہے۔آپؒ کے وصال پر فارسی میں یہ قطعہ لکھا گیا تھا

شیخ دیں شبلی است پیر بے نظیر

یافت چوں ازد ہر در جنت مقام

سید دوراں ست سال وصل او

ہم محب اصفیا ہادی امامؑ

مزید : روشن کرنیں