دھرنا اور رانا ثناءاللہ کے معاملات،وزیرقانون کو استعفے کیلئے ڈیڈ لائن دینے والے پیر حمید الدین سیالوی دراصل کون ہیں؟ وہ تمام باتیں جوآپ جاننا چاہتے ہیں

دھرنا اور رانا ثناءاللہ کے معاملات،وزیرقانون کو استعفے کیلئے ڈیڈ لائن دینے ...
دھرنا اور رانا ثناءاللہ کے معاملات،وزیرقانون کو استعفے کیلئے ڈیڈ لائن دینے والے پیر حمید الدین سیالوی دراصل کون ہیں؟ وہ تمام باتیں جوآپ جاننا چاہتے ہیں

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک) فیض آباد اور لاہور میں مذہبی جماعتوں کے دھرنوں کے دوران ہی سرگودھا سے تعلق رکھنے والی ایک روحانی شخصیت پیر حمید الدین سیالوی نے دعویٰ کیا تھاکہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے 14 ارکانِ پارلیمان نے اپنے استعفے ان کے پاس جمع کروا دیے ہیں۔پیر سیالوی نے مطالبہ کیا کہ صوبہ پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ نہ صرف مستعفی ہوں بلکہ وہ ٹی وی پر آ کر یہ وضاحت بھی کریں کہ وہ احمدیوں کو مسلمان تسلیم نہیں کرتے، جس کے بعد وہ بحیثیتِ مسلمان اپنے ایمان کی تجدید بھی کریں لیکن پیر حمید الدین سیالوی کا اثر و رسوخ کیااس قدر زیادہ ہے کہ سیاستدان انھیں اپنے استعفے پیش کر دیں اور اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دے دیں؟۔

بی بی سی کے مطابق پیر حمید الدین سیالوی سرگودھا کے ایک نواحی گاؤں سیال شریف کے چشتی صوفی سلسلے سے تعلق رکھنے والے مذہبی سکالر اور صوفی خواجہ قمر الدین سیالوی کے صاحبزادے ہیں، وہ 1988 سے لے کر 1993 ءتک سینیٹ کے ممبر رہ چکے ہیں جبکہ خواجہ قمر الدین سیالوی برصغیر اور پھر تقسیم کے بعد پاکستان میں تحریکِ ختمِ نبوت ﷺ کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں، انھوں نے جمیعت المشائخ نامی ایک سیاسی جماعت کی بنیاد بھی رکھی جو ہمیشہ اپنے دور کے حکومتوں کی حامی رہی ہے۔

ڈیلی پاکستان کا یوٹیوب چینل سبسکرائب کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سابق رکن قومی اسمبلی شیخ وقاص اکرم نے بتایا کہ خواجہ قمرالدین سیالوی 1950 ءاور 1960 ءکی دہائیوں میں پاکستان میں چلائی جانے والی ختمِ نبوت تحریک کی قیادت کرتے رہے ہیں،ان کا اور ان کے خاندان کا اثر و رسوخ سرگودھا، چنیوٹ، میانوالی، خوشاب اور ملحقہ اضلاع میں پھیلا ہوا ہے اور ان کے عقیدت مندوں میں ان اضلاع کے بڑے سیاسی خاندان بھی شامل ہیں، اس طرح وہ علاقے کی سیاست پر اثر انداز تو یقینا ہوتے ہیں۔قومی اسمبلی کے ایک اور سابق رکن اور سلطان باہو خاندان سے تعلق رکھنے والے صاحبزادہ محبوب سلطان پیر صاحب کے ان علاقوں میں اثر و رسوخ کے حوالے سے شیخ وقاص اکرم کی تائید کرتے ہیں۔پیر صاحب کے دعوے کے مطابق علاقے کے کئی ارکان اسمبلی نے ان کے پاس اپنے استعفے جمع کروا رکھے ہیں،اگر 14 نہیں تو کم از کم آٹھ سے 9  ارکان ایسے ہیں جو ان کے پاس استعفے جمع کروا چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں ۔۔۔ آج رات چاند زمین کے اتنا قریب آجائے گا کہ دیکھنے والے اسے تکتے ہی رہ جائیں گے

محبوب سلطان کے بقول پیر حمید الدین سیالوی کی جگہ اگر کوئی اور شخصیت بھی ہوتی تو ان کو استعفے دے دیے جاتے، مقصد تو اس معاملے پر اپنی پوزیشن واضح کرنا ہے۔جھنگ سے تعلق رکھنے والے ایک اور سابق ممبر قومی اسمبلی جن کا تعلق حکومتی جماعت سے ہے اور وہ اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے نے ’’ بی بی سی‘‘  کو بتایا کہ وہ اور چند دوسرے ارکان اسمبلی ختمِ نبوت ﷺ کے معاملے پر حکومتی اقدامات کے حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کر چکے تھے،پیر حمید الدین سیالوی علاقے کی بزرگ شخصیت ہیں اس لیے جب انھوں نے اس معاملے پر موقف اپنایا تو ہم سب نے ان کی حمایت کی اور سب نے اپنے استعفے ان کو پیش کر دیے۔

یہ بھی پڑھیں ۔ ۔ ۔ اسرائیل کا ایرانی فوجی اڈے پر حملہ، سب سے خوفناک خبرآگئی

رپورٹ کے مطابق پیر حمید الدین سیالوی کے خاندان کا سیاسی اثر و رسوخ سرگودھا اور اس کے نواحی علاقوں میں کافی زیادہ ہے اور وہ مستقبل میں سرگودھا کے سیاستدانوں کے لیے ایک نیا مرکز بھی بن سکتے ہیں۔

مزید : قومی